معیشت ٹیک آف کو تیار ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ، عمران خان

  • اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیشن جلد قائم ہوگا، 24 ہزار ارب کے قرضوں کے حساب کیساتھ اقامہ رکھنے والوں کا بھی احتساب کرے گا،گرفتار ہونے والے این آر او کی تلاش میں ہیں جو کسی صورت نہیں ملے گا
  • احساس پروگرام کا بجٹ 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب ،ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سود ادا کر رہے ہیں ،عوام کو غربت کی لکیر سے اوپر لانا ترجیحات میں شامل ہے ،پارٹی رہنماﺅں کو اپوزیشن کی تنقید کا جواب بھرپور تیاری اور دلائل سے دینے کی ہدایت

اسلام آباد:۔ وزیر اعظم عمرا ن خان ہیلتھ ٹاسک فورس اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن جلد قائم کیا جائے گا جس کا مقصد 24 ہزار ارب کے قرضوں کا حساب ہے اور یہ کمیشن اقامہ رکھنے والوں کا حساب بھی کرے گا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں پارٹی رہنماو¿ں و ترجمان کا اجلاس ہوا، جس میں جہانگیر ترین، حفیظ شیخ، عمر ایوب، مراد سعید، شبر زیدی، سینیٹر فیصل جاوید، فردوس عاشق اعوان اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں سیاسی صورتحال پر غور اور قومی اسمبلی میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نےبجٹ اور حکومتی اہداف سے متعلق آگاہ کیا، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ٹیکس اصلاحات اور اہداف سے متعلق اقدامات پر اور جہانگیر ترین نے زراعت پالیسی سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ صورتحال میں پارٹی بیانیے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی کمیشن سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ تحقیقاتی کمیشن جلد قائم کیا جائے گا، کمیشن کا مقصد 24 ہزار ارب کے قرضوں کا حساب ہے اور یہ کمیشن اقامہ رکھنے والوں کا حساب بھی کرے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سود دے رہے ہیں ملک کے 4 ہزار ریونیو میں سے 2 ہزار قرض میں جاتا ہے، کٹھن راستہ تھا جو طے کیا اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اب وقت ہے معیشت ٹیک آف کرے گی ، 30 فیصد کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں کمی آئی ہے عوام کو غربت کی لکیر سے اوپر لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اس لئے احساس پروگرام کا بجٹ 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب تک لے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بجٹ کے بعد کی صورتحال اور اپوزیشن رہنماو¿ں کی گرفتاریوں پر اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ گرفتار ہونے والے این آر او کی تلاش میں ہیں، تمام ترجمان اور پارٹی رہنما پارلیمنٹ کے اندر و باہر اور میڈیا پر جارحانہ حکمت عملی اختیار کریں اور کہ اپوزیشن کے ہر حملے کا ہر طریقے سے جواب دیں۔

Scroll To Top