خواجہ آصف کی کرپشن تحققیاتی کمیشن کے روبرو بے نقاب کروں گا، عثمان ڈار

  • دس سال سالوں میں جو 20 ہزار ارب قرضہ لیا گیا وہ کہاں گیا؟ قرضہ 6 ہزارسے 30 ہزار ارب تک کیسے پہنچا، تحقیقات کمیشن کریگا
  • خواجہ آصف بطور وزیر دفاع اور وزیر خارجہ غےر ملکی کمپنیوں میں ملازمت کرتے رہے ہیں ،معاون خصوصی کی پریس کانفرنس

لاہور:۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار خواتین اراکین اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے لیگی رہنما اور سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کے غیر ملکی اکاﺅنٹس پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ ٹھوس ثبوت میرے پاس موجود ہیں ،وزیراعظم تحقیقاتی کمیشن کےسامنے پیش کریں گے،دس سال سالوں میں جو 20 ہزار ارب قرضہ لیا گیا وہ کہاں گیا؟ قرضہ 6 ہزارسے 30 ہزار ارب تک کیسے پہنچا، تحقیقات کمیشن کریگا ،خواجہ آصف بطور وزیر دفاع اور وزیر خارجہ غےر ملکی کمپنیوں میں ملازمت کرتے رہے ہیں ،وزیر اعظم عمران خان کسی بھی شخص کی پشت پناہی نہیں کریں گے اور ہر ایک کو اپنے خلاف الزامات کا جواب دینا ہوگا۔ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عثمان ڈار(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر6
نے کہاکہ خواجہ آصف نے پراجیکٹ کی آڑ میں کرپشن کی، انہوں نے کِک بیک لی اورمنی لانڈرنگ کی۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جو تحقیقات کرے گا کہ دس سال سالوں میں جو 20 ہزار ارب قرضہ لیا گیا وہ کہاں گیا؟ قرضہ 6 ہزارسے 30 ہزار ارب تک کیسے پہنچا۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف جب بجلی کے وزیر تھے 480 ارب کا گردشی قرضہ ادا کیا لیکن جب یہ گئے تو 1300 ارب کا گردشی قرضہ چھوڑ گئے۔انہوں نے کہا کہ 480 ارب روپے کی ادائیگیوں میں خواجہ آصف نے کک بیکس لیں ، میںنے ان کے فارن اکاﺅنٹس پکڑے ہیں جن میں کروڑوں روپے جمع کرائے گئے جو بعد ازاں امریکا بھیجے گئے جن کی تحقیقات کی ضرورت ہے ،اسی طرح ان کے دور میں نندی پور پاور پراجیکٹ کا ریکارڈ جلایا گیا اور مسلم لیگ (ن) ریکارڈ جلانے میں ماہر ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں کمیشن سے مطالبہ کروں گا کہ وہ 480 ارب روپے کی ادائیگی اور ریکارڈ جلانے کی تحقیقات کرے ۔ عثمان ڈار نے کہا کہ خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے 18 تا 20 ارب روپے منظور کرائے لیکن سیالکوٹ کی کوئی ایک سڑک ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی ان فنڈز سے وہاں پر کوئی ہسپتال ، کالج یا یونیورسٹی بنی ہے ، یہ 18، 20 ارب روپے کہاں گئے تحقیق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف بطور وزیر دفاع اور وزیر خارجہ غےر ملکی کمپنیوں میں ملازمت کرتے رہے اور ان کے فارن اکاﺅنٹس میں ماہانہ 20 لاکھ روپے جمع ہوتے رہے ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر خواجہ آصف کیا خدمات سرانجام دیتے تھے جس کیلئے اتنی بڑی بڑی ادائیگیاں کی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق وزراءاقامہ کی آڑ میں منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے 60 سال میں 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ صرف دس سال کے دوران 30 ہزار ارب روپے تک بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور عمران خان کے نئے پاکستان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ، عثمان ڈار نے کہا کہ مشرف کے پاکستان اور نئے پاکستان میں واضح فرق یہ ہے کہ اس دور میں آپکو این آراو ملتے تھے جو آج نہیں مل رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرآج مشرف کی حکومت ہوتی اور نواز شریف جیل کی بجائے جدہ یا لندن میں ہوتے ۔ عمران خان ڈیل تو دور کی بات ہے ڈھیل بھی نہیں دے رہے ، ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا صرف کرپشن کا خاتمہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایوان کو چلنے ہی نہیں دے رہی اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وزیر اعظم وہاں خطاب نہ کرسکیں۔ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہل کیا جبکہ سپریم کورٹ نے ان کو بحال کیا لیکن ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کے انہوں نے کروڑوں ڈالر امریکا کیسے ٹرانسفر کئے ، اس طرح سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی اقامہ کی آڑ میں کرپشن کی اور نارووال میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ، یہی وجہ ہے کہ کرپشن نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کمزور دیا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے خلاف میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں 62 ون ایف کے تحت کیس کیا لیکن کمیشن میں جو ثبوت فراہم کروں گا وہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے ۔ پرویز مشرف کی کابینہ میں شامل وزراءکی عمران خان کی کابینہ میں موجودگی پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کسی بھی شخص کی پشت پناہی نہیں کریں گے اور ہر ایک کو اپنے خلاف الزامات کا جواب دینا ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران نے واضح ہدایت کی ہے کفایت شعاری کی مہم سے سختی سے عمل کیا جائے گا ، یہی وجہ ہے پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات میں 50 ارب روپے کی کمی کی ہے ۔نیب ، ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں کمیشن کے قیام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک تحقیقاتی کمیشن ہوگا جس میں مختلف اداروں کے لوگ شامل ہوں گے جو 24 ہزار ارب روپے کے قرضوں کی تحقیقات کرے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں کرپشن کو بے نقاب کیا جاسکے ۔ عثمان ڈار نے کہا کہ گزشتہ 10سال کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کے دس ماہ کا بھی آڈٹ ہونا چاہئے تاکہ عوام کو پتا چلے کے عمران خان نے اپنے ذاتی گھر کی باڑ اور سڑک کی تعمیر اپنی جیب سے کروائی ہے جبکہ ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے رائےونڈ میں 70 کروڑ کی دیوار سرکاری فنڈز سے تعمیر کروائی اور 28کروڑ روپے کا علاج سرکاری خرچے پر کرایا اس لیے عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس وزیر اعظم نے قوم کا پیسہ بچایا اور کس نے موج کی ۔وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کامیاب نوجوان پروگرام کے پہلے مرحلے میں دس لاکھ نوجوان مستفید ہونگے ،اس حوالے سے جامع تفصیلات پر مبنی پریس کانفرنس آئندہ چند دنوں میں کی جائے گی۔

Scroll To Top