شنگھائی تعاون تنظیم کو باہمی تنازعات کے حل کیلئے کردارادا کرنا ہوگا، عمران خان

  • پاکستان سرمایہ کاروں کےلئے پر کشش ملک ہے ، متحرک افرادی قوت موجود ہے جس سے دنیا کو فائدہ اٹھانا چاہیے،کرپشن کے خاتمے کے لیے فریم ورک لازمی ،غربت کے خاتمے کےلئے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا
  • تنظیم کو ترقی اور استحکام کے بڑھاوے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا، رکن ممالک کے مابین مقامی کرنسی میں تجارت کو فروغ دینا ہوگا، ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت اور اکیڈمک رابطوں کو بڑھانا ہو گا،وزیر اعظم کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب

بشکک (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کےلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو اقدامات کرنے چاہئیں، ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کےلئے ایس سی او کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے ، خطے میں امان و امان کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کو کردار ادا کرنا ہوگا، دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے دنیا ہمارے تجربات سے استفادہ کر سکتی ہے،کرپشن کے خاتمے کے لیے فریم ورک بنانا ہوگا غربت کے خاتمے کے لیے چین کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہیے، پاکستان سرمایہ کاروں کےلئے پر کشش ملک ہے ،پاکستان میں متحرک افرادی قوت موجود ہے ،دنیا کو پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ جمعہ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرغزستان کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں ،یقین ہے کہ تنظیم کے مستقبل کا سفر جاری رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی عوام متحرک اور محنتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور چین مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کےلئے اہم راہداری ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات پر مشتمل ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کےلئے ایک پر کشش ملک ہے ،پاکستان میں متحرک افرادی قوت موجود ہے دنیا کو پاکستان کی افرادی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 200 ملین سے زائد آبادی کا ملک ہے جہاں پر سرمایہ کاری کے پرکشش اور وسیع مواقع موجود ہیں، افرادی قوت اور وسائل کی فراوانی ہے، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقی دنیا اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھانا چاہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) چینی صدر شی جن پنگ کے وژن کا عکاس ہے اور یہ ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کے تحت گوادر کی بندرگاہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دی جا رہی ہے جو مستقبل میں عالمی تجارت کا ایک اہم ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان اور چین نے اپنے آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لے کر تجارت کو وسعت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پوری دنیا چینی صدر کے ایک سڑک ایک خطے (بی آر آئی) کے وژن کے مطابق ایک سڑک کے ارد گرد موجود ہے، ایشیاءعالمی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے جس سے علاقائی و عالمی تعاون بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور منشیات سے دنیا کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کےلئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں اور پاکستان نے اس حوالے سے نہ صرف معاشی نقصان برداشت کیا ہے بلکہ قیمتی انسانی جانوں کی بھی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کے منفی تاثر کو ختم کرنا ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی بشمول ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس کے خاتمے کےلئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے دنیا ہمارے تجربات سے استفادہ کر سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و امان کا خواہشمند ہے جو افغان قیادت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و امان کے حوالے سے چین اور روس بھی کام کر رہے ہیں اور ان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن خطے ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیاءسے غربت کے خاتمہ کے لئے امن و امان کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں جنوبی ایشیاءمیں ترقی اور خوشحالی کے لئے باہمی اختلافات کو ختم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حل طلب مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے ایس سی او کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے اپنا سفارتی کردار ادا کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پلان آف ایکشن علاقائی اور عالمی امن کے لئے ضروری ہے، ہمیں انصاف کی بنیاد پر معاشرے میں امن قائم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تناظر میں عالمی سیاست میں شنگھائی تعاون تنظیم کا کردار بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم باہمی تعاون کے ذریعے اختلافات کا خاتمہ اور عالمی سطح پر پر امن ہمسائیگی کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ خطے اور عالمی ترقی کے حوالے سے اس موقع پر اپنا ایجنڈا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایس سی او کے پلیٹ فارم سے ترقی اور استحکام کو بڑھانے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک کے مابین مقامی کرنسی میں تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کے پلیٹ فارم سے دنیا کے مختلف خطوں کے باہمی رابطوں میں اضافہ کی ضرورت ہے جس کے لئے بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت اور اکیڈمک رابطوں کو بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے ایس سی او کے پلیٹ فارم سے سیاحت اور ثقافت کی راہداری کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی سے عوام کا غذائی تحفظ یقینی بنانا ہو گا جس کے لئے ہمیں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور وائٹ کالر کرائم کے خاتمہ کے لئے جامع پالیسی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قومی دولت لوٹ کر آف شور اکاﺅنٹس میں رکھے گئے اربوں ڈالر عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا سکیں۔ انہوں نے نوجوان طبقہ اور خواتین کی استعداد کار سے بھرپور استفادہ کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں روزگار کی فراہمی کے مواقع بڑھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دنیا کے مختلف خطوں کے مابین فاصلوں کو کم کرنے کے لئے غربت کے خاتمہ پر خصوصی توجہ دینی ہو گی اور اس حوالے سے ہمیں چین کے تجربات سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی رابطوں کا فروغ غربت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Scroll To Top