میگا منی لانڈرنگ کیس:فریال تالپور بھی گرفتار، گھر سب جیل قرار، آج عدالت میں پیش کیا جائیگا

  • تاحکم ثانی گھر میں قید رہیں گی، ان کی عزت نفس کا پہلے بھی احترام ملحوظ خاطر رکھا گیا اور آئندہ بھی رکھا جائے گا،نیب اعلامیہ،سب جیل میں لیڈیز پولیس سمیت نیب کی خواتین اہلکار تعینات، زرداری ہاوس کی طرف آنے جانے والے راستے سیل
  • یاد رہے کہ اس سے قبل فریال تالپور نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں عبوری ضمانت میں 5 مرتبہ توسیع حاصل کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے فریال تالپور اور آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد آصف زرداری کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا جا چکا ہے

اسلام آباد (این این آئی)نیب نے سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپورکو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ روز جعلی اکاو¿نٹس کیس میں فریال تالپور کی گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط کیے تھے جس کے بعد ان کی گرفتاری کے وارنٹ گزشتہ رات جاری کیے گئے۔نیب نے رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو اسلام آباد میں زرداری ہاو¿س کے قریب ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا اور انہیں (آج) ہفتہ کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔نیب فریال تالپور کو اپنے دفتر منتقل نہیں کرےگی اور انہیں اسلام آباد میں ہی واقع ان کی رہائش گاہ میں رکھا جائے گا جس کے لیے نیب نے ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا اور اس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ فریال تالپور تاحکم ثانی اپنے گھر میں قید رہیں گی، ان کی عزت نفس کا پہلے بھی احترام رکھا گیا اور آئندہ بھی مکمل خیال رکھا جائے گا۔بیان کے مطابق میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں قیاس آرائیوںسے گریز کرے ۔ذرائع کے مطابق سب جیل میں خواتین پولیس سمیت نیب کی خواتین اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا اور زرداری ہاوس کی طرف آنے جانے والے راستے سیل کر دیئے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی فورس کے کمانڈوز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی،جیالوں کو زرداری ہاوس کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔یاد رہے کہ فریال تالپور نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں عبوری ضمانت میں 5 مرتبہ توسیع حاصل کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں فریال تالپور اور آصف زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد سابق صدر آصف زرداری کو زرداری ہاو¿س اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ا±س وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔ایف آئی اے نے ایک اکاو¿نٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاو¿نٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو اعلیٰ عدالت نے اس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) تشکیل دی جس نے گزشتہ برس 24 دسمبر کو عدالت عظمیٰ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں 172 افراد کے نام سامنے آئے۔جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی،اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی گئی جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2019 کو اپنے فیصلے میں نیب کو حکم دیا کہ وہ جعلی اکاو¿نٹس کی از سر نو تفتیش کرے اور 2 ماہ میں مکمل رپورٹ پیش کرے جب کہ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ بھی نیب کو بجھجوانے کا حکم دیا۔

Scroll To Top