حکومت مخالف جماعتیں خود تقسیم : حکومتی اتحادی ایک جھنڈے تلے متحد

  • ن لیگ اور پی پی پی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کی حامی، مولانا فضل الرحمان حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراو¿ تحریک کے حامی ، آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر بھی فریقین بدترین اختلافات کا شکار
  • حزب اختلاف نے عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا تھا لیکن آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری سے صورتحال یکسر بدل چکی، وزیر اعظم کے اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیشن کے قیام کے اعلان نے تابوت میں آخری کیل کا کام کر دیا

اسلام آباد(الاخبار نیوز) حکومت مخالف تحریک کے بیانیہ پر حزب اختلاف کی جماعتیں تقسیم ہو گئیں۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی مہنگائی اور معیشت کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا چاہتی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت گراو¿ تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے مو¿قف اختیار کیا ہوا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا ہونا چاہیے کیونکہ عوامی مسائل کی بنیاد پر حکومتیں نہیں گرتیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماو¿ں کی حالیہ گرفتاریوں کے بعد حزب اختلاف فوراً کل جماعتی اجلاس (اے پی سی) بلانا چاہتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں کہ واضح بیانیہ کے ساتھ اے پی سی بلائی جائے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومت مخالف تحریک کے لیے افرادی قوت کی ذمہ داری لینے کو بھی تیار ہیں۔ زرداری کی گرفتاری اپوزیشن کے احتجاج رمضان المبارک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا جس میں رمضان المبارک کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے اور اے پی سی بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔جس میں تمام ہی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے شرکت کی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی سربراہی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ نون کی سربراہی مریم نواز نے کی تھی تاہم اجلاس میں آصف علی زرداری بھی شریک تھے۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھی بھرپور طریقے سے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری نے حکومت مخالف جماعتوں کو احتجاج کے لیے ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ یہ تمام صورتحال اپوزیشن کے لئے انتہائی مایوس کن ہے اور اندریں حالات وہ حکومت کے خلاف کسی بھی بڑے اقدام بارے فیصلہ کرنے سے یکسر قاصر ہے مزید براں وزیر اعظم عمران خان کا گزشتہ روز کا قوم سے خطاب اور اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا اعلان بھی اپوزیشن کی رہی سہی امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

Scroll To Top