کوڑے کرکٹ کی جگہ کوڑا دان نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ 27-03-2015

لاہور پولیس نے وطنِ عزیز کے کسانوں کے خلاف کیا مقدمہ درج کیا ؟ انہوں نے ” کارِ سرکار “ میں خلل ڈالا۔
مجھے ” کارِ سرکار “ کی اصطلاح پر ” سرکارِ برطانیہ “ یاد آجاتی ہے۔ اس زمانے میں بھی ایسے ہی مقدمات درج ہوا کرتے تھے۔ سرکارِ برطانیہ کا تو آفتاب اقبال کبھی کا غروب ہوچکا مگر ” سرکارِ برطانیہ “ کے جانشینوں نے اپنے آقاﺅں کی تمام روایات برقرار رکھی ہیں۔ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ اگر چہ خود کو خادمِ اعلیٰ کہلانے کے شوقین ہیں لیکن جب بات ” خدمت“ کرنے کی آتی ہے تو خادمِ اعلیٰ کی پولیس ” خدمت “ کا جو انداز اختیار کرتی ہے۔اس کا بڑا ” ایمان افروز“ مظاہرہ 25مارچ کو کسانوں کو اٹھا اٹھا کر گاڑیوں میں پھینکتے وقت کیا گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کُوڑا کرکٹ اٹھا کر کُوڑے دانوں میں پھینکا جارہاہو۔
ویسے تاجروں اور سرمایہ داروں کی حکومت میںکسان کُوڑے کرکٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ حکمران انہیں کُوڑا کرکٹ سمجھنے میں ایک لحاظ سے حق بجانب بھی ہیں۔ اگر اُن کے مطالبات پورے کر دیئے جائیں تو جو تجارت بھارتی زراعت کو فروغ دینے اور ” تاجرانِ لاہور “ کے خزانوں کو بھرنے کے لئے ہورہی ہے اس کا کیا ہوگا؟
ابن خلدون نے درست کہا تھا کہ و ہ قوم بڑی بدقسمت ہوتی ہے جس کی حکمرانی ایسے تاجروں کے ہاتھوں میں چلی جائے جو اپنے ” فائدے“ سے ہٹ کر کوئی بھی بات سوچنے کے لئے تیار نہ ہوں۔

Scroll To Top