خدا اِس ملک سے روٹھا نہیںلیکن۔۔۔۔۔ 19-03-2015

خبر مستند ہے یا نہیں مگر شائع ہوئی ہے۔اور خبر یہ ہے کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ایان علی نامی ماڈل کے جلوہ افروز ہوتے ہی وہاں کی رونقیں بحال ہوگئی ہیں۔ خبر مشہور نیوز ایجنسی آن لائن کی ہے اس لئے اس پر شک کرنے کی گنجائش زیادہ نہیں۔ خبر کے مطابق جیل کی رونقیں بحال کرنے کا سہرا صرف سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے بھائی کے سر پر نہیں` اس انوکھے کارنامے میں شہر کی بیورو کریسی بھی شریک ہے۔ اگر یہ بات درست ہے اور اس بات کے نادرست ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ جیل کے آرام دہ اور پرتعیش ماحول میں رات گزارنے کے لئے رحمان ملک کے بھائی خالد ملک بڑی آن بان اور شان کے ساتھ پہنچے۔ تو یہ پورے ملک کے لئے لمحہ ءفکریہ ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ جیل کے ایک خاص بیڈ روم میں ڈانس پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اور یہ بھی کہ اس ڈانس پارٹی میں اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔ یقینا ان میں ایسے افسران بھی ہوں گے جن کا کام قانون کا احترام کرانا اور اس کا تحفظ کرنا ہے۔ عرف عام میں ایسے ” محافظانِ قانون و اخلاقیات“ کو پولیس افسر کہا جاتا ہے۔
خبر میں تو نام بھی چھپے ہیں۔ مگر کسی فرد کی طرف انگلی اٹھانا میرا مقصد نہیں ۔ میرا مقصد صرف اس حقیقت کو ننگا کرکے آپ کے سامنے پیش کرنا ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کی کس لرزا دینے والی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ یہ خبر میاں نوازشریف یا چوہدری نثار علی خان کی نظروں سے گزری ہے یا نہیں لیکن اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو آج خبریں میرے خوفناک ردعمل کی چھپ رہی ہوتیں ۔
ایسی خبروں کو خاموشی سے برداشت کرنا اس ملک کی نظریاتی اساس اور اس کے آئین کی روح سے غداری ہے۔
میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ خدا اس ملک سے روٹھ گیا ہے۔ خدا کا طیش اس ملک کے مجرموں کو ضرور بھگتنا پڑے گا!

Scroll To Top