(یہ کالم چار برس قبل لکھا گیا تھا۔۔۔۔ ) کسی نہ کسی پرستار محمد ﷺ کو شمشیرِ عدل بے نیام کرنی پڑے گی !

جمہوریت لفظ کا مطلب سامنے رکھاجائے تو یہ بڑی ہی حسین اصطلاح ہے۔ جمہور کی حکمرانی ۔ علامہ اقبال ؒ نے اپنے ایک شعر میں اس دلکش اصطلاح کا مفہوم سمو دیا تھا۔

سلطانی ءجمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تجھ کو نظر آئے مٹا دو !
لیکن ہمارے ملک میں سلطانی ءجمہور کیسے انوکھے انداز میں جلوہ افروز ہوئی ہے !
جن نقوشِ کہن کو مٹایا جانا مقصود تھا انہیں ” جمہور “ نے حکمرانی کے منصب پر بٹھا دیا ہے !
مجھے اِن عوامی نمائندوں اور سرداران مکہ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ میں کسی کا نام اس لئے نہیں لوں گا کہ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔ میں یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میری نظروں میں ابوجہل کون ہے ` عقبہ کون ہے ` امیہ کون ہے ` ولید کون ہے اور ابی سفیان کون ہے ۔ سب ایک ہی سوچ کی پیداوار تھے۔ اور وہ سوچ یہ تھی کہ کچھ خاندان حکومت کرنے اور جمہور کی تقدیر کے فیصلے کرنے کے لئے دنیا میں آئے ہیں اور لوگوں کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ ان خاندانوں کی منشا کے سامنے تاحیات سرجھکا تے رہیں اور ان کی پسند کے خداﺅں کو پوجتے رہیں۔
ویسے ہی خاندان آج بھی ایوان ہائے حکومت میں جلوہ افروز ہیں۔
اور مجھے یوں لگتا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے کسی نہ کسی پرستارِ محمد کو شمشیرِ عدل بے نیام کرنی پڑے گی۔۔۔۔

Scroll To Top