نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا، وزیر اعظم ملک کی معاشی تباہی کیسے ہوئی؟ اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیشن کے قیام کا اعلان

  • کمیشن میں آئی بی ، ایف آئی اے ، ایف بی آر ، ایس ای سی پی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہونگے،نگرانی خود کروں نگا
  • یہ ہے نیا پاکستان کہ آج بڑے بڑے برج جو جیل میں ہیں،ملک کو لوٹنے والے جتنا مرضی شور مچائیں کوئی این آرو او نہیں ملے گا انکا تعاقب کرو نگا، عمران خان


اسلام آباد(الاخبار نیوز) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا وفاقی بجٹ پیش کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کیا۔قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پہلا بجٹ پیش کیا، یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریے کی عکاسی کرےگا اور نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست جدید ریاست تھی، مدینے کی ریاست کے اصول مغربی ممالک میں ہیں، مدینے کی ریاست کے اصول برابری کی بنیاد پر بنے تھے، مدینہ کی ریاست کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی۔پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنے بڑے برج جیل میں ہوں(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر 6
ان کا کہنا ہے کہ جب سے اقتدار ملا ہے تو پہلے دن سے مخالفین کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ بڑے بڑے برج جو آج جیل کے اندر ہیں، یہ تبدیلی ہے، پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنے بڑے برج جیل میں ہوں گے، یہ ہے قانون کی بالادستی جو آہستہ آہستہ نظر آرہی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب میرے نیچے نہیں، آج کی عدلیہ آزاد ہے، نیب کا چیئرمین ہمارا لگایا ہوا نہیں بلکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے اپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریر نہیں کرنے دی، اپوزیشن پر کیسز میں نے نہیں بنائے، آصف زرداری کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کا کیس (ن) لیگ نے بنایا، شہبازشریف کے خلاف بھی کیس ہم نے نہیں بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز پی ٹی آئی نے نہیں بنائے پھر شور کیوں مچاتے ہیں؟ اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے، دو این آر اوز کی قیمت ملک نے ادا کی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، میثاق جمہوریت سے دونوں جماعتوں نے طے کیا تھا ایک دوسرے کومدت پوری کرنے دیں گے اور دونوں نے کھل کر کرپشن کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج شور مچ رہا ہے کہ زرداری جیل میں ہے، ن لیگ اور ،پیپلزپارٹی اکٹھی ہوگئی، ن لیگ نے اپنے دور میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا، ان دونوں کی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ 2008 کے بعد ملک پر جو قرضہ چڑھا، اس کی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے، دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسا ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایا، ن لیگ نے 10 سال میں چار کمپنیوں سے تیس کمپنیاں بنائیں، زرداری کی ایک سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئی، ایک خاتون پانچ لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے 8 سال کے دور میں 2 ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ بڑھا لیکن دس سالوں میں ملکی قرضہ چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہوگیا۔قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی سربراہی میں 10 سال کی کرپشن کا پتہ لگانے کیلئے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن کے ذریعے دس سال میں لیے گئے قرضے کی تحقیقات کی جائے گی جس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ا?ف پاکستان (ایس ای سی پی) اور انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے ذریعے پتا لگائیں گے، یہ 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا، قوم کو پتا ہونا چاہیے کہ انہوں کے ملک کےساتھ کیا کیا۔

Scroll To Top