حمزہ شہباز لاہور ،بانی ایم کیو ایم الطاف حسین لندن میں گرفتار

  • شہبازشریف فیملی کے اثاثوں میں اضافہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا، حمزہ شہباز کے 42کروڑ روپے کے اثاثوںمیں 18 کروڑ باہر سے آئے، رقوم بھیجنے والوں سے لاتعلقی ظاہرکرتے ہیں، نیب
  • الطا ف گرفتاری:میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق 60 سالہ شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ، تعلق پاکستان سے ہے

لاہور(الاخبار نیوز) نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا، حمزہ شہباز کے وکلا نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں تھیں اور کہا تھا عدالت ہمیں سنناہی نہیں چاہتی توکیاکریں۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کے بعد نیب کی ٹیم نے احاطہ عدالت سےحمزہ شہباز کو گرفتارکرلیا، حمزہ شہباز کو نیب ہیڈکوارٹر منتقل کیا جائے گا اور ریمانڈ کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔نیب کی جانب سےحمزہ شہبازکےلیے دوسری گاڑی منگوائی گئی جبکہ ہائی کورٹ کے احاطےمیں ن لیگی کارکنان موجو ہے اور نعرے بازی جاری ہے۔یاد رہے لاہورہائی کورٹ میں جسٹس مظاہرعلی اکبر کی سربراہی میں دورکنی نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی ضمانت میں توسیع کیلئے دائردرخواست پر سماعت کی تھی۔سماعت میں نیب کا کہنا تھا شہبازشریف فیملی کے1999 میں اثاثوں کی مالیت50 ملین تھی، اثاثوں میں380ملین کااضافہ ہوا، جوآمدن سےمطابقت نہیں رکھتا، شہباز شریف، سیلمان، حمزہ اور نصرت شہباز منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔نیب نے بتایا حمزہ شہباز نے 42کروڑ کے اثاثے ظاہر کیے ، جس میں 18 کروڑ باہر سے آئے، جن لوگوں کے نام سے پیسے آئے وہ ان سے لاتعلقی ظاہرکرتےہیں، حمزہ شہبازنےآج تک نہیں بتایا باہر سے کس مدمیں رقوم آتی ہیں، جعلی ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے رقوم بیرون ممالک سے منگوائی گئیں۔وکیل حمزہ شہباز نے کہا تھا عدالت ہمیں سنناہی نہیں چاہتی توکیاکریں، جس کے بعد حمزہ شہبازکےوکلا نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں، درخواست واپس لینے پر عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔یاد رہے حمزہ شہباز نے صاف پانی کمپنی ،رمضان شوگرملز اور آمدن سے زائد اثاثے انکوائری میں 11 جون تک عبوری ضمانت لی رکھی تھی۔خیال رہے منی لانڈرنگ اورا?مدن سےزائد اثاثوں پر شریف فیملی کےخلاف مختلف زاویوں سےتحقیقات جاری ہے ، الزامات کے مطابق شریف فیملی کے انیس سو ننانوے میں اثاثہ جات پانچ کروڑچھتیس لاکھ تھے،اب ان کی دولت سواتین ارب کیسےہوگئی؟واضح رہے کہ 6 اپریل کو ا?مدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے دو بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم نیب انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔ ادھر اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں لندن میں گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیو ایم کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔میٹرو پولیٹن پولیس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ60 سالہ شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا اور تعلق پاکستان سے ہے ۔بیان کے مطابق انہیں پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا، جہاں ان سے پولیس حراست میں تفتیش جاری ہے۔بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات کے سلسلے میں افسران نے شمال مغربی لندن کے پتہ پر تلاشی لی اور تفتیش کاروں نے شمال مغربی لندن میں ایک علیحدہ کمرشل پتہ کی بھی تلاشی لی۔میٹرو پولیٹن پولیس کے بیان کے مطابق میٹرو پولیٹن پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ سے تعلق رکھنے والے افسران نے تفتیش کی توجہ ایم کیو ایم سے منسلک شخص کی جانب سے اگست 2016 میں پاکستان میں کی گئی تقریر پر مرکوز کی جبکہ ساتھ ہی اسی شخص کی دیگر تقاریر کو بھی دیکھا جائیگا،اس پوری تحقیقات کے دوران لندن پولیس کے افسران پاکستانی حکام سے رابطے میں رہے اور تحقیقات جاری رکھیں ۔یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو لندن سے بذریعہ ٹیلیفونک خطاب کے دوران ریاست مخالف تقریر کی تھی جس کی تحقیقات کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بھی پاکستان آئی تھی۔بانی ایم کیو ایم کی تقریر کے خلاف مختلف مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں جس میں فاروق ستار سمیت دیگر کئی رہنما نامزد ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ الطاف حسین کو برطانوی اداروں نے گرفتار کیا ہے، انہیں خود تفتیش کرنے دیں۔اعجاز شاہ نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار ہوئے، ہمارا اس سے کیا تعلق، وہ برطانوی شہری ہیں، کس نے کہا پاکستانی ہیں۔انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ الطاف حسین سے متعلق مزید معلومات کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے رابطہ کریں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Scroll To Top