عیسائیت کے ساتھ اسلام کا رشتہ 17-03-2015

اسلام کو ئی نیا دین نہیں تھاجو آنحضرت نے رائج کیا۔ اسلام دین ِ آدمؑ ` دینِ نوحؑ اور دینِ ابراہیم ؑ کی تجدید تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس دین کو بنی نوعِ انسان کا مقدر بنانے کے لئے آنحضرت کو دنیا میں بھیجا تھا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے تو ہمارا مطلب یہ ہے کہ اس پیغام کو بنی نوع انسان تک پہنچانے والے رجلِ عظیم کے بعد اللہ کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں بھیجے گا۔
اسلام کا رشتہ دینِ ابراہیم ؑ سے بڑا گہرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیغمبر نے اہل کتاب کو اپنے قریب تر سمجھنے کی تعلیم دی اور تاکید کی ۔ مسیحیوں کو اپنے ساتھ ہمارا رشتہ اگر سمجھنا ہے تو اس کے لئے انہیں تاریخ پڑھنی ہوگی۔ جب کسریٰ کی افواج مشرق و سطیٰ میں عیسائیوں کو پے در پے شکستیں دے رہی تھیں تو مکہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کے اندر یاس کی سی کیفیت تھی۔ اسی موقع پر آنحضرت نے ایراینوں پر نصرانیوں کے جلد غلبہ پانے کی بشارت دی تھی۔ چند ہی برسوں میں ہر قل نے قیصرو کسریٰ کے درمیان جنگوں کے نتائج تبدیل کرکے رکھ دیئے تھے۔
اس کے بعد ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر عرصہ ءحیات تنگ کردیا تھا تو آپ نے معتوب مسلمانوں کو ہجرت کرکے حبشہ کے عیسائی حکمران نجاشی کی پناہ میں بھیجا تھا۔
اسلام تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اہل کتاب کو اسلامی معاشرے میں خصوصی مقام عطا کرتا ہے۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ قرآن کے علاوہ اللہ کی کوئی کتاب اپنی اصل صورت اور روح میں موجود نہیں۔
پھر بھی کیا یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ ہے یا ہونی چاہئے کہ ہم ا للہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان میں یہودیوں اور عیسائیوں کے تمام پیغمبر شامل ہیں۔
حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو نہ ماننے والا مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ تمام باتیں میں لاہور میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں لکھ رہا ہوں۔ ہمارے عیسائی بھائیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام محبت کا دین ہے اور نفرتوں کے کھیل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

Scroll To Top