(یہ کالم چار سال قبل شائع ہوا تھا۔۔۔ کل کا یہ سچ آج کا سچ بھی ہے) ایک نیک دل شخص جس کا نام عمران خان ہے

عمران خان کا دل جیتنا بہت زیادہ مشکل کام نہیں۔ وہ اکثر لوگوں کو ” فیس ویلیو “ پر قبول کرلیا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں میں اس عشق کا ذکر بطور خاص کروں گا جو انہیں 2007ءکے دوران اور بعد میں کافی عرصے تک سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ رہا۔ چونکہ یہ عشق صرف انہیں ہی نہیں تھا قوم کی بہت بڑی اکثریت کے دل و دماغ پر بھی تب تک سوار رہا جب تک اپنے فرزندِ ارجمند ارسلان چوہدری کی محبت میں سابق چیف جسٹس صاحب نے اپنے چہرے سے نقاب اتار نہیں پھینکا۔ یا جب تک عمران خان اور ہم سب لوگوں پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں ہوگئی کہ ” ہمارے محبوب “ منصفِ اعلیٰ کو اللہ تعالیٰ نے درحقیقت میاں محمد نوازشریف کو برسراقتدار لانے کے لئے اُس منصب پر بٹھایا تھا جس پر وہ بیٹھے تھے۔ 

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اچھا آدمی دوسرے شخص کا چہرہ خود اپنی شخصیت کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ عمران خان کو کسی بھی شخص میں کبھی کوئی برائی نظر نہیں آئی جب تک وہ شخص اپنا لبادہ اتار کر پھینک نہ دے۔ کوئی بھی شخص عمران خان کی نظروں میں بلند بھی ہوسکتا ہے گِر بھی سکتا ہے اور پھر بلند ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں میں ان کے دو صحافی دوستوں کی بطور خاص مثال دوں گا۔ ایک حسن نثار اور دوسرے ہارون رشید ۔ اس مثال کو میں یہاں سمجھانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ اور یہ باتیں میں جناب حامد خان کے حوالے سے لکھ رہا ہوں جنہیں حال ہی میں عمران خان نے اپنی جماعت کے الیکشن کمیشن کی سربراہی سے ہٹایا ہے۔
خان صاحب حامد خان کو ” مجاہدانہ اوصاف“ کا حامل سمجھتے رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حامد خان اچھے آدمی ہیں۔ لیکن سیاست میں خود کو ” عقلِ کل “ سمجھنے والا شخص اکثر اپنی جماعت پر ایک ایسا بوجھ بن جایا کرتا ہے جسے اتار پھینکنے کا کام ایک نہ ایک روز کرنا ہی پڑتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ 2011ءمیں میں نے خان صاحب کو دبے لفظوں میں یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ آپ حامد خان کو حامد خان ہی سمجھیں تو مناسب ہوگا۔ جواب میں پہلی مرتبہ خان صاحب نے مجھے ذرا سخت لہجے میں جواب دیا۔نیک نیت آدمی کا دوسروں کی نیت پر شبہ نہ کرنے کا فطری رویہ اکثر بڑا دکھ پہنچایا کرتا ہے۔ اس دکھ کا سامنا عمران خان اکبر بابر کے معاملے میں کرچکے ہیں۔
یہاں مجھے تقریباً دس برس قبل کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے جب میں تحریک انصاف کی ایک میٹنگ میں پہنچا تو وہاں مرحوم خلیل ملک کو دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ عمرا ن خان صاحب نے بڑے مسرور لہجے میں مجھ پر یہ انکشاف کیا کہ خلیل ملک اپنی خداداد صلاحیتیں آئندہ تحریک کی فلاح پر صرف کریں گے۔
میں کیا جواب دیتا۔؟ میں جانتا تھا کہ مشہور ” سیتا وائٹ سکینڈل“ کو فروغ دینے والی نون لیگی کمیٹی کے سربراہ خلیل ملک ہی تھے!
عمران خان کو میں اپنا لیڈر مان چکا ہوں۔ مگر بنیادی طور پر وہ میرے دوست ہیں۔ مجھے ان کے خلوص ` ان کی سچائی ` ان کی سادگی اور ان کی نیک نیتی سے محبت ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہیں خدا نے ذہانت بھی اور دلیری بھی بے پناہ دی ہے۔
مجھے ڈر صرف ان کے Achelles ‘ heelسے لگا رہتا ہے۔۔۔

Scroll To Top