اقتصادی سروے :معاشی استحکام کیلئے سخت پالیسیاں ناگزیر ہیں، حفیظ شیخ

  • رواں برس معاشی ترقی کا ہدف 6.2فیصد تھا جو 3.3 فیصد رہی، رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.8 فیصد تھا جو 0.85 فیصد رہا
  • ماضی کی حکومتوں نے ملک کوقرضوں کی دلدل میں دھنسایا ،موجودہ حکومت معاشی استحکام کے لیے مثبت اقدامات اٹھا رہی ہے، مشیر خزانہ

اسلام آباد(الاخبار نیوز)وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے اقتصادی سروے رپورٹ برائے مالی سال 19-2018 پیش کردی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے ملکی وسائل پر توجہ نہیں دی گئی، مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کوقرضوں کے دلدل میں پھنسایا اور موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی لیکن معاشی استحکام کے لیے مثبت اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کا ہدف 6.2فیصد تھا لیکن معاشی ترقی کی شرح 3.3 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی جب کہ زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.8 فیصد تھا۔بڑی فصلوں کی گروتھ 3 فیصد ہدف کے مقابلے میں منفی 6.55 فیصد رہی جب کہ دیگر فصلوں کی ترقی کی شرح 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 1.95 فیصد رہی۔کاٹن جننگ کے شعبے کی گروتھ 8.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں منفی 12.74 فیصد رہی، لائیو اسٹاک کے شعبے نے 4 فیصد کی شرح سے ترقی کی، اس شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.8 فیصد تھا۔ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کی شرح 0.79 فیصد رہی جب کہ ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کا ہدف 1.8 فیصد تھا، صنعتی شعبے کی ترقی 7.6فیصد ہدف کے مقابلے میں 1.40 فیصد رہی۔کان کنی کے شعبے کی گروتھ منفی 1.96 فیصد رہی، اس شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.6 فیصد تھا، چھوٹی صنعتوں کی گروتھ ہدف کے مطابق 8.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کی شرح 10 فیصد ہدف کےمقابلے میں 7.57 فیصد رہی۔خدمات کے شعبے کی ترقی کی شرح 4.71 فیصد رہی تاہم خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 6.5 فیصد تھا، تھوک اور پرچون کے کاروبار کی ترقی کی شرح 3.11 فیصد ریکارڈ ہوئی، ان شعبوں کی ترقی کا ہدف 7.8 فیصد تھا۔ٹرانسپورٹ اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں 3.34 فیصد کی شرح سے گروتھ ہوئی، ان شعبوں کی ترقی کا ہدف 4.9 فیصد مقرر تھا، فنانس اینڈ انشورنس کےشعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف 7.5 فیصد مقرر تھا لیکن ان شعبوں میں ترقی کی شرح 5.14 فیصد رہی۔ ہاو¿سنگ سروسز کے شعبے میں ہدف کے مطابق چار فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی، عمومی سرکاری خدمات کے شعبوں میں ترقی کی شرح 7.99 فیصد رہی، ان شعبوں میں ترقی کی شرح کا ہدف 7.2 فیصد مقرر تھا۔وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ قرضوں کیوجہ سے ملکی کرنسی دباو¿ کا شکار ہے۔ مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ حکومت نےاقتدارسنبھالا تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی۔ معاشی استحکام کیلئے مثبت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آیندہ بجٹ میں لوگوں کی امیدوں پر پوری اتریں گے۔ معیشت کو استحکام کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے۔اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے جوریفارمزکرنا تھی نہیں کی۔ میرا مقصد بلیم گیم کرنا نہیں۔ ملکی معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے 31 ہزار ارب کے قرضے لیے۔ ماضی کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا۔عبد الحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ مشکل صورتحال سےنکلنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ معیشت کو استحکام کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ معیشت کو ا?ئی ایم ایف پروگرام کے بغیر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ فروری 2019 میں پاک بھارت کشیدگی سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اقتصادی سروے میں اعداد وشمار سو فی صد حقائق پر مبنی ہیں۔ سروے میں معیشت کی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہاں کیوں کھڑے ہیں، تمام وسائل کے باوجود کیا چیز مسنگ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ ہم کیوں معاشی دقت میں ہیں، عوام کو بتانا ہوگا کہ اس صورتحال میں کیوں ہیں، قرض اتنے ہوچکے کہ آئندہ سالوں میں تین ہزار ارب ان کا سود دینا پڑے گا، باہر سے جو قرضے لئے وہ 100 ارب ڈالر ہیں۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے معیشت کی بہتری کے اصلاحات نہیں کیں، کرنٹ اکاو¿نٹ کا خسارہ ریکارڈ 20 ارب ڈالرتک پہنچ گیا۔ تجارتی خسارہ بھی 32 ارب ڈالرکی حد عبور کر گیا۔ آمدنی اور اخراجات میں کئی سو ارب کا فرق ہے۔ اس فرق کوپورا کرنے کے لیے ٹیکسوں کا دائرہ بڑھائیں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اب معاشی حالات ایسے نہیں کہ اداروں کو ماضی کے انداز میں چلایا جائے، خسارے میں جانے والے ادارے ملکی خزانے پر 300 ارب روپے کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملکی ا?بادی کا بڑا حصہ ٹیکس دینا ہی نہیں چاہتا جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے، موجودہ حکومت کے معاشی اقدامات کے نتائج جلد سامنے ا?نا شروع ہو جائیں گے، مہنگائی کی صورت میں حکومت وقت کو ہی سب سے بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود حکومت نے غریب طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا، حکومت نئے بجٹ میں بھی نچلے طبقے پر بوجھ نہیں پڑنے دے گی، حکومت نے پس ماندہ طبقے کے معاشی تحفظ کے لیے خصوصی سماجی پروگرام ترتیب دیے ہیں اور اس کے لیے خصوصی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک کے زائد ا?مدن والے طبقے کو معاشی استحکام کے لیے حکومت کا ہاتھ بٹانا ہوگا، کفایت شعاری کی مہم پر سختی سے عمل درا?مد کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ معاشی صورتِ حال کو بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے درآمدات پر کنٹرول کرنا ہوگا، اس لیے درا?مدات پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے بیرون ملک سے 9.2 ارب ڈالر کی معاونت لی، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھی 6 ارب ڈالر سے زائد کا پیکیج لیا جا رہا ہے، تاہم غیر ملکی معاونت سے ملک کو خوش حال نہیں بنایا جا سکتا، اپنے اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔انھوں نے رواں مالی سال کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران اقتصادی ترقی کی شرح 3.29 فی صد رہی، زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فی صد رہی، صنعتی شعبے کی شرح ترقی 1.4 فی صد جب کہ خدمات کی شرح نمو 4.7 فی صد رہی۔

Scroll To Top