شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانا ہماری غلطی تھی،شیخ رشید

  • حالات کچھ بھی ہوں نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومت نہیںبن سکتی، احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کے پاس کوئی صاف اور شفاف چہرہ نہیں
  • پوری قوم پاک فوج کی قربانیوں کوسلام پیش کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، وزیر ریلوے کی پریس کانفرنس

لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چور ،لٹیرے اور ڈاکو قانون کی زد مین نہ آئے تو غریبوں کے اندر لاوا پک رہا ہے ،سیاسی طور پر بڑی سکرین پر کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہا ،ملک میں اور کچھ ہو جائے لیکن نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومت نہیں ہو سکتی،تسلیم کرتا ہوں کہ عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے اور وہ تکلیف میں ہیں لیکن ایک سال میں وزیر اعظم عمران خان تمام مسائل پر قابو پا لیں گے ، شوگر مافیا پنجاب سے سبسڈی لے گیا ہے اور میں اس معاملے کو کابینہ میں اٹھاﺅں گا ، احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کے پاس کوئی صاف اور شفاف چہرہ نہیں ،شہباز شریف جو بھی کام کر رہا ہے اس کا فائدہ اس کے بھائی کو پہنچتا ہے ، پاکستان ، ایران اور ترکی نشانے پر ہیں اور ہم نے اس میں سے اپنا راستہ بنانا ہے ، ریلوے نے عید الفطر کے دنوں میں مسافرٹرینوں سے ایک ارب روپے کی آمدن حاصل کی ہے ، لاہور اسٹیشن کا دباﺅ کرنے کےلئے کوٹ لکھپت اور رائے ونڈ اسٹیشنز کی حالت کو بہتر کرنے جارہے ہیں ، ریلوے کے پاس ایندھن کا پانچ دن کا ذخیرہ موجود ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ریلو ے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ شیخ رشید نے شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ہماری عید کی خوشیوں کو چار چاند لگے ۔ پوری قوم پاک فوج کی قربانیوں کوسلام پیش کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تھل ایکسپریس او رکوہاٹ ایکسپریس میں 600سے 650مسافروں کی گنجائش ہے لیکن عید الفطر کے دنوں میں دونوں ٹرینوں میں 1700،1700مسافروں نے سفر کیا ،عید الفطر کے دنوں میں مسافروں ٹرینوں سے ایک ارب روپے کمایا ہے ۔ ہم بحران کا شکار ہیں او رہمارے پاس کوچز نہیں ہیں،نئے ٹی او آرز بنا رہے ہیں تاکہ سنگل ٹینڈرنگ کو ختم کیا جائے کیونکہ میں نہیںچاہتا ہوں کہ میر ے جانے کے بعد ریلوے اور میں خود کسی بحران کا شکار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پاس پانچ روز کا ایندھن موجود ہے اور 15روز کے لئے ایندھن راستے میں ہے ۔ہم نے مسافر ٹرینوں سے پانچ ارب روپے کمائے ہیں او رریلوے حکام تیس جون کو اس پر پریس کانفرنس کریں گے جبکہ میں 28اگست کو ایک سال مکمل ہونے پر ریلوے کی مکمل رپورٹ قوم کے سامنے پیش کروں گا ، ہم ریلوے کا تاریخی خسارہ کم کرےنگے ، ہم نے ہم نے تیس نئی ٹرینیں چلائی ہیں او ر20لاکھ لیٹرایندھن کی بچت کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے دباﺅ کم کرنے کے لئے کوٹ لکھپت اور رائے ونڈ اسٹیشنز کوبہتر کر نے جارہے ہیںاور وہاں پر ٹرینوں کو سٹاپ دیں گے ، اس سے قبل کینٹ ریلوے اسٹیشن پر چار ٹرینوں کو سٹاپ دئیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ریلمنٹ کو ڈسکس کیا ہے او راس پر ایکشن لیں گے ۔ انہوں نے کرایوں میں اضافے کے حوالے سے کہا کہ ابھی اس کا فیصلہ نہیں کیا اور ہم بجٹ کا انتظار کر رہے ہیں ،مسافروں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے تاہم 14تاریخ تک فیصلہ کرلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل سے تیس ٹرینیں مرمت کر کے چلائی ہیں او رایک روپے کی خریداری اور امپورٹ نہیں کی حالانکہ مجھے ریلوے سے سپورٹ نہیں مل رہی ۔ وزیر اعظم عمران خان تیس جون کو کراچی یا اسلام آباد سے سر سید ایکسپریس کا افتتاح کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجٹ میں 40، 50ارب کے مقابلے میں 16ارب روپے مل رہے ہیں لیکن ہم کوئی حل نکالیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ میںاعلان کر چکا ہوں کہ ایم ایل ون اور نالہ نئی کی تعمیر کے بعد ریٹائر ہو جاﺅں گا،ایم ایل ون کی پٹڑی سے برانچ لائنیںنکلیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایڈز پھیلانے اور ریلوے ٹریک بچھانے کا مقابلہ ہوگا، میں پورے سندھ میں ریلوے کا ٹریک بچھا دو ں گا ۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی ریلوے واجد ضیا ءبڑے زبردست افسر ہیں ،ہم نے حالیہ دنوں میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں سے تین کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا ہے ۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہاں لوگوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں اور انہیں تہہ خانوں سے چھٹی کے روز بھی ضمانتیں مل جاتی ہیں ،اگر چور ،لٹیرے او رڈاکو قانون کی زد میں نہ آئے تو غریبوں کے اندر لاوا پک رہا ہے ۔ مہنگائی اور بیرو زگاری ان چوروں او رلٹیروں کی وجہ سے بڑھی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ شوگر مافیا پنجاب سے سبسڈی لے گیا ہے ،میں کابینہ میں اس معاملے کو اٹھاﺅں گا ، یہ ڈریکولاز ہیں، شوگر مافیا اور اپٹما والے ملے ہوئے ہیں یہ گیس او ربجلی پر چھوٹ لیتے ہیں اور سبسڈی لے کر بھی غریب کا خو ن چوستے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کی سیاست مختلف ہے ، اگر نواز شریف میری بات پر عمل کرتے تو انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ، شہباز شریف وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہا ہے ، اپوزیشن میدان میں آجائے کیونکہ آج جو بحران ہے یہ انہی چوروں اور لٹیروں کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ڈیرہ غازی خان میں اپنی سرکاری الاٹمنٹ کی زمینوںپر نظر رکھیں او ران کا خیال کریں۔عمران خان کو یہ پلس پوائنٹ حاصل ہے کہ اس کے مخالف سارے چور ہیں اور عمران خان نے قومی سیاست میں دو جماعتوں میں سے اپنا راستہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جو بھی کام کر رہا ہے اس کا فائدہ اس کے بھائی کو پہنچتا ہے اور شہباز شریف نواز کے لئے راستہ بناتا ہے ۔ شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانا ہماری غلطی تھی ،نو ماہ سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کوئی احتساب نہیں کیا اور یہ اسلام آباد میںمزے کرنے کیلئے آتے ہیں۔ عمران خان نے مجھے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے لئے نامزد کر دیا تھا لیکن میںنے سپیکر سے الجھنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ مجھے ان کا بے حد احترام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو بھی وزیر اعظم آئے گا کوشش ہو گی کہ اس سے اچھے علقات ہوں ، اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو کسی نے ٹالا ہے تو میں اس کا کریڈٹ جنرل باجوہ کو دیتاہوں ، پاکستانی قوم اپنی عظیم فوج پر اعتبار کرتی ہے ۔ انہوں نے عید الفطر کے بعد کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں تو اسد عمر کو وزیر دیکھنا چاہتا تھا او ران کی رہائشگاہہ پر مٹھائی بھی بھجوائی لیکن پتہ چلا ہے وہ گھر خالی کر کے چلے گئے ہیں ۔ میں کچھ لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ جوگندے کپڑے دھو رہے ہیںوہ نہ وہ دھوئیں ۔ انہوں نے اپوزیشن کے احتجاج کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں اور کچھ ہو جائے لیکن نواز شریف اور آصف زرداری کی حکومت نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے عمران خان کی جانب سے مودی کو خط لکھنے بار ے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک کیا اس وقت پاکستان ، ایران اور ترکی دنیا کے نشانے پر ہیں او رہم نے اس کے درمیان سے اپنا راستہ نکالنا ہے ،ملک معیشت کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں ،جب کسی ملک کی معیشت بیٹھ جاتی ہے تو وہ ملک بیٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم عوام کے مسائل حل نہیں کر پائے اور عوام تکلیف میں ہیں لیکن عمران خان کی بھرپور کوشش ہے کہ بہتری ہو جائے اور اس کے لئے کوششیںکی جارہی ہیں ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میں سیاسی طو رپر بڑی سکرین پر تبدیلی نہیںدیکھ رہا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کراچی سرکلر سے تجاوزت ختم کر کے دیں گے اور میں دوبارہ سندھ کا دورہ کر رہا ہوں ۔ مراد علی شاہ نے ایکنک سے جو ارببوں منظور کرائے ہیں وہ مجھے لے دیں میں جدید مشینری اور ٹرینوں کے ساتھ ایک سال میں کے سی آر چلا کر دکھا دوں گا ۔

Scroll To Top