اب تو عمران خان بھی جان گئے ہوں گے کہ اس بوسیدہ نظام میں رہ کر فلاح کا کوئی راستہ نہیں مل سکتا۔۔۔۔

(یہ کالم اس سے پہلے 14-03-2015 کو بھی شائع ہوا تھا)

ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔ یہ تعلق مثبت بھی تھا اور منفی بھی۔ بھٹو کے عشق میں میں نے روزنامہ مشرق کی ایڈیٹری چھوڑی تھی اور پھر سقوط ِ مشرقی پاکستان کے بعد میں ہی بھٹو کے خلاف احتجاج کی پہلی آواز بنا تھا۔ ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ میرا سیاسی سفر اسی دور میں شروع ہوا تھا۔ میں نے ہی ” جھوٹ کاپیغمبر“ جیسی کتاب لکھی تھی اور اس کتاب کے باوجود مجھے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے اعتماد کے قابل سمجھا تھا۔
آج میرا تعلق عمران خان کی تحریک انصاف سے ہے۔ میں تحریک کے کور گروپ میں بھی رہا ہوں اور اس کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بھی۔ آج بھی عمران خان کے ساتھ میرا براہِ راست تعلق ہے۔
مگر آج کے حالات دیکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ پاکستان کے حالات میں تبدیلی لانا موجودہ نظام میں ممکن ہی نہیں۔ ہر سیاسی جماعت اس نظام کے اندر رہ کر ملک کی تقدیر بدلنے کی بات کررہی ہے۔ حتیٰ کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں بھی تبدیلی کی ہی بات کرتی ہیں جنہوں نے اس نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اور تحریک انصاف نے تو جنم ہی تبدیلی کے نعرے کی کوکھ سے لیا ہے !
لیکن جب تک یہ نظام موجود ہے تبدیلی آئے گی کیسے ؟ جب تک اس نظام کو دفن کرکے نیا نظام لانے کا نعرہ نہیں لگے گا۔ اور اس نعرے کو لبیک کہہ کر لوگ اِس نظام کی قبر نہیں کھودیں گے ` غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر کرتے رہنے والا یہ نظام کیسے کسی عمران خان کو قبول کرے گا ۔کون اٹھے گا اس نظام کے خلاف ؟
کون اٹھ کر قوم کو یہ سچ بتائے گا کہ 1973ءکا آئین عوام کو حکمران بنانے کے لئے نہیں ` حکمران طبقوں کو اقتدار میں رکھنے کے لئے قائم ہوا تھا ؟
کون اٹھ کر اس سچ کا پرچم فضاﺅں میں لہرائے گا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسے ایک ایسا نظام کچھ نہیں دے سکتا جو اس کے نظریات کی نفی کرتا ہو۔؟
میرے ذہن میں نئے نظام کا خاکہ موجود ہے یہ خاکہ عمران خان کے ذہن میں بھی موجود ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں بھی موجود ہوگا۔ لیکن اس نظام کا پرچم فضاﺅں میں کون بلند کرے گا؟

Scroll To Top