بات سلیکٹڈ کی اور سلیکٹرز کی

 

کچھ عرصہ پہلے تک تاریخ کے حوالے سے کوئی داستان لکھی جاتی تھی تو اس کے آخر میں ایک جملہ اکثر آتا تھا۔ ” اس کے بعدراوی چین کی بانسری بجاتا رہا “۔ یعنی موّرخ کے پاس لکھنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ ” راوی “ سے مراد یہاں موّرخ ہی ہے۔ میں پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ راوی یعنی موّرخ آئندہ کبھی یہ ضرور لکھے گا کہ عمران خان کے مخالف ” سلیکٹڈ “ کی گردان کرتے رہ گئے اور کرکٹ کے میدانوں سے سیاست کی گزر گاہوں اور سیاست کی گزر گاہوں سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے والا ” مردِ تقدیر“ تاریخ کے صفحات پر دوڑتا آگے بڑھتا چلا گیا۔
یہ ” سلیکٹڈ“ کا لفظ صرف عمران خان کو اشتعال دلانے کے لئے نہیں دشمنانِ پاکستان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے بھی ” سلیکٹ“کیا گیا ہے کہ پاک فوج کو پاکستان کے سیاسی معاملات میں ملوث مرکزی کردار ثابت کیا جاسکے۔
ویسے دیکھا جائے تو مریم بی بی کے بابا جان اوربلاول بے بی کے نانا جان ”سلیکٹڈ“ ہی تھے۔ میاں نوازشریف کے بارے میں ان کے منہ بولے باپ جنرل ضیاءالحق نے فرمایا تھا۔ ” خدا میری عمر بھی میرے اس نونہال کو لگا دے۔“
اور جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پہلے سلیکٹر جنرل سکندر مرزا کو جنیوا سے 30اپریل1958ءکو ایک عقیدت آمیز خط لکھا تھا جس کے یہ الفاظ ناقابلِ فراموش ہیں: ” جناب صدر میری اس بات کو خوشامدہرگز نہ سمجھئے گا ¾ یہ ایک تابندہ حقیقت ہے کہ آپ محمد علی جناح سے بڑے آدمی ہیں۔۔۔“
بھٹو مرحوم کے دوسرے سلیکٹر فیلڈ مارشل ایوب خان تھے جن کے ساتھ اُن کا رشتہ ویسا ہی تھا جیسا نوازشریف کا ” مردِ حق “ ضیاءالحق کے ساتھ تھا۔
تاریخ ثابت کرچکی ہے کہ دونوں صورتوں میں ” سلیکٹر“ بڑے آدمی اور ”سلیکٹڈ“ چھوٹے آدمی نکلے۔
عمران خان بھی ” سلیکٹڈ“ ہیں مگر انہیں ” سلیکٹ“ منشائے الٰہی نے کیا ہے۔ وہ آج تک کسی جنرل کی بغل میں براجمان نہیں ہوئے۔۔۔

Scroll To Top