ضرورت آگے بڑھ کر وار کرنے والوں کی 12-02-2015


تحریک انصاف میں چوہدری سرور کی شمولیت متوقع تھی مگر اس سلسلے میں بہت ساری قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں۔ ایک قیاس آرائی یہ تھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی چوہدری صاحب سے رابطہ کرچکی ہے۔ اب تمام قیاس آرائیوں نے دم توڑ دیا ہے۔ تحریک انصاف میںشمولیت کے موقع پر چوہدری سرور نے جو بیان دیا ہے وہ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ فیصلہ اُن کے ذہن میں کافی عرصے سے پنپ رہا تھا۔
میں چوہدری سرور کو نہیں جانتا۔ ان کے ساتھ میری واقفیت بھی عام پاکستانیوں کی طرح اُن کے اُن رویوں کی وجہ سے ہوئی ہے جو انہوں نے اپنی ” گورنری “ کے دوران اختیار کئے۔
جب میاں نوازشریف انہیں برطانیہ کی سیاست سے نکال کر پاکستان لائے تھے اور انہیں پنجاب کی ” گورنری “ عطا فرمائی تھی تو عام خیال یہی تھا کہ ان کے حلقہ ءاحباب میں ایک اور ممنون حسین شامل ہوگیا ہے۔ لیکن چوہدری صاحب نے بہت جلد اپنے اصل ہم وطنوں کو یہ احساس دلا دیا کہ وہ نمک کی کان میں نمک بننے کے لئے نہیں آئے۔
میاں نوازشریف ” چوہدری صاحب “ کو ” طوقِ گورنری “ اتار پھینکنے سے روک سکتے تھے مگر اس کے لئے ضرورت اس حکومتی کلچر کو تبدیل کرنے کی تھی جس کی ” افزائش “ اور ” نشوونما“ پر انہوں نے کئی دہائیاں صرف یاخرچ کی ہیں۔
چوہدری سرور نے گورنری سے الوداعی کلمات میں کہا تھاکہ جس ملک میں قبضہ مافیا کے احکامات پر کاروبارِ مملکت چلتا ہو اس ملک کے ایک صوبے کی گورنری سے چمٹا رہنا ان کا مقصدِ حیات ہرگز نہیں بن سکتا۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ ” اگر برطانیہ کے اندر قانون کی حکمرانی میں جمہوریت چل سکتی ہے تو پاکستان میں جمہوریت قائم رکھنے کے لئے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھنا یا جوتوں کے نیچے کچل ڈالنا کیوں ضروری ہے ۔؟“
اس سوال میں پاکستان کی جمہوریت کا پورا المیہ پوشیدہ ہے۔
اِس المیے کو ختم کرنے اور ایک نئی صبح کی تلاش شروع کرنے کا عزم لے کر چوہدری سرور تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔
مجھے اور آپ سب کو یہ امید باندھ لینے میں کوئی تامل نہیں کرنا چاہئے کہ چوہدری صاحب تحریک انصاف کا ایک مضبوط ستون بنیں گے۔ عمران خان کو آگے بڑھ کر مخالف قوتوں پر وار کرنے والوں کی اشد ضرورت ہے۔

Scroll To Top