ہمارے دشمن صرف سرحد پار نہیں بستے!

یہ کالم چار سال قبل بھی شائع ہوا تھا یہ کالم آج بھی اسی طرح قابلِ غور ہے جس طرح کل تھا۔ 19-02-2015
جب آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا کہ اسلام نے پوری نسلِ انسانی کو ایک رشتہ ءاخوت میں ڈھال دیا ہے اور اب کسی عجمی کو عربی پر یاعربی کو عجمی پر اپنی نسلی یا مالی حیثیت کی بنیاد پر برتری نہیں ہوگی بلکہ برتری کا فیصلہ اعمال کی بنیاد پر ہوگا ` تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے ہر دور اور ہر خطہ میں ہماری بنیادی پہچان کی حتمی تعریف کردی گئی تھی۔ہم اولاد آدم ؑ ہیں۔ ہمارا پہلا باپ ایک ہی فرد تھا جس کا نام آدم ؑ تھا۔ اور جس اسلام کے ہم پیروکار ہیں اس کا ظہور خطہ ءزمین پر آدم ؑ کی آمد کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ آنحضرت اسلام کے بانی نہیں تھے۔ آ پ نے دین آدم ؑ اور دین ابراہیم ؑ کی تکمیل کی تھی۔ آپ نے روئے زمین پر آبادتمام نسلوں اور قوموں کی بنیادی اور مشترک پہچان متعین کردی تھی۔ آپ نے ایک انسان کی دوسرے انسان پر فضلیت کا معیار بھی طے کردیا تھا۔
مجھے یہ بات آج اس لئے کہنے کی ضرورت پیش آرہی ہے کہ ہمارے کچھ لیڈر آج بھی اپنی نام نہاد جداگانہ ” قومی شناخت “ کی بنیاد پر پاکستان کے وفاق کو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ خان اسفند یار ولی خان کا یہ فرمانا کہ اگر چین سے گوادر تک کا راستہ تبدیل کیا گیا تو وہ ایک بار پھر ملک میں ویسا ہی ماحول پیدا کردیں گے جیسا کالا باغ ڈیم کے ایشو پر پیدا کیا گیا تھا۔
کون نہیں جانتا کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے کے لئے بھارت نے کتنے بڑے پیمانے پر خیبرپختونخوا اور سندھ میں ” سرمایہ کاری “ کررکھی ہے۔؟
میں یہا ں خان صاحب سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔ کیا وہ خود کو پٹھان پہلے اور مسلمان بعد میں سمجھتے ہیں ؟ اور اگر وہ خود کو صرف اور صرف پٹھان سمجھتے ہیں تو کیا ان پر لازم ہے کہ اپنی ساری زندگی پنجاب دشمنی میں گزار دیں ؟
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت یہ چاہتا ہے کہ چین اور گوادر کے درمیان جو کاریڈار بن رہا ہے وہ جس قدر بھی غیر محفوظ بنایا جاسکتا ہے بنایا جائے۔ جس ” روٹ “ کو شروع میں منتخب کیا گیا تھا اس کے غیر محفوظ ہونے میں اگر کسی کو شک ہے تو سامنے آئے۔
ہمیں اپنی اقتصادی منصوبہ بندی بہرحال اپنے دشمنوں کے عزائم کو سامنے رکھ کر کرنی ہے۔ اور ہمارے دشمن صرف سرحد پار نہیںبستے!

Scroll To Top