ہماری قوم کو اس یقین کی ضرورت بڑی شدت سے ہے

یہ کالم پہلے بھی شائع ہوا تھا۔میرا جی چاہتا ہے اسے بار بار شائع کروں۔سچ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اکثر اپنے اس کالم میں اپنے اس یقین کی تجدید کی ہے کہ پاکستان کے مقدر میں جو عظمتیں لکھی ہوئی ہیں وہ بالآخر اس کی تاریخ کا حصہ ضرور بنیں گی۔ تجدیدیوں تو ’ عہد “ کی کی جاتی ہے ” یقین “ کی نہیں لیکن یہاں تجدید کی اصطلاح میں یاد رکھنے کے معنوں میں استعمال کررہا ہوں۔
جو لوگ بھی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کی باتیں کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے یا پھر انہیں یاد کراتے رہنا چاہئے کہ اندھیرے اس ملک کی تاریخ کا حصہ تو بن سکتے ہیں ¾ یہاں کبھی کوئی زرداری اور کبھی کوئی میاں تو حکمران ہوسکتے ہیں ¾ لیکن یہ ممکن نہیں کہ یہ ملک چند سو یا چند ہزار غداروں کی کاوشوں یا خواہشوں کے نتیجے میں ٹوٹ جائے۔ یا یہ کہ اسے ان رفعتوں سے زیادہ دیر تک دُور رکھاجاسکے جو اس کے لئے لوحِ تقدیر پر لکھ دی گئی ہیں۔
یہ مملکت منشائے الٰہی کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی ۔ اسے کسی مسلم لیگی تحریک نے جنم نہیں دیا۔ منشائے الٰہی ہی محمد علی جناح ؒ نامی ایک ناراض بیرسٹر اور سیاستدان کو لندن سے اٹھا کر یہاں لے آئی اور اس کے سر پر اس قوم کی قیادت کرنے کا تاج رکھ دیا جو بقول علامہ اقبالؒ کے ¾ ایک ایسے کارواں کی طرح تھی جسے اپنے ” میر“ کی تلاش ہو۔
اگر مسلم لیگ واقعی ایک ایسی جماعت ہوتی جس کے خمیر میں ایک تحریک چلانے کی قوت یا تاثیر ہوتی تو 11ستمبر1948ءکو قائداعظم ؒ کی وفات کے بعد پھر ایک بکھرا ہوا منتشر قافلہ نہ بن جاتی۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ یہ ملک ایک قوم کے لئے اور ایک مقصد کی خاطر ¾ ایک عظیم مفکر کے وژن کے تحت ایک بطلِ جلیل کی سحر انگیز شخصیت اور قیادت کی بدولت قائم ہوا تھا۔ اور اس کے قیام کے پورے عمل کے پیچھے یہ منشائے الٰہی تھی کہ برصغیر میں ایک ایسا پرچم بلند ہو جو آگے چل کر مسلم نشاة ثانیہ کا پرچم بن جائے۔
میری اس سوچ سے میرے حقیقت پسند آزاد خیال اور سیکولر ہم وطنوں کو سخت اختلاف ہوگا لیکن منشائے الٰہی ہمارے تجزیوں کی محتاج نہیں ہوسکتی۔ کیا سّتر کی دہائی تک کوئی شخص سوچ بھی سکتا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت بنے گا۔ یا یہ کہ پاکستان ایشیاءکی تاریخ کی ایک بہت ہی بڑی اور فیصلہ کن کروٹ کا باعث بنے گا۔؟
اگر وہ عظیم جنگ نہ ہوتی جسے ہم افغان جہاد کہتے ہیں تو وسطی ایشیاءکی مسلم اقوام شاید مزید چند دہائیاں یا صدیاں کریملن کی غلامی میں گزارتیں۔
ہمیں ابھی اس بات کا ادراک نہیں کہ 1980ءکی دہائی میں پاکستان نے کیا عظیم کارنامہ کر دکھایا۔ ابھی ہم ” روشن خیال “ پروپیگنڈ ے کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ لیکن جب تاریخ لکھی جائے گی تو ہماری ” افغان پالیسی “ سے صرف جنرل ضیاءالحق کا ہی نہیں زیڈ اے بھٹو کا نام بھی منسلک نظر آئے گا۔
بہرحال میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ یہ کالم صرف اس یقین کی تجدید کے لئے ہے کہ ” سطوتِ پاکستان“ کا ستارہ بہت جلد دنیا کے آسمان پر چمکے گا۔
ہماری قوم کو اس یقین کی ضرورت بڑی شدت سے ہے۔

Scroll To Top