پانسہ پلٹے گا !

یقین نہیں آرہا کہ عمران خان کے دورِ اقتدار کو نوماہ گزر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کی انتھک جدوجہد کے بعد پاکستان کے اس مایہ ناز فرزند نے اقتدار کے ایوانوں میں پہلا قدم رکھا تھا۔ یقین نہیں آرہا کہ اس ” عظیم فائٹر“ کو وزیراعظم بنے ہوئے نو ماہ ہوچکے ہیں اور پاکستان شاہراہ ترقی پرگامزن ہونے کی بجائے ایک تکلیف دہ سیاسی بحران اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن اقتصادی بے یقینی کے دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔
یہ درست ہے کہ عمران خان کی ٹیم بننے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اترنے تھے مگر یہ بات بھی نوماہ قبل کسی کے خواب و خیال میں نہیں ہوگی کہ حفیظ شیخ دوبارہ پاکستان کے وزیر خزانہ بنیں گے۔ وزیر اور مشیر میں فرق صرف حروف کا ہے۔
عمران خان سے میری آخری ملاقات 02اگست 2018ءکو ہوئی تھی جب وہ ہنوز وزیراعظم نہیں بنے تھے۔ جب وہ ذہنی طور پر اپنی ٹیم کی تشکیل کررہے تھے۔ جب انہو ں نے مجھے بنی گالہ بلا کر پوچھا تھا۔ ” آپ کیا کرنا چاہیںگے ؟“
” حکومت سے باہر کوئی بھی ذمہ داری ؟“ میں نے جواب دیا تھا۔۔۔
” مثال کے طور پر ؟“ انہوں نے پوچھا تھا۔۔۔
” پارٹی میں کوئی بھی ذمہ داری ۔۔۔“ میں نے جواب دیا تھا۔۔۔
چنانچہ عمران خان کے دستخطوں سے میری تقرری بحیثیت سینئر میڈیا کنسلٹنٹ پی ٹی آئی ہوئی تھی۔۔۔
میں اس ” تقرر نامے “ کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ اور اعزاز بہرحال سنبھال کر رکھنے کے لئے ہوتے ہیں۔
اس روز میں نے بنی گالہ میں ایسے چہرے دیکھے تھے کہ میرا دل بیٹھ گیا تھا۔ میرے ” کپتان “ کا پہلا ہی اوور ان کے کروڑوں مداحوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا۔۔۔
آخر وہ سب کچھ کیوں ہوا جو ہوا ۔۔۔؟
اور آج ہم وہاں کیوں کھڑے ہیں جہاں کھڑے ہیں؟
ذمہ دار کون ہے ؟
فوج ؟ ۔۔ عدلیہ ؟۔۔۔ تقدیر؟
یہاں تک تو میری تحریر میں آپ کو ” مایوسی “ ملے گی۔۔۔
مگر مجھے یہ پختہ یقین ایمان کی حد تک ہے کہ ” میچ“ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ پانسہ پلٹے گا۔۔۔ عمران خان کے سامنے ایک ہی آپشن ہوتا ہے۔۔۔ کامیابی!

Scroll To Top