چینلز کوچاہئے کہ صحافت اور تھیٹر کا فرق بحال کریں

نیوز کاسٹنگ یا نیوز ریڈنگ کو تھیٹریکل او ر جذبات انگیز بنانے کا رحجان کس چینل سے شروع ہوا میں نہیں کہہ سکتا۔ دس بارہ برس قبل تک چینلز کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی ¾ صرف چار پانچ چینلز ہی دیکھے جاتے تھے اور ” جیو “ ان میں سرفہرست تھا۔ جب مقابلہ بازی شروع ہوئی تو ریٹنگ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ سامعین اور ناظرین پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے تمام چینلز مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے مشن پر نکل کھڑے ہوئے۔ یوں ” نیوز روم“ کی کردار کشی کا آغاز ہوا۔ میں اسے کردار کشی ہی کہوں گا کیوں کہ خبروں کو اس انداز میں پڑھنا کہ جیسے سٹیج پر کوئی کردار اپنی آواز کے اتار چڑھاﺅ کے ذریعے پرفارمنس دے رہا ہو ¾ خبریں پڑھنے کے فن کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق تھا۔ آہستہ آہستہ ٹی وی دیکھنے والے بھی اس مذاق کے عادی ہوگئے اور خبروں کے لب ولہجے سے ہی پتہ چلنے لگا کہ کون سا چینل کسی جماعت یا لیڈر کو نشانہءتضحیک و تمسخر بنا رہا ہے اور کس کی شان میں مدح سرائی کررہا ہے۔ پی ٹی وی کو اور کوئی کریڈٹ جائے یا نہ جائے یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے خبریں پڑھنے کے فن کے ساتھ کوئی بھونڈا مذاق نہیں کیا۔
جہاں تک ٹاک شوز کا تعلق ہے اس میں جب خواتین کی آمد شروع ہوئی تو بات قابلیت اور میرٹ تک محدود نہ رہی اور ” وارڈروب“ تک جا پہنچی۔ میک اپ ہیر سٹائل اور لباس پوشی میں نت نئے تجربے کرکے ” خواتین “ کو زیادہ سے زیادہ پرُکشش بنانے کی کوشش ہونے لگی اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ٹاک شوز ” شوبز“ کا حصہ بن گئے۔
میں جو کچھ کہنا چاہ رہا ہوں آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔ ” سب سے پہلے خبر بریک کرنے “ کی دوڑنے خبروں کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اس کی سب سے زیادہ قابل افسوس مثال حال ہی میں چینل 92نیوز میںدیکھی گئی جب کراچی کے قریب تیل کی دریافت میں ناکامی کی خبر کو اس انداز میں پڑھا گیا اور پیش کیا گیا کہ جیسے پاکستان کی ہاکی ٹیم نے دوبارہ ورلڈ چیمپین شپ حاصل کرلی ہو۔ میں دم بخود تھا کہ اس ناکامی کو خوشی کے اظہار کا ذریعہ بنانے کا مقصد کیا تھا۔ اگر مقصد عمران خان کی حکومت کا مذاق اڑانا تھا تو اس کے مقصد کی تکمیل کسی ٹاک شو میں کرلی جاتی۔
یہ رویہ زیادہ قابلِ افسوس مجھے اس لئے لگا کہ متذکرہ چینل میں ارشاد عارف اور معید پیرزادہ جیسے قابل احترام صحافی اب بھی موجود ہیں۔میرے خیال میں اب صحافت کو صحافت کی طرف واپس آنا ہوگا ۔ اور صحافت کی طرف چینلز کی واپسی صرف اس صورت میں ہوگی کہ تھیٹر کو تھیٹر والوں کا ہی کام رہنے دیا جائے ۔۔۔۔

Scroll To Top