معاملہ عمران خان کی حکومت کے تحفظ کا نہیں۔۔۔ پاکستان کی بقاءکا ہے ۔۔۔

ویت نام کی ” خودکش جنگ“ امریکہ نے کسی شوق کی تکمیل کے لئے نہیں لڑی تھی۔ وہ اُس وقت بھی اِس بات سے خوفزدہ تھا کہ چین کو اگر توانائی کے ذرائع تک رسائی ہوتی رہی تو وہ کسی بھی وقت غربت کا لباس اتار کر ” زرہ بکتر“ پہن سکتا ہے۔ تب امریکہ ” خلیج ٹونکن“ پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا تاکہ چین کی ” آمدورفت“ کو حد سے زیادہ مشکل بنا دیا جائے۔ تب امریکہ کا حقیقی حریف سوویت یونین تھا۔ اور حقیقی معنوں میں یہی دو ” سپر پاورز“ تھیں۔ سردجنگ کی ترکیب ان سپر پاورز کی وجہ سے ہی معرض وجود میں آئی۔
اب پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ عراق اور شام پر بربادی کی بارش کرنے کے بعد امریکہ اب ایران اور پاکستان کارخ کررہا ہے۔
امریکہ گرم پانیوں کے چین کے کنٹرول میں جانے کے امکان کو ہر قیمت پر ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اب بہت دیر ہوچکی۔ ایران کے خلاف امریکہ اپنے روایتی ہتھیار آزمانے کے لئے ” پر“ تول رہا ہے اور پاکستان کو وہ ” ہائبرڈ وار “ یعنی داخلی انتشار اور شورشوں کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ کے ذریعے گھٹنوں کے بل لاناچاہتا ہے۔یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ یہ جنگ بھی ویت نام کی جنگ کی طرح جیت نہیں سکے گا۔ مگر اس خطے پر بربادی کی بارش برسانا امریکہ کے ” قبضہءقدرت“ میں ضرور ہے۔
پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے کام کا آغاز ہوچکاہے۔مریم بی بی کے اعزاز میں بلاول زرداری کا ” افطار ڈنر “ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ” ±منظور پشتین “ کے ساتھ بلاول کا رشتہ ءخیر سگالی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اور بھی بہت ساری کڑیاں ہیں۔ پاکستان کی سا لمیت کا ہر دشمن بلاول کے افطار ڈنر میں موجود تھا۔
ریاست پاکستان کے سامنے بہت سارے آپشن نہیں۔ اسے اپنی پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھ کر ” شیطنت“ کے اتحاد ثلاثہ )امریکہ اسرائیل بھارت(کے دانستہ یا نادانستہ ایجنٹوں کو اپنے آہنی قدموں تلے کچلنا ہوگا۔
معاملہ عمران خان کی حکومت کے تحفظ کا نہیں۔۔۔ پاکستان کی بقاءکا ہے۔۔۔

Scroll To Top