سازش کا خوف! 22-01-2015

عمران خان اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں۔ اتفاق سے اسی موقع پر طاہر القادری بھی وہاں موجود ہیں۔ اوریہ خبر بڑی تیزی سے اڑی اور اڑائی جارہی ہے کہ 2014ءکے تاریخی دھرنے کے ساتھی وہاں ملاقات کرنے والے ہیں۔
پی ٹی آئی کے حلقوں سے اس امکان کی تردید کی گئی ہے۔ اور شیریں مزاری صاحبہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ عمران خان صاحب کو تو علم ہی اب ہوا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری سعودی عرب میں موجود ہیں۔
اس تردید کے باوجود میڈیا بھی اس بات پر مُصر ہے اور پی ایم ایل این کے حلقے بھی کہ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات ہونی ہی ہونی ہے۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری میں ملاقات ہو بھی جاتی ہے تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ؟ اور اگر نہیں ہوتی تو جس تبدیلی سے حکومتی ایوان ڈرتے ہیں کیا اس کے خلاف خود بخود کوئی بند بندھ جائے گا۔؟
میرے خیال میں پی ٹی آئی کو اس افواہ یا خبر پر کوئی تردیدی بیان جاری ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جہاں تک میری معلومات ہیں ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے ہی شہری ہیں اسرائیل کے نہیں۔ اگر ہمارے وزیراعظم اپنے خاندان کے ساتھ ایک بھارتی صنعت کار )نوین جندل(کے گھرجا سکتے ہیں ۔۔۔ تو سرزمین حجاز پر پاکستان کے دو لیڈروں کی ملاقات کسی کے لئے خطرے کی گھنٹی کیسے بن سکتی ہے ؟
ویسے ہماری حکمران جماعت کو تو اپنی نالائقی میں بھی کسی ان دیکھی قوت کی سازش ہی نظر آتی ہے۔ جیسا کہ اس بیان سے ظاہر ہے جو جناب اسحق ڈار نے گزشتہ روز دیا ہے۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا کہ پٹرول کا یوں غائب ہوجانا کسی سازش کے بغیر ممکن نہیں۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ اگر حکومتی اکابرین ہوشمندی سے اتنے عاری ہوجائیں کہ انہیں ا پنی ذمہ داریوں کا بھی علم باقی نہ رہے تو سمجھ لیں کہ سازش ہوئی ہے۔
اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ممکنہ ملاقات کی خبر سے ہی اتنی بڑی سازش ہوسکتی ہے تو سچ مچ کی ملاقات کیا قیامت ڈھائے گی۔؟
جناب ہارون رشید کو یقین ہے کہ اب عمران خان کو سبق حاصل ہوچکا ہے اس لئے وہ ڈاکٹر طاہر القادری سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھیں گے۔۔۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جس دھرنے کو وہ وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اسے یاد کرکے بھی حکومت کیوں خوفزدہ ہوجاتی ہے ؟

Scroll To Top