مشکل معاشی صورتحال پر جلد قابو پالیں گے:ملک و قوم کا مفاد سیاسی مفادات سے بالاترہے، عمران خان

  • حکومت کی پوری توجہ معاشی اور اقتصادی صورت حال بہتر بنانے پر مرکوز ہے، اس بارے اہم فیصلوں کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے،پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے آئینی، قانونی اور سیاسی امور پر مشاورت کے دوران گفتگو
  • تھر کوئل ملک کا اہم اثاثہ ہے، جس کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا، منصوبے کو کامیابی بنانے کے لئے ہر ممکن مدد کی جائے گی، وزیر اعظم کی تھر کوئل ذخائر اور انکے استعمال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل معاشی صورت حال سے جلد باہر نکل آئیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں آئینی، قانونی اور سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پوری توجہ معاشی اور اقتصادی صورت حال بہتر بنانے پر مرکوز ہے، مشکل معاشی صورت حال سے جلد باہر نکل ا?ئیں گے۔انہوں نے کہا کہ اہم فیصلے کیے ہیں آئندہ چند ماہ میں بہتر نتائج سامنے ا?ئیں گے، ملک و قوم کا مفاد سیاسی مفاد سے بالاتر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی اداروں کی تنظیم نو سے معاشی استحکام کی طرف بڑھیں گے۔دوسری جانب بابر اعوان نے کہا کہ حالیہ سروے اور عوامی رائے حکومتی فیصلوں کے حق میں ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شریفوں، زرداریوں نے ملک پر رحم کیا ہوتا تو ا?ج ایسے حالات نہ ہوتے، ملکی وسائل کو جس بے دردی سے لوٹا گیا اس کا انہیں حساب دینا ہوگا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں عمران خان کو تھرکول ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ بلاک ٹو سے سنہ 2025 تک 5 ہزار میگا واٹ بجلی ا?ئندہ 50 سالوں تک پیدا کی جا سکتی ہے، وزیر اعظم کو تھر میں کان کنی کے منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تھر کوئلہ ملک کا ایک اہم اثاثہ ہے، اس اثاثے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا۔ کوئلے کے استعمال سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی دریں اثناءوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تھر کے کوئلے کو برو¿ے کار لانے سے ملکی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی، وفاقی حکومت قومی مفاد کے حامل تھر منصوبے کو کامیاب بنانے میں ہر ممکنہ مدد فراہم کرے گی ۔جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت تھر کوئلے کے ذخائر اور انکے استعمال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ترجمان ندیم افضل چن، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، سیکرٹری پاور عرفان علی، سی ای اوحبکو خالد منصور، سی ای او تھل نووا پاور سلیم اللہ میمن، منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی شاہ جہاں مرزا و دیگر شریک ہوئے ۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ تھر کول فیلڈمیں دنیا کا ساتواں بڑا کوئلے کا ذخیرہ پایا جاتا ہے جوکہ ایک اندازے کے مطابق آئندہ دو سو سالوں کے لئے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنانے کے کام آ سکتا ہے۔ انہوںنے بتایاکہ تھر میں کوئلے کے 175ارب ٹن ذخائر پچاس ارب ٹن تیل اور دو ہزار ٹریلین کیوسک فٹ گیس کے برابر توانائی کے حامل ہیں۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ تھر کول بلاک ٹو کو برو¿ے کار لانے کے پہلے مرحلے پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں کام جاری ہے۔ ان مختلف مراحل میں تھر کوئلے کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کے کارخانے لگائے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موجود کوئلے کو برو¿ے کارلایا جائے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بلاک ٹو سے 2025ءتک پانچ ہزار میگا واٹ بجلی آئندہ پچاس سالوں تک پیدا کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم کو سندھ اینگروکول مائننگ کمپنی کی جانب سے تھر میں کان کنی کے منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیرِ اعظم کو تھر فاو¿نڈیشن کے تحت تعلیم، صحت، تھر کے مکینوں کو ہنر سکھانے، تھر میں شجر کاری جیسے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر کوئلہ ملک کا ایک اہم اثاثہ ہے جس کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کو برو¿ے کار لانے سے ملکی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ مختلف کمپنیوں کی جانب سے ٹرانسپورٹیشن، پانی کی فراہمی اور بجلی کی ترسیلی لائن کے قیام کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے معاونت کی درخواست پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت قومی مفاد کے حامل تھر منصوبے کو کامیاب بنانے میں ہر ممکنہ مدد فراہم کرے گی۔

Scroll To Top