اسلام کیوں زندہ ہے ؟ 17-01-2015

فرانس خوکو یا مانے بائیس برس قبل مغرب کا نقیب بن کردنیا کو یہ خبر سنائی تھی کہ تاریخ کے خاتمے کا دور آچکا۔ اب تاریخ آگے نہیں بڑھے گی۔ دنیا پر امریکہ اور مغرب کا غلبہ ایک تبدیل نہ ہونے والی اٹل سچ بن چکا ہے۔
جن قارئین نے متذکرہ مغربی مفکر کی تصنیف The End Of Historyپڑھی ہے وہ جانتے ہوں گے کہ سوویت یونین کی شکست و ریخت اور 1990ءکی خلیجی جنگ کے نتائج کے حوالہ سے موصوف نے کس قدر وثوق سے کہا تھا کہ اب دوسری تمام قومیں مغربی بالادستی کو تاریخ کا اٹل فیصلہ سمجھ کر واشنگٹن کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔اس پیشگوئی کو دو سے زیادہ دہائیاں گزر چکی ہیں مگر تاریخ کا پہیہ نہیں رکا۔ خود مغرب نے ہی ایک اور جنگ دنیا پر مسلط کردی ہے جسے اس نے ” دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کا ٹائٹل دیا ہے۔
کوئی نہیں جانتا کہ اب تاریخ کا سفر کہاں ہوگا۔ مگر یہاں میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں ۔ مستقبل امریکہ کا نہیں اسلام کا ہے۔ یہ مستقبل جس کی میں بات کررہا ہوںیہ مستقبل قریب ہے یا مستقبل بعید۔۔۔ میں نہیں جانتا۔۔۔ لیکن تاریخ کا پہیہ رکا نہیں۔
ہم نے دیکھا کہ برطانوی سامراج کی آندھی اٹھی ` پرتگالی ` ولندیزی ` ہسپانوی ` اطالوی اور روسی سامراج کے طوفان اٹھے۔۔۔ اسلامی دنیا غلام کی زنجیروں میں جکڑ دی گئی۔ زوال دنیائے ہلال کا مقدر بن گیا۔
لیکن جب تک تاریخ کے پہیہ چلتا رہتا ہے آخری باب نہیں لکھا جاسکتا۔
اسلام آج بھی زندہ ہے۔
اور اسلام ایک پھر ایک بڑی سچائی بن کر ابھر رہا ہے۔
اسلام زندہ کیوں ہے ؟
اس لئے کہ ہمارے دلوں میں عشق رسول زندہ ہے۔ ہم نے ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں جاکر بھی اپنے اندر ”روح محمد “ زندہ رکھی ہے۔
اور مغرب ہمارے اسی عشق سے خوفزدہ ہے۔
بس وہ عشق ہے جو ایک بار پھر اللہ اکبر کی صداﺅں کو دنیا پر غلبہ عطا کرے گا۔
جب تک ہمارا یہ ایمان زندہ ہے ` تاریخ کا پہیہ نہیں رکے گا۔
چارلی ہیبڈو جیسے واقعات ہمارے عشق کو زندہ رکھنے کے لئے پیش آیا کرتے ہیں۔

Scroll To Top