اقتدار کی لعنت بھی قبول! 13-01-2015

جناب آصف علی زرداری نے لاہور تشریف لاکر فرمایا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں وہ صرف اورصرف جمہوریت کی محبت میں اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے کرتے رہے ہیں۔ ورنہ انہیں اقتدار سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگلے دو برس تک صرف اُس جنگ کے بار ے میں ہی سوچا جاناچاہئے جو دہشت گردی کے خلاف لڑی جارہی ہے اور لڑی جائے گی۔ اُن کے اس ” ولولہ انگیز “ بیان کے بعد اُن کے ” دستِ راست “ رحمن ملک صاحب نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ زرداری صاحب نے جو ” سٹرانگ “ پیغام اپنے ارشادات میں دیا ہے اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یقینا نئی روح پھونکی گئی ہے۔ملک میں شاید ہی کوئی سیاست دان ہو جسے اقتدا ر سے کوئی دلچسپی ہو۔ اقتدار اکثر زبردستی اُن کی جھولی میں آگرتا ہے۔ اگر محترمہ بے نظیر بھٹو گولیوں کا نشانہ نہ بنتیں تو اقتدار زرداری صاحب کی جھولی میں کیسے گر سکتا تھا۔ وہ تو اقتدار کے طلب گار ہی نہیں تھے۔! اور اگر وہ جنرل پرویز مشرف (ر)کو رخصت کرنے کا منصوبہ نہ بناتے تو جمہوریت کو پنپنے کا موقع کیسے ملتا؟ جمہوریت کے عشق نے ہی انہیں صدارت قبول کرنے پر مجبور کیا ؟
واقعی انہیں اقتدار کی کوئی طلب نہیں۔ اگر ہوتی تو پی پی پی کی تباہی کا سامان وہ اتنی عرق ریزی کے ساتھ کیسے پیدا کرتے !وہ جانتے ہیں کہ دوبارہ اقتدار میں وہ صرف پی پی پی کے ذریعے آسکتے ہیں۔ اگرپی پی پی خدانخواستہ دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو انہیں اقتدار میں آنے کے کرب سے گزرنا پڑے گا۔
لیکن کاش پاکستان میں دولت کمانے کا اس سے زیادہ نتیجہ آفرین اور مفید طریقہ ہوتا !
جمہوریت اور دولت کی خاطر اقتدار کی لعنت بھی قبول!

Scroll To Top