آن بان شان رمضان پاکستان پہلی روزہ کشائی

  • اور پھر نوبت ، بجنے کی نوبت آن پہنچی، صف کے اےک گوشے سے اےک بزرگ آئے اور اس بچے کے ابا جی کو رسول پاک صلعم سے نسبت رکھنے والی دو عدد عجوہ کھجورےں اور آب زم زم کی چھوٹی سے شےشی پےش کی۔ ابا جی نے کلمہ شرےف پڑھ کر عجوہ کھجور اور آب زم زم سے اپنے بےٹے کی روزہ کشائی کرائی اس کھجور کی لازوال مےٹھی لذت اور آب زم زم کا ابدی ذائقہ آج بھی بابے بنے اس بچے کے کام ودہن کو سرشار رکھے ہوئے ہے۔

دو صدےوں کا ذائقہ اس کے شامل حال ہے۔ اےک طرف بےسوےں اور دوسری طرح اکےسوےں صدی، انےس سال اس صدی کے پچاس سال پچھلی صدی کے ےعنی 1950سے 2019 کے بےج کے اےک کم ستر سال جالندہر سے ہجرت کی دولت سے مالا مال بے خانماں خاندان لاہور مےں اللہ کے گھر کے سامنے کھلے آسمان تلے ڈےرہ ڈالے ہوئے تھا۔ کنبے کا سربراہ تحرےک پاکستان کا اےک گمنام مگر پرجوش اور پر عزم کارکن تھا۔ اسلام کے نام پر بنے والے نئے ملک پاکستان کو پاکر فتح مندی کے نشے سے سر شار اہل کنبہ، اپنے آبائی گھر بار سے سدا کی محرومی ، جدائی اور وچھوڑے کا صدمہ بھول چکے تھے۔ اب ان کا اوڑھنا بچھونا ۔ رہنا سہنا اور جےنا مرنا ۔ سب کچھ پاکستان سے وابستہ ہو چکا تھا۔ جھلملاتے تاروں سے اٹھکےلےاں کرتے بچے کو پر سکون نےند نے اپنی آغوش مےں سمےت رکھا تھا کہ مسجد کی سمت سے نوبت کا ڈگا بجنے لگا ۔ نےم سبی کو چےر کر آنے والی ڈگا ڈگ نے اس کی خوابےدہ رگوں مےں دوڑنے والے لہو کو بےدا ر بھی کےا اور گرما بھی دےا۔ اس کے ابا جی نے تب تک اپنے اکلوتے بےٹے کے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھنٹے مارے ےہاں تک کہ بچہ نےند کو جھٹک کر اپنی جگہ پر کھڑا ہوگےا اس دوران بچے کی والدہ اور بڑی بہن بھی جاگ چکی تھےں۔ ابا جی نے کپڑے کی تھےلی مےں سے بھنے ہوئے چنے نکال کر مٹی کی کنالی مےں پھےلا دئےے اور مٹی کا کٹورا صراحی کے ٹھنڈے پانی سے بھر کر سب کے سامنے رکھ دےا۔ نئے وطن مےں ماہ رمضان کی ےہ ان کی پہلی سحری کو مےنو تھا جس کی بے مثل لذت سال گزرجانے کے بعد بھی آج بابے بنے اس کا کے کے کام ودہن کو لبھا رہی ہے۔
شدےد حبس اور اس پر طرہ آسمان سے آگ برساتا سورج، تب لوڈ شےڈنگ کا عذاب درےافت نہ ہوا تھاکہ عوام کے لئے سرے سے بجلی تھی ہی نہےں کھجور کے پتوں کے دستی پنکھے ہوتے تھے جن سے اےر کنڈےشنگ کا کام لےنے کے لئے لوگ باگ ان پر ٹھنڈے پانی کا ہلکا سا چھڑکاﺅ کر لےتے ۔ اسے ےاد ہے دوپہر سے پہلے ہی سورج سوا نےزے پر آجاتا ماں جی اس کے اباجی کا چارخانی رومال صراحی کے ٹھنڈے پانی سے بھگو کر اس کے سر پر ٹکا دےتےں اور گاہے پےپل کے گھےنرے درخت کی چھاﺅں تلے بٹھا کر اس کے لئے پنکھا چھلتےں تاکہ کم عمر روزہ دار آسودہ خاطر رہے ۔ اسے اپنے پہلے روزے کی سحری کی طرح افطاری کا نےن نقشہ بھی اچھی طرح ےاد ہے ۔ ماں جی نے عصر کے بعد اسے کنوئےں سے لائے گئے پانی سے نہلا دھلا کر دھاری دار پاجامہ کرتا پہنا چےا۔ سر مےں سرسوں کا تےل ڈال کر خوب مالش کی ، پھر بڑے چاﺅ سے کنگھی کرتے ہوئے بالوں کو ان کے صےحح مقام پر آراستہ کےا۔ تب ان کی ممتا کا چشمہ بے طرح پھوٹ پڑا ۔ انہوں نے بے مثل خود سپردگی روارفتگی اور شےفتگی کے ساتھ اپنے چہےتے لاڈلے کو اپنی آغوش مےں سمےت لےا اپنی ماں کے وسےلے سے چاہے جانے کا ےہ انمول تجربہ اس کے لئے زندگی بھر کا دلگداز اثاثہ بن گےا۔ ماں جےسی عظےم ہستی کی گود کا ”نگھ“ اس لفظ ترجمہ شائد دنےا کی کسی زبان مےں بھی نہ ہو اس لازوال کےفےت کو صرف محسوس ہی کےا جاسکتا ہے۔
آج بھی اس کی لوح احساس پر دستک دےتا ہے تو وہ نہال ہو کر رہ جاتا ہے مغرب سے ذرا پہلے ننھے روزہ دار کو قرےب ہی ڈےرہ جائے اس کے بزرگوں کے پاس لے جاےا گےا سبھی نے موسم کی حدت اور شدت کے باوجود روزہ رکھنے پر اس کی پےٹھ ٹھونکی شاباشےاں دےں۔ اس کے نانا جی نے اپنی واسکٹ کی جےب سے موری والا اےک پےپر نکال کر اس کی ہتھےلی پر جما دےا۔ تب ہمارے کرنسی سسٹم مےں چار پےے کا اےک آنہ اور سولہ آنوں کا اےک روپےہ شمار ہوتا تھا۔ اور محض اےک موری والا پےسہ بھی اپنے اندر بڑی قوت خرےد رکھتا تھا۔ کسی بات ےا معاملے کی درستگی کو اجاگر کرنے کے لئے ”سولہ آنے ٹھےک“ کا محاورہ بھی اسی دور کی ےاد تازہ کرتا ہے افطاری کی گھڑی سر پر آن کھڑی ہوئی تھی تب اس کی ماں جی نے لکڑی کے صندوقچے مےں سے سبز جزوان مےں لپٹی مقدس کتاب نکالی۔ اسے بے پناہ عقےدت سے چوما پھر آنکھوں سے لگاےا اور کچھ زےر لب دعائےں دہرائےں ۔ اور پھر قرآن پاک کے ساےے مےں روزہ کشائی کے لےے اسے اس کے ابا جی اور چند دوسرے عزےزوں کے جلوس مےں مسجد کے لئے روانہ کر دےا۔ مسجد کا ماحول حد درجہ سادہ ، پاکےزہ ، کشادہ اور روح پرور تھا۔ زےادہ تر لوگ اجنبی مگر مےل جول مےں شےر وشکر تھے۔ چودہ صدےاں پہلے انصار اور مہاجرےن کی باہمی اخوت، محبت اور ےگانگت کی تابانےوں کا عکس جمےل سارے گردوپےش کو بقعہ نور بنا رہا تھا۔ مقامی آبادی ےعنی لہورےوں ےا آج کی چالو اصطلاح مےں ” زندہ دلان لاہور“نے پاکستان کے عشق مےں صدےوں قدےم اپنے ٹھکانوں کو چھوڑ کر آنے والوں کے لئے دےدہ ودل فرش راہ کر دئےے تھے ۔ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی صفوں پر پانی کے چھنٹے مار کر انہےں خنک کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ روزہ کشائی کی ساعت سے ذرا پہلے اسے امام صاحب (اللہ پاک انہےں غرےق رحمت کرے کہ بعد مےں وہ اس کی دےنی تعلےم کے استاد محترم بنے) کے پہلو مےں بٹھا دےا گےا ۔ باقی لوگ آمنے سامنے صف آرا ہوگئے ۔ مہمان داری کے جذبے اور افطاری کے شوق سے سرشار لہو رئےے اپنے گھروں سے پھلوں ، سموسوں اور جلےبوں سے آراستہ سےنسےاں اور تھال لئے آ موجود تھے۔ افطاری سے پہلے امام صاحب نے روزہ کشائی کی دعا پڑھی ۔ پھر اس کم عمر بچے کے لئے خصوصی دعا کرائی جس نے موسمی شدائد کے باوجود اللہ سوہنے کے فضل اور اپنے والدےن کی تربےت کے باعث روزہ رکھا۔ پھر امام صاحب نے اسے نصےحت کرتے ہوئے کہا ” دےکھو بےٹا اگر تم اللہ کے حکم پر دن کے خاص حصے مےں حلال چڑوں کو بھی خود پر حرام کر سکتے ہو تو پھر سمجھو کہ عام زندگی مےں حرام کو حرام سمجھ کر اس سے لاتعلق رہنا کس قدر آسان ہوجاتا ہے ۔ امام صاحب کی ےہ نصےحت اور رہنمائی زندگی پرھ اس کے کٹھن دشوار گزار اور آزمائش طلب لمحات مےں منےارہ نور ثابت ہوتی رہے۔ شکر الحمد للہ روزہ ہمےشہ ہی اس کے لئے صبر وشکر کی افزائش اور زندگی کو صراط مستقےم پر آگے بڑھانے کا جذبہ محر کر ثابت ہوا اور پھر نوبت بجنے کی نوبت آن پہنچی۔ صف کے اےک گوشے سے اےک بزرگ آئے اور اس بچے کے اباجی کو رسول پاک سے نسبت رکھنے والی دو عجوہ کھجورےں اور آب زم زم کی چھوٹی سی شےشی پےش کی ۔ ابا جی نے کلمہ شرےف پڑھ کر عجوہ کھجور اور آب زم زم سے اپنے بےٹے کی روزہ کشائی کرائی ۔ اس کھجور کی لازوال مٹھاس اور آب زم زم کا ابدی ذائقہ آج بھی بابے بنے اس بچے کے کام ودہن کو سرشار رکھے ہوئے ہے۔ قارئےن محترم آپ اب تک ےقےنا بابنے اس بچے کو جان چکے ہوں گے ۔ ہاں کی صورت مےں ”رفتار عالم “ کے اس قلمی مزدور کو اپنی دعاﺅں مےں ےاد رکھنے کی درخواست ہے۔

Scroll To Top