ابلیس کا مسکن کہاں ہے ؟ 07-01-2015


جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو ان کی رفیقہ ءحیات بی بی حوا کے ہمراہ جنت سے نکالا تھا تو ان سے کہہ دیا تھا کہ ” زمین پر تمہارا سب سے بڑ ا دشمن ابلیس ہوگا۔“
یہ واقعہ زمینی وقت کے مطابق کتنے ہزار سال قبل پیش آیا۔ اور بنی آدم کی زندگی اس کرہ ءارض پر کب شروع ہوئی اس کے بارے میں ہم صرف قیاس آرائیاں کرسکتے ہیں مگر یہ ضرور ہمارے علم میں ہے کہ یہ وہ عہد تھا جب زمینی زندگی غیر معمولی طور پر طویل ہوا کرتی تھی۔ حضرت آدم ؑ اور حضرت نوحؑ نے تو سینکڑوں برس کی عمرپائی مگر دیگر ایسے پیغمبر بھی تھے جو متعدد صدیوں تک زمین پر ابلیس کے ساتھ برسرپیکار رہے۔
ابلیس تھا کہاں۔؟ انسان جانوروں کو اور زندگی کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے عوامل کو توتسخیر کرتا چلا گیا مگر ابلیس کو وہ تاحال زیر نہیں کرسکا۔ اگر ابلیس آسانی سے تسخیر ہوسکتا تو طوفان نوحؑ نہ آتا اور حضرت موسیٰ ؑ برسہا برس پہاڑو ں اور صحراﺅں میں بھٹکتے نہ رہتے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ” تسخیرِ ابلیس “ کے لئے بالآخر اللہ تعالیٰ نے فخر انبیاءاور رحمت الاالعالمین حضرت محمد کو دنیا میں بھیجا۔اپنے آخری اور فیصلہ کن پیغام کے ساتھ۔
آپ کو دنیا سے گئے کئی صدیاں بیت چکی ہیں مگر انسان آج بھی ابلیس پر قابو نہیں پاسکا۔ بحیثیت رسول کے ایک امتی کے ` میرا ایمان ہے کہ روئے زمین پر معرکہ ءحق باطل میں آخری فتح خدا کے آخری پیغام کے علمبرداروں کی ہی ہوگی۔
لیکن ابلیس ہے کہاں۔؟
اگر ابلیس کاکوئی مسکن ہماری نظروں یا سوچ کی پہنچ میں ہوتا تو مریخ تک جانے والا انسان اسے تباہ کرچکا ہوتا۔
لیکن ابلیس کامسکن کہیںاور نہیں ہمارے اندر ہے۔ ابلیس میرے اندر ہے۔ وہ کبھی میرے دماغ میں براجمان ہوتا ہے اور میرے اندر ایسے ایسے خیالات کوجنم دینے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں جھٹک کر باہر پھینکتے وقت مجھے اپنی تمام ترقوت سے کام لینا پڑتا ہے۔ اور کبھی ابلیس میرے دل میں جا جگہ بناتا ہے۔ اور میرے وجود کو ایسی سمتوں میں کھینچنے کی کوشش کرتا ہے کہ میں کانپ اٹھتا ہوں۔
میرے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ مجھے اپنے اندر رہنے والے ابلیس کی موجودگی کا احساس ہے۔ اور میں اس کے حملوں سے نبردآزما ہونے کی ضرورت سے غافل نہیںہوا۔
یہ جنگ برسہا برس سے جاری ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ میرے اندر ابلیس کے ہر وار کو روکنے کی قوت موجود ہے۔ اس قوت کا نام محمد ہے۔

Scroll To Top