پانامہ لیکس قومی اداروں کا امتحان بن چکا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی کال پر بنی گالہ آنے والے قافلوں کو روکنے کے حکومت جس انداز میں طاقت کا استعمال کررہی وہ یقینا قابل مذمت ہے ۔ خبیر پختوانخواہ کے وزیراعلی پرویز خٹک کے قافلے کو پنجاب کی سرحد پر روک کر جو پیغام دیا گیا جو کسی طور پر حوصلہ افزاءنہیں۔ سیاسی احتجاج میں پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے ذریعہ رکاوٹ پیدا کرکے حکمرانوں نے جو بھی اقدامات اٹھائے اس کے منفی اثرات خود ان کے لیے بہتر ثابت نہیں ہونگے۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ تلخ حقیقت اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ نمایاں ہوئی کہ وزیراعظم نوازشریف کسی صورت پانامہ لیکس کی ایسی تحقیقات کروانے کو تیار نہیں جو دودہ کا دودہ اور پانی کا پانی کرڈالے۔
پانامہ لیکس عالمی مالیاتی سکینڈل ہے جس کے اثرات کئی ملکوں میں دیکھے گے۔ اقوام عالم میں سے بیشتر نے اس مالیاتی سکینڈل کو سنجیدیگی سے لیا اور کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں تحقیقات کا آغاز بھی کیا گیا۔ مثلاً پڑوسی ملک بھارت نے ان افراد کے مالی معاملات کی چھان بین شروع کردی جن کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں۔ ادھر مہذب دنیا میں اس پہلو پر غور خوص کا سلسلہ جاری وساری ہے کہ کیسے ان بڑے کاروباری حضرات کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے جو ٹیکس سے بچنے کے لیے پانامہ جیسے ملکوں میں اپنا سرمایہ چھپائے رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی معاشی حالات سے باخبر حلقے جانتے ہیں کہ حالیہ سالوں میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے بھیانک نتائج آنے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ یعنی کراہ ارض پر ایسے افراد تاحال ختم نہیں ہوئے جن کو دووقت پیٹ بھر کا کھانا میسر نہیں۔ شک نہیں کہ مغربی دنیا میں دولت چھپانا مشکل ہے مگر پھر بھی یہ ثبوت نہیں ملتاکہ ایسا منفی رجحان بالکل ختم ہوگیا ہو۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پانامہ میں عالمی سرمایہ داروں کی کپمنیاں دراصل مغربی دنیا کے دوہرے معیارکا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یورپ میںایسے قوانین تو ہیں جو ٹیکس دینے کے لیے بے تحاشا دباو ڈالنے کا باعث بن رہے مگر ساتھ ساتھ ایسے حربے بھی مغربی دنیا ہی کی دین ہیں جس سے پیسہ باآسانی کسی دوسرے ملک میں منتقل کردیا جائے۔
جاری کھیل میں سب سے زیادہ متاثر ترقی پذیر ممالک ہورہے ہیں جہاں کا حکمران طبقہ پوری منصوبہ بندی کے تحت اپنی دولت بیرون ملک منتقل کرنے کے گھناونے عمل میں ملوث ہے۔ دلچیسپ یہ ہے کہ ناجائز دولت کمانے اور پھر اسے مغربی ملکوں میں رکھنے کے لیے یورپ کے بعض ممالک سہولت کار کا کردار نبھا رہے۔ ان عالمی کھلاڑیوں سے تیسری دنیا کے حکمران طبقہ کے کرتوت ان سے کسی طور پر مخفی نہیںلہذا وہ چالاکی سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر ان کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہیں کہ اہل اقتدار اپنے مال کا بڑا حصہ مغربی ممالک میں ہی رکھیں۔
پانامہ لیکس اس لحاظ سے یقینا نعمت ہے کہ اس کے زریعہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ایسے عناصر بے نقاب ہوئے جو اپنی دھرتی سے بے وفائی کے مرتکب ہیں۔ حکمران طبقہ کا یہ ٹولہ حکومت کرنے کے لیے تو اپنے ملکوں میں ہے مگر ساتھ اپنی ناجائز کمائی دیگر ملکوں میں رکھ کر لطف اندوز ہورہا۔ ادھر مملکت خداداد پاکستان میں پانامہ لیکس کو کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی متعلقہ ادارے اس اہم سکینڈل سے جس لاپرواہی کے مرتکب ہوئے وہ یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہے کہ وہ کہاں تک اس کی تحقیقات کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کے نام سامنے آتے ہی حکومت خود اس عالمی مالیاتی سیکنڈل کی تحقیقات کے لیے قدم بڑھاتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ افسوس تو یہ بھی ہے پاکستان پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، جمیت علماءاسلام ،ایم کیوایم حتیٰ کی جماعت اسلامی بھی قومی تاریخ کے اس اہم سکینڈل کی تحقیقات کے بھرپور مطالبہ کے ساتھ سامنے نہ آئی۔ بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کی حکمت عملی سے ہر پاکستانی کو اختلاف کا حق ہے مگر اس میں شک نہیں ہونا چاہے جس طرح عمران خان اس بدعنوانی کے اس سکینڈل کی تحقیقات کے لیے پورے جوش وخروش کے ساتھ میدان میں موجود ہیں کوئی اور نہیں۔
یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ آخر کب تک ارباب سیاست سیاسی مصلحت سے کام لے کر ان عناصر کے خلاف سینہ سپر نہیں ہونگے جو اس اہم شعبہ میں محض پیسہ بنانے کے لیے فعال ہیں۔ کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی تو حد قائم کرنی ہوگی جس سے آگے نکلنے کی کسی کو اجازت نہ ہو۔ بطور قوم اس رجحان سے یقینا باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں کسی طاقتور کو سزا نہیں ہونی۔ دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران چرچل کا کہا ہوا یہ جملے آج بھی ہم جیسے ملکوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ” اگر برطانوی عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو پھر ہمیں کوئی خطرہ نہیں“۔
قومی تاریخ میں کسی بااثر شخص کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر کی جیلیں کمزور افراد سے بھری پڑی ہیں جبکہ ہر روز کوئی نہ کوئی طاقت ور قانون کا مذاق اڑاتا ہماری نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ عمران خان نے درست کہا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کا امتحان ہے کہ وہ کیوں اور کیسے اس اہم معاملہ میں حق اور سچ کی فتح کو یقینی بناتے ہیں۔

Scroll To Top