اگر نوازشریف نہیں تو راحیل شریف سہی 06-01-2015

گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے دو ہولناک خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایک چھ سالہ بچے کو انتہائی مکروہ اور سفاکانہ درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد دو معصوم بچوں کی لاشیں گندے نالے سے ملیں اور اس قیاس آرائی میں مجھے زیادہ صداقت نظر نہیں آتی کہ وہ کھیلتے ہوئے گرپڑے تھے بہرحال اس شرمناک موضوع پر قلم اٹھانے کے لئے ایک ہی خبر کافی ہے جس میں ایک معصوم بچے کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔
یہ وہ حیوانیت ہے جس کا ارتکاب اب کپکپا دینے والی کثرت سے ہونے لگا ہے۔ لڑکیاں اور عورتیں تو سفاکی اور درندگی کا نشانہ بنا ہی کرتی ہیں ` اب بچے اور بچیاں بھی معاشرے میں آزادی کے ساتھ گھومتے ان حیوانوں کی وحشیانہ بھوک کا شکار ہورہے ہیں۔
اس لرزا دینے والی صورتحال پر ہماری حکومت کو کوئی پریشانی نہیں کیوں کہ نہ تو آج تک کبھی کسی درندے کے پھانسی پر چڑھنے کی خبرآئی ہے ` اور نہ ہی کسی ” وزیر یا تدبیر “ نے شرمندہ ہو کر استعفیٰ دیا۔
گزشتہ دنوں میں نے یہ ٹویٹ کیا کہ اگر ایسے دہشت گردوں کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیںتو کیا ان معصوم بچوں کے والدین فوری انصاف کے مستحق نہیں۔
جب تک یہ ملک درندوں سے پاک نہیں ہوگا درندگی بھی پھیلتی رہے گی۔
اگر پاگل کتوں کا صفایا کرنے کے لئے مہمیںچلائی جاسکتی ہیں تو کیا یہ جانور پاگل کتوں سے زیادہ خطرناک اور قابل نفرت نہیں ؟
اگر نوازشریف ان جانوروں کو ٹھکانے نہیں لگا سکتے ` تو راحیل شریف یہ کام بھی اپنے ذمے لے لیں۔۔۔

Scroll To Top