دہشت گردی کے دو مختلف چہرے! 03-01-2015

میں رﺅف کلاسرا کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے صرف وہ لوگ خائف ہیں جنہیں کسی نہ کسی وجہ سے مکافاتِ عمل یا سزا پانے کا خوف ہے۔
” اگر میں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا اور نہ ہی میرا کوئی ارادہ ہے تو پھر میں کسی عدالت یا کسی سزا سے کیوں ڈروں۔؟“ یہ سوال رﺅف کلاسرا نے ایک پروگرام میں کاشف عباسی سے کیا۔ اس پروگرام میں فواد چوہدری بھی شریک تھے۔ میں یہاں ان کے ہی نقطہ ءنظر پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ وہ معید پیرزادہ کے پروگرام میں باقاعدگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔اُن کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ ایسے مقدمات موجود ہی نہیں جن کے لئے آئین سے اتنے بڑے انحراف کا قدم اٹھایا جائے یا جن سے نمٹنے کے لئے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ضروری ہو۔
اُن کے نقطہ ءنظر کو سمجھنا میرے لئے مشکل نہیں۔ وہ اگرچہ اپنی ” غیر جانبداری “ برقرار رکھناچاہتے ہیں لیکن ان کی وفاداریاں کس جماعت سے ہیں یہ کوئی سربستہ راز نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ آصف علی زرداری کے ماﺅتھ پیس ہیں کیوں کہ ایک ذہین آدمی کسی کا بھی ماﺅتھ پیس نہیں بنا کرتا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فواد چوہدری کے پاس مطالعہ بھی ہے ذہن بھی ہے اور دلائل بھی ہیں۔ وہ ایک ماﺅتھ پیس بننا یا کہلانا ہر گز پسند نہیں کریں گے۔لیکن وہ درحقیقت بڑی ہی واضح سیکولر سوچ رکھتے ہیں۔ اس سیکولر سوچ میں ریاست کے اندر اسلام کے وجود کا قائم رہنا انہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔ یہی وہ اندازِ فکر ہے جو انہیں پی پی پی کے قریب رکھتا ہے۔
مگر کیا ” اسلام “ اِس لئے پاکستان سے نکال دیا جائے گا کہ یہاں ایک طرف سیکولر دانشوروں کی بھرمار ہے اور دوسری طرف سفاک درندوں نے اپنے چہروں پر داڑھیاں سجالی ہیں۔؟
ایسا نہیں ہوگا۔ جہاں تک فوجی عدالتوں سے ڈرنے کا معاملہ ہے تو جناب آصف علی زرداری کے پاس اِس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ انہیں یقینی طور پر یہ امکان نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کسی نہ کسی جرم کی کوئی نہ کوئی کڑی ان کی ذات سے بھی آمل سکتی ہے یا ملائی جاسکتی ہے۔ایک بڑی دہشت گردی پاکستان کی دولت لوٹنے کے معاملے میں بھی تو ہوئی ہے۔ اور اس دہشت گردی کی کڑیاں دولت کے اُن انباروں سے کیسے دور رکھی جاسکتی ہیں جن پرہمارے حکمران سانپ بنے بیٹھے ہیں؟

Scroll To Top