قانونِ مشرکین مکہ کا چلے گا یا محمدﷺ کے خدا کا ؟

میں اپنی آج کی بات دوپہر کے دوبجے قلمبند کررہا ہوں۔ آج اکتوبر 2016ئ کا آخری دن ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آگے چل کر کیا ہوگا۔ اِ’ وقت ”ورتحال یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان اور رانا ثنائ اللہ نے ”وبہ خیبرپختون خوا کو باقی پاک’تان ’ے پوری طرح کاٹ دیا ہے۔ پنجاب میں گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور ج’ پر بھی “بہ ہوتاہے کہ تحریک ان”اف یا پاک’تان عوامی تحریک کے ’اتھ ہمدردیاں رکھتاہے ا’ے گرفتار کیا جارہاہے۔
عمران خان عملی طور پر نظر بند ہیں۔ا’لام آباد ہائی کورٹ نے اپنا فی”لہ ’نادیا ہے۔ یہ فی”لہ حکومت کے موقف کے مطابق ہے۔ لیکن حکومت اِ’ فی”لے کے اُ’ ح”ے پر عملدرآمد کرنے اور کرانے کے موڈ میں نظر نہیں آرہی کہ تحریک ان”اف کے کارکنوں کو گرفتار نہ کیا جائے اور رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔
عدالت کا ایک ریمارک میرے ’امنے ہے ج’ میں کہا گیا ہے کہ ” خان ”احب قانون ’ے بالاتر نہیں۔“ اگر عدالت یہ بھی کہہ دیتی کہ ” حکومت بھی قانون ’ے بالاتر نہیں “ تو کتنا اچھا ہوتا!  اِ ’ وقت جو ”ورتحال نظر آرہی ہے وہ بے حد ت“وی“ناک ہے۔
بات چونکہ قانون کی عملی داری کی جارہی ہے تو مجھے یہاں آنحضرت  کے دور کا وہ مکہ یاد آرہا ہے ج’ میں ابوجہل ، ابو لہب اور ابو ’فیان کا قانون نافذ تھا۔ میں یہاں امیہ ،  “یبہ ، اور عتبہ کا نام بھی لے لوں تو بہتر ہوگا۔اگر آنحضرتﷺ اِ’ قانون کے خلاف آواز بلند نہ کرتے اور اِ’ قانون کے خاتمے اور قانونِ الٰہی کے نفاذ کے لئے ایک تاریخ ’از جدوجہد کا آغاز نہ کرتے تو آج دنیا کا نق“ہ کیا ہوتا ا’ ’وال کا جواب تلا“ کرنا زیادہ م“کل نہیں۔۔۔
یہ در’ت ہے کہ ج’ قانون کے خلاف آنحضرتﷺ  نے آواز بلند کی ا’ کے محافظوں میں ابو ’فیان بھی تھے جنہوں نے بعد میں ا’لام قبول کیا۔ لیکن یہاں ایک بات بہرحال واضح ہے کہ جو قانون بھی قانونِ الٰہی ’ے ٹکراتا ہو ا’ کے خلاف آوا ز بلند کرنا آنحضرتﷺ کے ہر پیروکار کا فرض ہے۔ میں میاں نواز“ریف کو ابو ’فیان ’ے ت“بیہ دوں گا اور میری دعاہے کہ وہ بھی ابو ’فیان کی طرح اپنا ماضی ترک کردیں۔
لیکن یہ نظام بہرحال ایک ای’ے قانون کی بنیادوں پر کھڑا ہے جو چوری اور بدعنوانی کو تحفظ دیتا ہے۔
اگر ہماری عدلیہ کو اپنے وقار کا تحفظ کرناہے تو وہ ’نجیدگی ’ے ا’ بات پر غور کرے کہ ج’ وزیراعظم پر پاناما کی چھاپ لگ چکی ہو اور ج’ پر یہ بھی “بہ ہو کہ ا’ نے پاک’تان کی ’لامتی کو داﺅ پر لگانے والوں کی ’رپر’تی کی ہے، اُ’ وزیراعظم کی موجودگی میں قانون کی حکمرانی کی’ے قائم ہو’کتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عدالت ج’ لاک ڈاﺅن ’ے   تحریک ان”اف کو روکنا چاہتی تھی حکومت ا’ لاک ڈاﺅن پرعملدرآمد کرچکی ہے۔ا’لام آباد اور راولپنڈی میںعملاً    لاک ڈاﺅن ہوچکا ہے۔
ٹی وی پر جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ ہماری عدلیہ کی نظروں ’ے پو“یدہ نہیں ہوں گے۔
اگر اِن مناظر پر عدلیہ کی گردن نہیں جھکی تو پھر قوم یہ ’مجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ عدلیہ بھی ابو ’فیان ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کے قانون کا ح”ہ بن چکی ہے۔
خدا نہ کرے کہ ہماری عدلیہ ای’ی ”ورتحال پیدا ہونے دے۔۔۔

Scroll To Top