مہمند ڈےم۔۔ نصف صدی کا قرض پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی ےہ بات تو اگر مےرا نہےں بنا نہ بن، اپنا تو بن

  • اےک گہری سازش کے تحت پاکستان کو آبی ذخائر سے محروم رکھا گےا ۔ تعمےر ڈےمز کے اےسا کا سہرا ےقےنا سابق جسٹس ثاقب نثار کے سر بندھتا ہے۔ تاہم قدرت نے اس کے افتتاح کی عزت اےک دوسرے بطل جلےل اور رجل رشےد شان پاکستان جناب عمران خان کے حصے مےں لکھ دی ۔ پاکستانی قوم بھی اس عظےم منصوبے کی شروعات کے لےے اپنے عطےات کے حوالے سے لائق مبارک باد ہے۔ گزشتہ روز جناب عمران خان نے مہمند ڈےم کا افتتاح کر دےا۔ اس سے پہلے ےہ فرےضہ جنوری کے مہےنے مےں ادا کےا جانا تھا مگر باوجہ اسے موخر کرنا پڑا اس نسبت سے 17جنوری2019کو شائع ہونے والے مےرے کالم کو قندمکرر کے طور پر نذر قارئےن کےا جاتا ہے۔

مہمند ڈےم ۔۔ عالمی شائی لاک اور انٹر نےشنل آئےل اےنڈ آرمامنٹ مافےاز اےک بار پھر ہم پر دانت نکلوسنے لگے ہےں ۔ سونے کی اےک چڑےا ان کے ہاتھ سے نکلنے جارہی ہے۔ ےہ مافےاز سال ہا سال سے اس چڑےا کو دبوچے رکھنے کے بہت جتن کرتے رہے تھے۔ ان مافےاز مےں تےل بےچنے والوں کے کارٹلز انتہائی چالاکی مکار ی اور عےاری سے پاکستان کو آبی ذخائر سے دور رکھنے مےں کامےاب ہوتے چلے آرہے تھے۔ رشوت، کک بےکس، کمےشن اور دےگر مراعات کے گولڈن پےکج ہر اس صاحب حکم کے لئے حاظر رہتے جو ان کے مفادات کی نگرانی مےں پےش پےش رہتا۔ ان آئےل کارٹلز کے مفادات کےا تھے ےا ہےں؟ تھرمل پاور کا فروغ ! ےعنی پاکستان تےل سے بجلی پےدا کرنے کے نظام سے جڑا رہے۔ اور ےوں ان کے تےل کی تجارت ترقی کرتی رہے۔ ےہاں اس تلخ حقےقت کو بھی ےاد کر لےا چاہےے کہ اس تمام ماہ وسال مےں جب جب ملک مےں بجلی پےدا کرنے کے سستے ذرےعے ےعنی ہائےڈروپاور کے لےے مطالبہ سامنے آےا تو ان عالمی شائی لاکھوں اور آئےل کارٹلز نے اسے مختلف ہتھکنڈوں سے دبانے کی کامےاب کوششےں کےں۔ ان کی اس کامےابی مےں ان کے بےن الاقوامی اےجنٹوں اور لابےوں کے علاوہ علاقائی اور مقامی ےعنی ملکی اےجنٹوں نے بھی انتہائی غدارانہ کردار ادا کےا۔ اس ضمن مےں ہمارے ہاں کے نام نہاد ترقی پسند حلقے اور سےاسی پرےشر گروپس مختلف حےلوں بہانوں سے رکاوٹےں کھڑی کرتے رہے۔ کالا باغ ڈےم کا عظےم منصوبہ اسی شورا شوری کی بھےنٹ چڑھ گےا ماضی بعےد مےں ہمارے ہاں نےشنل واٹر بورڈ کا کردار بھی بہت محل نظر رہا اس موضوع پر تفصےلی اظہار خےال پھر سی۔
ےہ تو اللہ بھلا کرے مرحوم صدر اےوب خان جنہوں نے انتہائی دوراندےشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اقتدار کے دوران فقط 9سال کی مختصر مدت مےں اس ملک کو سات چھوٹے بڑے مےگا ڈےم تعمےر کر دئےے۔ جن کی تفصےل پر اےک نظر ڈالئے اور مرحوم صدر کی روح کے اےصال ثواب کے لئے دعا فرمائےے۔
(1) وارسک ڈےم ، 1960(2)منگلا ڈےم ، 1961، (3) سملی ڈےم ، 1962، (4) راول ڈےم 1962 ، (5) حب ڈےم ، 1963 (6) تربےلا ڈےم، 1968، (7) خان پور ڈےم ، 1969،
صدر اےوب خان کے بعد قدرت نے پاکستان کو اےک دوسرا بطل جلےل چےف جسٹس آف پاکستان عزت مآب ثاقب نثار کی صورت مےں عطا کےا۔ بظاہر جن کا منصب عدل وانصاف کی رسانی ہے مگر ہمارا ہی آئےن انہےں ےہ اختےار بھی دےتا ہے کہ اگر حکومتی ےا رےاستی شعبے مےں کسی گوشے مےں کسی درجے پر عوامی حقوق تلف ےا سلب ہو رہے ہےں تو اس کا ازالہ کرنا ان کے دائرہ کار مےں آجاتاہے۔
مجھے لاہور مےں منعقدہ اس تقرےب کا احوال ےاد ہے مےں محترم ثاقب نثار صاحب نے اپنے ماہر قانون ساتھےوں کے روبرو اپنا اےک روحانی تجربہ شےئر کےا تھا۔ آپ نے جو کچھ کہا اس کا مفہوم ےہ ہے کہ مےں نے اپنے اہل خانہ سے کہہ دےا ہے کہ آنے والا اےک سال آپ کا نہےں قوم کے لئے وقف ہوگا۔ اور وہ دن اور آج کا دن انہوں نے پےچھے مڑ کر نہےں دےکھا۔ صحت، تعلےم ، قبضہ گروپ مافےاز اور آبی وسائل کے شعبوں کے مسائل انہوں نے مخصوص مفادات ےافتہ لابےوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود اپنا عظےم مشن جاری رکھا۔ انہوں نے ملک مےں آبی وسائل کی فراہمی ےقےنی بنانے کے لئے ڈےمز کی تعمےر کے لئے اےک فنڈ بھی قائم کےا۔ جس مےں ملکی اور بےرونی سطح پر عوامی شرکت سے انہوں نے اب تک ڈےمز فنڈ کے لئے لگ بھگ 8ارب روپے جمع کر لئے ہےں۔
اس تناظر مےں اگر ہم ذرا تقابلی جائزہ لےں تو اس ملک پر مسلط طبقہ بدمعاشےہ کے نام نہاد ”جمہوری“ ادوار مجرمانہ غفلت، تساہل اور فرائض سے چشم پوشی سے عبارت رہے ہےں۔ صرف چند اےک محترم استثناﺅں کے ساتھ ملک پر غالب دورانےے مےں آنے والی حکومتوں نے محض ڈنگ پٹاﺅ اقدامات تک خود کو محدود رکھا۔ شرےف برادران اور زرداری ٹولے نے تو ”باری کی ےاری“کے اےک غےر تحرےری معاہدے کے تحت ملک کو بہت بےدردی سے لوٹا۔ آبی ذخائر کی تعمےر چونکہ طوےل مدتی ہوتی ہے اور اےک حکومت کا دورانےہ پانچ سال کو محےط ومحدود ۔ چنانچہ ان مفاد پرست حکمرانوں نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے کبھی سوچا ہی نہےں تھا اور اگر کبھی کسی گوشے سے آبی ذخائر کی تعمےر کی آواز آئی بھی تو اسے جےسا کہ مےںپہلے عرض کر چکا ہوں عالمی مافےاز اور تےل کے بےن الاقوامی کارٹلز کے ذرےعے سختی سے دبا دےا جاتا رہا اےک طرف آبی وسائل مےں کمی کے سبب سے ہمارا ملک قحط سالی کی طرف ڈھکےلا جارہا تھا تو دوسری طرف پوری دنےا مےں باشعور اور قومی درد سے مالامال حکومتےں اپنے ہاں مستقبل کی ضرورتوں کی کفالت کے لئے دھڑا دھڑا آبی ذخائر اور ڈےمز تعمےر کئے جارہے تھے۔ دور نہ جائےے بھارت مےں 4ہزار سے زےادہ بڑے ڈےمز بن چکے ہےں اور وہ ہمارے درےاﺅں پر مزےد آبی ذخائر بنائے جارہا ہے ۔ ہمساےہ ملک چےن مےں ڈےموں کی تعداد 23ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔ جبکہ امرےکہ 92ہزار ڈےموں کے ساتھ مےں دنےا مےں سرفہرست ہے۔ اس صورت حال کے برعکس ہمارے پاکستان مےں50سے 60سال پہلے اےوبی دور مےں تعمےر کردہ 7بڑے ڈےموں کے علاوہ تھوڑی گنجائش کے صرف 150ڈےمز ہےں جو ملک کی زرعی اور برقی ضرورےات کی کفالت کے لئے ناکافی ہےں ےہاں مجھے اقبال کا اےک شعر ےاد آتا ہے۔
پانی پانی کر گئی مجھے قلندر کی ےہ بات
تو اگر مےرا نہےں بنا نہ بن اپنا تو بن
مقام اطمےنان نے کہ قدرت نے ہمےں اےوب خان کے بعد عزت مآب چےف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب کی صورت مےں اےک بطل جلےل عطا کےا جنہےں اپنے من مےں ڈوب کر سراغ زندگی پالےنے کا ےہ روحانی تجربہ ہوا کہ انہوں نے ماضی کے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کے ازالے کے لئے دےگر اصلاحی اقدامات کے علاوہ ملک مےں ڈےمز تعمرے کرنے کا بےڑا بھی اٹھاےا ۔ مہمند ڈےم اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جسے قوم کے اےک تےسرے بطل جلےل جناب عمران خان اپنے دور حکومت مےں پاےہ تکمےل تک پہنچائےں گے۔

Scroll To Top