بلاول بھارت کی زبان بولنے لگے:حکومت آئی ایس پی آر سے پالیسی بیان دلوانے سے باز رہے،پی پی پی چیئرمین

  • جج،جر نیل اور سیاست دان کےلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے، چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے لیکن غیر جمہوری طریقے اختیار کیے گیے تو پھر دیگر آپشنز موجود ہیں
  • فوجی عدالتوں، 18ویں ترمیم اور صدارتی نظام پر موقف نہیں بد لینگے ، دھمکیوں اور گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں، پریس کانفرنس

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے واضح کیا ہے کہ ہم دھمکیوں اور گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں، جو کر ناہے کرلو ،فوجی عدالتوں، 18ویں ترمیم اور صدارتی نظام پر موقف نہیں بدلیں گے، ڈیل کی ضرورت جمہوری معاشرے میں نہیں ہونی چاہیے، اگر رول آف لاءقائم کریں تو ڈیل ہی ختم ہوجائےگی،اگر آپ آئی ایم ایف سے معاہدے ایوان میں نہیں لائینگے تو معاملے کو ہر فورم پر زیر بحث لائینگے اور مزاحمت کرینگے، نیب کا کالا قانون اور معیشت نہیں چل سکتے ہیں ،اگر آپ چھوٹے تاجروں اور ملز مالکان کو تنگ کرینگے تو معیشت کیسے چلے گی ؟بے نامی اکاو¿نٹس پر دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، جہانگیر ترین کے پاک اور باقی لوگوں کے ناپاک ہیں ؟وزیراعظم کو تعلیم، داخلہ اور خارجہ سے متعلق سیاسی بیانیہ ترجمان پاک فوج کی طرف سے نہیں دلوانا چاہیے تھا ،اس طرح کی پریکٹس سے ادارے متنازعہ بن جاتے ہیں، چاہتے ہیں موجودہ حکومت آئینی مدت پوری کرے،اگر غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا تو پھر تمام آپشن موجود ہیں۔ پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ میری ہر تقریر میں معیشت کی بات ہوتی ہے، ہم بتانا چاہتے ہیں حکومت کی معاشی پالیسی عوام دشمن ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں، عام پاکستانی کا جینا مشکل بنادیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم خود مان گئے ہیں کہ معاشی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں تھی ، اسی وجہ سے اسد عمر کو ہٹایا گیا ،ان میں اتنی شرم نہیں کہ عوام سے معافی بھی مانگیں ۔ انہوںنے کہاکہ جتنا درد 9 ماہ میں عوام کو دیا گیا اتنا کبھی تاریخ میں نہیں دیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ آپ نے جو غیر ملکی چندہ لیا اور قرض لیا اس سے عوام پر مزید بوجھ بڑھا دیا جائےگا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم کب تک ان کو برداشت کرینگے اور ہر مہینے گیس بل بڑھتے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آپ نے اگر ریونیو بڑھانا ہے تو جہانگیر ترین پر کیوں ٹیکس نہیں لگاتے ؟۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ امیروں کےلئے ایمنسٹی لیکن غریب کیلئے مہنگائی دی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ رمضان آرہا ہے ،آپ کا رمضان پیکیج کہاں ہے؟ ۔انہوںنے کہاکہ میں حیران ہوں کہ آپ نے معاشی ناکامی تسلیم کرلی مگر آپ کا مشیر خزانہ ایوان تک میں نہیں آیا ۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف سے کیا ڈیل کی جارہی ہے، ؟ اسے ایوان میں لائیں اور وہاں سے پاس کرائیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر آپ یہ معاہدے ایوان میں نہیں لائینگے تو ہم اسے برداشت نہیں کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اس معاملے کو ہر فورم پر زیر بحث لائینگے اور مزاحمت کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ دنیا کی معیشت گراوٹ کا شکار تھی مگر اس وقت پیپلز پارٹی نے مشکل حالات کے باوجود عوام کا خیال رکھا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کم ترین گروتھ ریٹ کے باوجود ریکارڈر روزگار کے مواقع، سو فیصد سے زائد تنخواہیں بڑھائیں اور انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا ۔انہوںنے کہاکہ آپ بھی یہ کرسکتے ہیں مگر کیوں ایسا نہیں کررہے ہیں ؟ ہر سیکٹر میں آج بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عوام کے پیٹ اور جیب میں اب کچھ نہیں ہے کیا ایسی صورت حال آپ عوام پر بوجھ بڑھائینگے ؟۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ نیب کا کالا قانون اور معیشت نہیں چل سکتے ہیں ،اگر آپ چھوٹے تاجروں اور ملز مالکان کو تنگ کرینگے تو معیشت کیسے چلے گی ؟کیا جو پاکستانی ٹیکس نہیں دیتا وہ چور اور ڈاکو ہے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ بے نامی اکاو¿نٹس پر دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، جہانگیر ترین کے پاک اور باقی لوگوں کے ناپاک ہیں ؟ ۔ انہوںنے نیب پر تنقید کرتے کہاکہ یہ ادارہ مشرف نے سیاسی انتقام کے لئے بنایا گیا اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو توڑنے کے لئے اس قانون کو بنایا گیا ،احتساب ہوگا، شفاف ہوگا اور کرپٹ عناصر کو صحیح معنوں میں پکڑا جائےگا تو ملک ترقی کرےگا ۔ انہوںنے کہاکہ اگر صرف سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنائینگے تو پھر یہ کالا قانون ہے ۔انہوںنے کہاکہ جونیجو نے جیسے کہاتھا کہ مارشل لاءاور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ایسے ہی کالا نیب قانون نہیں چل سکتا ۔ انہوںنے کہاکہ امید ہے بریگیڈیئر (ر)اسد منیر کو چیف جسٹس انصاف دلائینگے۔ انہوںنے کہاکہ جج،جر نیل اور سیاست دان کےلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں گرفتاری کی دھمکیوں سے آپ ڈرا سکتے ہیں ، ہم اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم فوجی عدالتوں 18 ویں ترمیم پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیںگے، آپ نے جو کرنا ہے کرلیں ہم دباو¿ میں نہیں آئینگے ۔انہوںنے کہاکہ آپ کے دوست کے دوست کے دوست کو بھی گھسیٹیں گے ؟ اس طرح سے دباو¿ ڈالیں گے تو ہم پھر بھی نہیں گھبرائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر ڈنشا کا کیا قصور تھا؟ شرجیل میمن کو صرف سیاسی انتقام کی بجائے کیوں جیل میں ڈالا گیا ہے ؟ناانصافی اور دوغلا نظام نہیں چل سکتا۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا خود جاتا ہے انصاف مانگنے کےلئے؟ لیکن انصاف نہیں ملتا ۔ انہوںنے کہاکہ آغا سراج درانی کو جھوٹے کیس میں اسلام آباد میں گرفتار کرتے ہیں مگر پی ٹی آئی کے رہنماو¿ں کو ایسے ہی کیسز میں گرفتار نہیں کیا جاتا ۔ انہوںنے کہاکہ رول آف لاءکو فالو کرنا بہت ضروری ہے ، ہم نہیں چاہتے ادارے متنازع ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں تمام ادارے اپنا اپنا کام کریں اور عوام کو ریلیف فراہم ہو ۔ انہوںنے کہاکہ آپ کو حکومت کرنی ہے تو خدمت کی حکومت کریں ہم آپ کو قابل احتساب بنائینگے ۔ انہوںنے کہاکہ آپ نے جتنا بھی دباو¿ ڈالنا ہے ڈال لیں ، ہمارے خاندان اور پارٹی کے تمام افراد کو بھی گرفتار کرلیں ہم اپنے اصولوں سے نہیں اٹھیں گے ۔انہوںنے کہاکہ میرا پیغام صرف وزیراعظم کےلئے ہے کہ وہی حکومت چلا ئیں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری جماعت صرف پیپلز پارٹی کو ہی سپورٹ کرتی ہے اور میں اس کا چیئرمین ہوںدیگر تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت، انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں یا کریں تو انکی حمایت ضرور کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کو تعلیم، داخلہ اور خارجہ سے متعلق سیاسی بیانیہ ترجمان پاک فوج کی طرف سے نہیں دلوانا چاہیے تھا ،اس طرح ادارے متنازعہ بنتے ہیں، تعلیمی پالیسی وزیر تعلیم، داخلہ امور اور خارجہ امور سے بات چیت بھی مذکورہ وزرا کو کرنی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں نوجوانوں اور جو دہشت گردی کا متاثر ہوئے ان کی سپورٹ کرنی چاہیے، ہمیں فاٹا کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ فوجی آپریشن کے بعد وہاں کے نوجوان انتہاءپسندی کی جانب جاسکتے تھے مگر وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی راہ پر چلے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ریاست اور حکومت کو انہیں مزید انگیج کرنا چاہیے، اس سلسلے میں معاونت کے لئے تیار ہوں۔ انہوںنے کہاکہ کچھ ہسپتال صوبائی حکومت اور کچھ کے ایم سی کے انڈر ہیں، کوتاہی جہاں بھی ہو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بہت سخت بیمار ہیں، (ن) لیگ البتہ موجود ہے، سیاست تمام جماعتوں کی چل رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈیل کی بات صرف تحریک انصاف کرتی ہے ، ڈیل کی ضرورت جمہوری معاشرے میں نہیں ہونی چاہیے، اگر رول آف لاءقائم کریں تو ڈیل ہی ختم ہوجائےگی ۔ انہوںنے کہاکہ ہم تحریک سمیت تمام آپشنز پر غور کرسکتے ہیں ، ہم سسٹم چلانا چاہتے ہیں لیکن غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا تو پھر تمام آپشن موجود ہیں۔

Scroll To Top