چلتے ہوتو چےن کو چلئےے (تےسری وآخری قسط)

  • وزےر اعظم پاکستان جناب عمران خان تےن روزہ دورہ پرروانہ ہوئے تو وہ اپنی سوچوں کو اپنے روحانی وتہذےبی ورثے سے سرشار کرتے ہوئے اپنے وطن کی ترقی، سلامتی وخوشحالی کے عظےم مقصد کے حصول کا عزم لئے ہوئے تھے ۔ بی آر آئی۔ 2کی مذاکراتی سرگرمےوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قائد نے اپنے چےنی ہم منصب کے علاوہ ، صدر چےن اور دےگر قومی اداروں کے فےصلہ سازوں ،آئی اےم اےف اور عالمی بےنک کے اعلیٰ عہدےداروں سے بھی ملا قاتےں کےں۔ چےنی حکام کے ساتھ ہونے والے معاہدات کی رو سے پاکستان کی 313مصنوعات کو چےن کی ڈےوٹی فری منڈےو ںتک رسائی حاصل ہوگی۔ مزےدبرآں چےن کراچی سے پشاور تک رےلوے کاڈبل ٹرےک قائم کرنے مےں بڑا حصہ ڈالے گا ۔ جس سے پاکستان بلاشبہ خوشحالی کے نئے امکانات سے مالا مال ہوجائے گا۔

اس سلسلہ تحرےر کے پہلے جزو ہی مےںعرض کر دےا گےا تھا کہ وزےراعظم پاکستان جناب عمران خان کا دورہ چےن محض اےک آمدروفت کا روائتی عمل نہےں بلکہ ہمارے ثقافتی وروحانی ورثے کے تسلسل کا جزو لاےنفک ہے۔جس کا نکتہ ماسکہ ہے تحصےل علم ، فروغ علم اور نفاذ علم کا آمےزہ اور اس کی روشنی مےں اصلاح احوال کے لئے پر عزم جدوجہد ! عمران خان چےن گئے اور 25تا27اپرےل اس بےن الاقوامی اقتصادی کانفرنس مےں شرکت کی جو تارےخ مےںبی آر آئی 2کے عنوان سے ہمےشہ ےاد رکھی جائے گی۔ ےوں تو اس کانفرنس کے نتےجے مےں دنےا کے تےن درجن سے زائد ممالک کے مابےن زراعت ، صنعت و تجارت کے سبھی شعبوں مےں اقتصادی اشتراک کار کا سلسلہ دراز ہوگا بلکہ پاکستان اور چےن اور پاکستان اور دوسرے شرکائے کانفرنس کے مابےن بھی زندگی کے ہر شعبے مےں پےداواری عمل تےز تر ہو جائے گا روئی روزی کے نت نئے امکانات اور مواقع کھلےں گے اور ےوں مہنگائی ، بے روزگای اور جرائم پردوری مےں کمی ہی نہےں خاتمہ بھی ےقےنی ہوجائے گا ۔ پوچھا جا سکتا ہے جناب عمران خان زےر تبصرہ ، کانفرنس کے باطن سے پاکستان کے لئے کےا لائے ہےں مےں اس سوال کے جواب کو دو حصوں مےں تقسےم کرتے ہوئے قارئےن محترم کی خدمت مےں پےش کروں گا۔ سب سے پہلے پاک چےن تعاون کے حوالے سے پاکستان کو مےسر آنے والے اقتصادی فوائد کا احوال سن لےجئے۔ پاکستان اور چےن کے مابےن متعدد نئے معاہدات پر دستخط کئے گئے ہےں ان مےں سے اےک کے مطابق تارےخ مےں پہلی بار 313پاکستانی مصنوعات کو ڈےوٹی فری سہولت کے ساتھ چےنی منڈےوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔ اور ےہی نہےں اس وقت پاکستان اور چےن کے مابےن جو گہرا جھکاﺅ چےن کی طرف ہے وہ مستقبل مےں بدل کر پاکستان کے حق مےں ہو جائے گا۔ ےاد رہے اس وقت پاکستان اور چےن کے مابےن درآمدات وبرآمدات کا جو تناسب پاےاجاتا ہے وہ کچھ ےوں ہے ۔ پاکستان سے چےن کی درآمدات محض 1.83ارب ڈالر کے لگ بھگ ہےں ا س کے برعکس پاکستان چےن سے سوا اٹھار ہ ارب ڈالر کا مال اسباب درآمد کرتا ہے۔ گوےا اس وقت پاکستان چےن کے مقابلے مےں دس بارہ گنا گھائے کی طرف ہے۔ حالےہ معاہدے کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ آنے والے سالوں مےں پاکستان اپنی مصنوعات مےں اضافے اور چےن تک ڈےوٹی فری رسائی کی سہولت کی صورت مےں برآمدات مےں خاطر خواہ اضافہ کرنے مےں کامےاب ہوجائے گا۔ اگر ملکی صورتحال کی سنگےنےوں کا جائزہ لےاجائے تو دوست ملک چےن کے لئے 313پاکستانی مصنوعات کی چےن کی ڈےوٹی فری منڈےوں تک مےسرآنے والی رسائی کسی نعمت نمبر مترقبہ سے کم نہےں۔ اس سے پاکستان مےں ملک گےر سطح پر کام کاج اور روٹی روزی کے نئے امکانات روشن ہوں گے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی مےں بھی قابل لحاظ حد تک کمی پےدا ہوگی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مےں بھی خاطر خواہ اضافہ ےقنی ہے۔ ےہاں البتہ اےک اہم پہلو کی نشاندہی ضروری ہے اور اس کا تعلق دےانت اور شفافےت سے ہے۔ کس قدر ستم کا پہلو ہے کہ اسلام کی پےروکار قوم کے کردار کا اس حوالے سے کردار غےرمعمولی حد تک محل نظر ہے ۔ ہانگ کانگ ےا سنگاپور اےرپورٹوں مےں سے کسی اےک مقام پر قائم کمرشل مےوزےم مےں اےک شو کےس پاکستان کے لئے بھی وقت ہے اس کے سٹےنڈ پر چن اےنٹےں دھری ہےں اور اوپر لکھا ہے ”پاکستان کپاس“ آپ معاملے کی سنگےنی سمجھ گئے ہونگے ۔ ماضی کے کسی دور مےں ہمارے ہاں کے کسی برخود غلط اور بے ضمےر برآمد کنندہ نے کپاس کی بورےوں مےں پتھر ڈال کر وزنی بڑھا دےا ہوگا چند ٹکوں کے لالچ مےں اس بدکردار شخص نے جہاں ہمارے ملک اور پوری پاکستانی قوم کو بدنام کرا دےا وہاں آئندہ کے لےے عالمی تجارت کے شعبے مےں پاکستان کی ساکھ بھی بری طرح مجروح کرواڈالی۔عمران حکومت اور بطور خاص درآمد وبرآمد کے شعبے مےں چےک اےنڈ بےلنس کا نظام مزےد موثر بنا ناوقت کی اہم ترےن ضرورت ہے ۔ا گر اس سلسلے مےں کوئی نرمی ، ڈھےل ےا جھول دکھائی گئی تو ماضی کی طرح اےک بار پھر ہم تو ذلت مےں جاگرےں گے۔ عمران خان کو چاہےے کہ اس باب مےں تمام سٹےک ہولڈرز کو اعتماد مےں لے کر اےک نہاےت موثر حکمت عملی وضع کرے جو شفافےت اور دےانت کے ذرےعے اپنے درآمدی وبرآمدی سسٹم کو استوار کرے۔ جناب عمران خان کے موجودہ دورہ چےن کا اےک اہم ثمر چےنی اشتراک کے ساتھ کراچی تا پشاور رےلوے کے ڈبل ٹرےک کی تعمےرہے ا س اعلیٰ نوعےت کے انفرسٹرکچر کے نتےجے مےں ےہاں ٹرےن160کلو مےٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی اس پےش رفت کے نتےجے مےں جہاں پاکستان رےلوے نے اپنے موجودہ خسارے سے نجات پائے گی بلکہ مال برداری کے وسےع انتظامات کے ذرےعے اپنی آمدنی اور عوامی سہولتوں مےں اضافے کا اہتمام بھی کر ئے گی ۔ بےن الاقوامی کانفرنس کی اےک نماےاں بات امرےکہ اور بھارت کی غےر حاضری بھی تھی ۔ بھار ت چند سال پہلے ہونے والی بی آر آئی Iسے بھی غےر غےر حاضر رہا تھا ۔ ےہ پاکستان کی وسےع المشربی اور علاقے مےں سلامتی کے فروغ کا جذبہ ہی ہے جس کے تحت جناب وزےراعظم نے بھارت کو مشور ہ دےا ہے کہ وہ بی آر آئی اور سی پےک منصوبوں مےں حصہ لےنے پر سنجےدگی سے غورکرے ۔ اس سے ےقےنا بھارت کے عوام کو بالخصوص اور خطے کے عوام کو بالعموم بےش از بےش فوائد مےسر ہوں گے۔
مقام اطمےنان ہے کہ جناب عمران خان اپنے تدبر، تفکر اور حسن کارکردگی کے ساتھ بی آر آئی2کے باطن سے اپنے ملک پاکستان کے لئے بےش از بےش فوائد کشےد کرامات مےں کامےاب دکاندار ٹھہرے ہےں۔

Scroll To Top