کے پی کے حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی ،محمودخان

  • وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس؛طلباءکیلئے کیریئر کونسلنگ، کالجز میں ایوننگ کلاسز کے اجراءاور تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی ہدایت
  • یونیورسٹیز میں سٹاف کی کمی دور کرنے،سستی تعلیم کو یقینی بنانے اور تمام ضروری سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کی بھی ہدایت

پشاور(الاخبار نیوز) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے کالجز میں ایوننگ کلاسز شروع کرنے ، طلباءکو آٹھویں جماعت کے بعد کیریئر کونسلنگ دینے اور اسناد کی تصدیق کے آئن لائن سسٹم کے لیے کارآمد طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے ، کیر یئر کونسلنگ سے طلباءاپنے مستقبل کا بہتر تعین کر سکیں گے ۔انہوںنے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کی آگاہی پر پوری توجہ مرکوز کی جائے ۔طلباءکو ایڈ جسٹ کرنے کیلئے رینٹ بلڈنگز کو استعمال میں لانے کیلئے متعلقہ محکمہ ہوم ورک یقینی بنائے۔ صوبے کی یونیورسٹیز میں طلباءکیلئے سستی تعلیم اور دیگر سہولیات مہیا کی جائیں۔ طلباءکے کالجز میں ایڈجسٹمنٹ کیلئے حل نکالا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں سٹاف کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائےگا، طلباءکیلئے سکالر شپ دئےے جائےں گے، صوبے میں ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ، سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید و دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے اجلاس کو ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے فنکشن اور ساخت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو محکمہ کیلئے طے شدہ کارکردگی،آخری چھ ماہ کی کارکردگی، اگلے تین مہینوں کی منصوبہ بندی اور اہداف ، تجویز کردہ اقدامات اور ریفارمز ، سالانہ اہداف جبکہ ہائیر ایجوکیشن کی پانچ سالہ منصوبہ بندی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ ماہانہ پچاس کالجز کی مانیٹرنگ ، سینئر افسران کے کالجز میں ماہانہ دس ویزٹس، سہ ماہی بنیادوں پر پالیسی میکنگ کونسل میٹنگ کی جاتی ہے، کالجزکے اساتذہ کیلئے لازمی تربیت کا اہتمام کیا جانا ہے ، کیلئے سال میں 14 تربیتی سیشن ہوتے ہیں ،استعداد کار میں اضافے کے لئے ٹریننگ جوکہ سالانہ پانچ ٹریننگ ہیں، طلباءکی کونسلنگ اور انکی کیرئیرجوکہ سالا نہ18کالجوں میں پانچ سیشن ہوتے ہیں، کالجز میں منشیات کی روک تھام کیلئے آگاہی مہم جوکہ سال میں ہر کالج میں دو دفعہ منعقد کی جارہی ہے ۔ قبائلی اضلاع میں منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی توسیع جو کہ سالانہ 20کالجز میں کی جارہی ہے ، آن لائن ایڈمیشن سسٹم ، بائیومیٹرک اٹنڈنس منیجمنٹ سسٹم کی توسیع ، میرٹ سکالر شپ اور سالانہ پچاس طلباءکیلئے ٹیلنٹ سپورٹ پروگرام متعارف کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن بل ڈرافٹ کیا گیا ہے جو کہ محکمہ قانون میں جانچنے کےلئے بھیجا گیا ہے اس بل کو کابینہ کے سامنے جلد رکھا جائیگا، کوالٹی اشورنس یونٹ کا قیام ہو گیا ہے ، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کیلئے طے شدہ کارکردگی کے بنیادی محرکات جو کہ 2016سے زیر التواءتھے، کو حتمی شکل دی گئی ہے۔عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں پختونخوا اکنامک پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میںلایا گیا ہے، کامرس کالجز میں ہوٹل اینڈ ٹووارزم ڈیپارٹمنٹس کیلئے فیزیبیلیٹی کی گئی ہے ، چارسدہ میں پبلک لائبریری کا قیام کیا گیا ہے ۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج جلوزئی اور گورنمنٹ ڈگری کالج کوہ دامن پر تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے اور یہ کالجز مکمل طور پر فنکشنل بھی ہیں، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کوہاٹ، مردان، گورنمنٹ جہانزیب پوسٹ گریجویٹ کالج سوات ، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ہری پور میںبیچلر آف سائنس بلاکس کی تعمیرات مکمل کی گئی ہیں اسی طرح تمام جنرل اور کامرس کالجز میں پانی کی ٹینکیوں کی صفائی ، منشیات کی روک تھام کے لئے آگاہی مہم ، کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت صوبے کے تمام کالجز میں شجر کار ی مہم ، تمام کالجز میں باتھ روم کی مرمت اور صفائی عمل میں لائی جا چکی ہے ۔ خیبرپختونخوا ایجوکیشن ایمپلائز فاو¿نڈیشن ایکٹ 2018کو پاس کیا گیا ہے جوکہ 1986سے زیر التواءتھا ۔ آن لائن پیمنٹ اور ویب سائٹ کا اجراءکیا گیا ہے ، آن لائن ایڈمیشن سے ابتک 1کروڑ روپے کی آمدنی ممکن ہوئی ہے، اگلے تین مہینوں میں آن لائن ایڈمیشن سسٹم کو بی ایس لیول تک توسیع دی جائے گی، محکمہ ایجوکیشن کے ایمپلائز کے 2169بچوں کو میرٹ سکالر شپ دی گئی ہے ۔ صوبے کے تعلیمی محکموں میں Top-10 پوزیشن ہولڈرز کےلئے 60نقد انعام ، محکمہ تعلیم کے ایمپلائز کے 60بچوں کے لئے ٹیلنٹ سپورٹ پروگرام اور محکمہ تعلیم کے60 ایمپلائز کیلئے جو کہ کینسر مرض میں مبتلاءتھے کو مالی معاونت دی گئی ہے ۔ 160میل فی میل اساتذہ کو مخصوص ٹریننگ دی گئی ہے ، پبلک لائبریریز میں سیکنڈ شفٹ کا اجراءکیا گیا ہے ، کامرس کالجز میں آن لائن ایڈمیشن سسٹم کی توسیع کی گئی ہے ، 104کالجز میں ڈیجیٹل لائبریریز تک رسائی دی گئی ہے ، محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں سالانہ ترقیاتی پروگرام مینجمنٹ سافٹ ویئر جوکہ چیف پلاننگ آفس میں انسٹال کیا گیا ہے ۔ 99 گریجویٹس طلباءکو چائنا کے تین مختلف یونیورسٹیز میں چا ئنیز زبان سیکھنے کیلئے سکالرشپس دیئے گئے ہیں۔ 40 مزید طلباءکو پی ایچ ڈی سکالرشپ کیلئے چین بھیجا گیا ہے ۔ لوکل طلباءکیلئے مزید 500 ان لینڈ سکالرشپس جلد مہیا کئے جائیں گے۔ سابقہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی بائیو میٹرک سسٹم کے تحت حاضری جلد شروع کر دی جائےگی، گزشتہ چھ مہینوں میں 410 ملین روپے کالجز کی استدعاکار میں اضافے کے لیے مہیا کئے گئے، صوبہ بھر میں قابل اور مستحق طلباءکو 18 ملین روپے کی لاگت سے 2273 سکالرشپس جلد فراہم کردی جائیں گی، انڈر گریجویٹ طلباءکے لیے 4.5 ملین روپے کی لاگت سے 15 سکالرشپس فراہم کی گئی ہیں، دنیا کے ٹاپ 100 یونیورسٹیز میں پی ایچ ڈیز کے لیے اب تک 6 سکالرشپس فراہم کی جاچکی ہیں، پی ایچ ڈی اسکالر شپس کے لیے 169 ملین روپے یونیورسٹیز کو فراہم کر دی گئی ہیں، گزشتہ 6ماہ میں 2 نئے کالجر تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ 3 نئے کالجر کے قیام پر کام شروع کر لیا گیا ہے، خیبر پختونخوا کے 113 کالجز میں بی ایس کے تحت 54000 طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔آٹھ نئے کالجز کی تعمیر ، سات پبلک لائبریریز کی تعمیر و مرمت ، ڈائریکٹریٹ آف ہائیر ایجوکیشن کیلئے بلڈنگ کی تعمیر مکمل کی گئی ہے ۔ 1063.308 ملین روپے جو کہ 93 جنرل کالجز اور 16 کامرس کالجز کیلئے مختص کئے گئے ہیں جس کو ان کالجز میں مختلف مشینری کی خریداری اور ریسرچ پر خرچ کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگلے چھ ماہ میں مزید چھ نئے کالجز کو فنکشنل کیا جائے گا جبکہ آٹھ نئے کالجوں کی تعمیر مکمل کی جائے گی ۔ قبائلی اضلاع کے کالجز میں آن لائن ایڈ مشن سسٹم کی توسیع دی جائے گی ۔ اسی طرح اگلے سال تک چھ نئے کالجز کی تکمیل اور 15 کالجز میں مزید سہولیات مہیا کی جائیں گی جبکہ پروانشل ہائیر ایجوکیشن پالیسی بھی مکمل کی جائے گی ۔ اجلاس کو سالانہ اخراجات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے پانچ سالہ منصوبہ بندی اور اہداف بھی اجلاس کے سامنے پیش کئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی ۔

Scroll To Top