چلتے ہوتو چین کو چلئے(دوسری قسط)

” بی آر آئی ۔۔۔ فورم ٹو میں 39 ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی شرکت اور اس عظیم اقتصادی منصوبے کی عالمگیر پذیرائی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کرہ ارض پر ایک نیا شعور اور بیانیہ معرض وجود میں آچکا ہے جس کا مرکزو محور قوموں کے مابین ہر نوع کے تعصبات سے ماورا عوامی سطح پر با معنی شرکت، زرعی، صنعتی وتجارتی اشتراک عمل اور سلامتی و خوشحالی کے عظیم آدرشوںکو عملی جامہ پہنانا ہے ۔پاک چین دوستی کی مضبوط حقیقت اور عمران خان اور شی جن پھنگ کی قیادت اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ایک مضبوط‘ مربوط اور موثر ضمانت و علامت ہے۔

چوکسی، ہشیاری، مستعددی۔ وقت کی سب سے اہم ضرورت۔
اور عمران خان ہوں، حسن روحانی ہوں۔ خواہ شی جن پھنگ۔۔ پاکستان، ایران اور چین میں قیادتیں اپنی اپنی جگہ اپنے فرائض کے منصب اور اس کے تقاضوں سے مکمل طور پر جڑی ہوئیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ حالیہ ایام میں خطے میں اقتصادی و سماجی شعبوں میں ”گیم چینجر“ کے امکانات سے مالامال منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے ولاے اغیار کی ہر سازش کو ان قیادتوں نے کمال دور اندیشی ، تدبیر، حکت عملی اور بروقت اقدامات کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے ۔ یہاں تک بیجنگ میں بی آر آئی کے فورم میں2میں 39ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ مخصوص مفادات یافتہ مٹھی بھر سپر پاورز اور ان کے گماشتوں کے مقابلے میں عالمی سطح پر دانش مندی اور دو اندیشی سے جڑی غالب قیادتیں کرہ ارض پر تباہی کے بارود کی بجائے ترقی ، خوشحالی اور امن وسلامتی کے گلاب کھلانے کی خواہاں ہیں ۔
بی آر آئی کے فورم 2کی افتتاحی تقریب کے موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ اور وزیر اعظم عمران کے خطابات کو عالمی سامعین نے خوب سراہا۔ عمران خان نے دو ٹوک اسلوب میں بتایا کہ پاکستان اور چین صدیوں سے ہمسائیگی کے اٹل رشتے میں پیوست ہیں اور اسی قدیمی تعلق کی توسیع شدہ شکل کی رو سے ہم بی آر آئی کے تحت سی پیک جیسے منصوبوں پر تیزی سے کار بند ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین جدید دور کے تقاضوں کو بروئے عمل لاتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے اور ترجیحی طور پر دو طرفہ اقتصادی فروغ کے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ عمران خان نے 39ممالک سے آتے ہوئے سربراہان مملکت و حکومت کو پاکستان کے سیاحتی امکانات اور اس حوالے سے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ جسے کانفرنس کی بغلی ملاقاتوں میں بہت پذیرائی ملی۔
میں اس موقع پر عمران خان کی توجہ بعض اہم حقائق کی طرف بھی مبذول کرانا چاہوں گا۔
بیجنگ جو ڈیرہ ارب سے چند ہزار نفوس کم پر مشتمل ممالک کا دارالحکومت ہے اور وہ چین جس کی12.5کھرب کی معیشت 4کھرب ڈالر حجم والی تجارتی سرگرمیاں ہیں اور یہ چین دنیا بھر سے دو طرفہ تجارتی لین دین کے معاہدے بھی رکھتا ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ اس کی در آمدات کا پھیلاو¿2کھرب ڈالر سے ذرا کم ہے۔ جبکہ پاکستان سے اس کی درآمدات صرف اور صرف1.83ارب ڈالر پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان چین سے سوا اٹھارہ ارب ڈالر کا مال اسباب درآمد کرتا ہے۔ گویا درآمد و براامد کے شعبے میں پاکستان دس بارہ گنا گھاٹے میں ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادتوں کو اس بڑے فرق بابت ضرور تدبر کرنا چاہئے۔اگر پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے تو اس کا عکس ہماری دو طرفہ تجارتی میں بھی نظر آنا چاہئے۔ پاکستان کے مقابلے میں چین سری لنکا اور کمبوڈیا سے زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے جو ہمارے ہاں بھی وافر مقدار میں میسر ہیں اور معیار وقیمت کے اعتبار سے بھی دوسرے ممالک سے ارزاں ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے سال نومبر میں کئے گئے اپنے دورہ چین سے پہلے اپنی دو آرزوو¿ں کا اظہار کیا تھا۔ ایک یہ کہ وہ چین سے سیکھیں گے کہ اس ملک نے کن اقدامات کے ذریعے ڈیڑہ ارب آبادی کے ملک کو کس طرح شدید غریبی کے شکنجے سے نجات دلائی تا کہ اس تجربے کی روشنی میں پاکستان میں بھی عمران خان اپنے انسداد غرب پروجیکٹ کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ اور دوسری آرزو یہ تھی کہ چین نے اپنے ہاں وائٹ کالر کرائم کے باریک اور پیچیدہ نظام کو کس طرح شکست نصیب کیا۔
بلاشبہ عمران خان ہمیشہ سے ہی بڑے بڑے چیلنج قبول کرنے کی شہرت رکھنے والے انسان ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے چین کے اپنے پچھلے دورے سے ہی بہت کچھ سیکھ لینے کے بعد چند ہفتے پہلے پاکستان میں انسداد غربت پروجیکٹ متعارف کرایا تھا۔ مجھے یقین ہے عمران خان اپنے موجودہ دورہ چین میں بھی غریبی مٹانے کے سلسلے میں مزید علم حاصل کریں گے اور اس پر طرہ وائٹ کالر کرائم کی بیخ کنی کا سوال ہے ۔
وائٹ کالر کرائم پاکستان کے لئے شدید درد ِ سر بنا ہو اہے جہاں تک چینی امور کے ایک معمولی طالب علم کی حیثیت سے میر اتعلق ہے تو میں پورے تیقن سے کہہ سکتا ہوں کہ چین میں بیورو کریسی اور حکومت وقت دو قالب یک جان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چین میں عدل و انصاف سے مالا مال قانون کی سر بلندی محض لفاظی کی حد تک نہیں بلکہ برسر زمین اس کا عملی نفاذ بھی نظر آتا ہے۔ جس کا ایک مظہر کرپشن میں ملوث بیوروکریٹس، سیاستدانوں حتیٰ کہ وزرا تک کو کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے ماضی میں پاکستان کا ایک ریلوے وزیر چین کے دورے پر جب بیجنگ پنچا تو اسے اسی روز خبر ملی کہ اس کی آمد سے کچھ لمحے پہلے ہی ایک چینی ریلوے وزیر کو کرپشن کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ مجھے علم نہیں پاکستانی ریلوے وزیر کا ردِ عمل کس در بنے اور نوعیت کا ہوا ہوگا۔ البتہ میں یہ جانتا ہوں کہ چین نے پچھلے چار سال میں 415کرپٹ اور بدعنوان افرادکو پھانسی کی سزائیں دی ہیں کرپشن کے متعلق زیرو برداشت کے چینی بیانیے نے اس ملک کو ایک معین مفہوم میں کرپشن فری ملک کا مرتبہ دے دیا ہے۔
عمران خان بلاشبہ کرپشن کے خاتمے کے دعوے اور دعوے کے ساتھ برسراقتدار آئے ہیں مگر ان کے روبرو یہ حقیقت بھی یقینا ہوگی کہ سربراہ حکومت کی حیثیت سے انہیں 22کروڑ لوگوں کی معاشی اور معاشرتی، تجارتی ، صنعتی اور زرعی ضروریات اور مسائل کو بھی دیکھنا اور انہیں حل کرنا ہیں۔
اس حولے سے میں پاکستان کے زرعی تشخص کے حوالے سے عمران خان کو ایک بار یاد کرانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے چینی میزبانوں کے ذریعے پاکستان کے زرعی مسائل حل کرانے پر خصوسی توجہ دیں۔ بہترین موسموں، زرخیز زمین اور دنیا کے بہترین نہری نظام کے باوجود ہماری فی ایکڑ زرعی پیداوار ترقی یافتہ ممالک تو کھجا ہماسیہ بھارت سے بھی کم ہے۔ زیادہ دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں ہمارا نمبر پانچواں ہے مگر دودھ سے بنی ہوئی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ اسی طرح ہم بہترین گندم پیدا کرنے والے ممالک میں ساتویں پوزیشن پر ہیںمگر گندم، آتے سوجھی اور میدے سے تیار کردہ مٹھائیوں اور دیگر مصنوعات کی برآمدات میں ہماری کوئی حیثیت اور قطار شمار ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں دنیا میں بہترین چاول پیدا ہوتا ہے ۔ مگر ستم ظریفی دیکھئے ہمارے بعض بے ضمیر تاجر اپنی اونر شپ ترک کر کے زیادہ منافع کے لالچ میں اپنا چاول بھارتیوں کو فروخت کر دیتے ہیں جو اسے ”میڈ ان اندیا“ کے ٹھپے کے ساتھ زیادہ مہنگے داموں بیچ کر دولت بھی سمیٹتے ہیں اور اپنے ملک کا نام بھی بناتے ہیں۔
عمران خان صاحب کو دورہ چین کے موقع پر ان تمام امور پر توجہ دینہ ہوگی۔ ایک ہمہ جہتی حکمت عملی اور پاکستان اور چین اور دیگر ممالک کے مابین درآمد و برآمد کا بہترین نظام قائم کر کے ہی ہم پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ہدف حاصل کر پائیں گے ۔ (جاری ہے)

Scroll To Top