سری لنکا دھماکوں میں انتہائی مطلوب ملزم زہران ہاشم کے ہلاک ہونے کی تصدیق

داعش کی جانب سے جاری ویڈیو میں ہاشم زہران کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹو : اسکرین گریب

کولمبو: سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر 8 خود کش بم دھماکوں کے الزام میں انتہائی مطلوب دہشت گرد اور شدت پسند تنظیم کے سربراہ زہران ہاشم کے شنگریلا ہوٹل دھماکے میں ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر میتھری پالا نے ہنگامی پریس کانفرنس میں سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ زہران ہاشم کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے تصدیق ہوتی ہے کہ ہاشم شنگریلا ہوٹل دھماکے میں ہلاک ہوا جہاں اس کے ساتھ ایک اور دہشت گرد الحام بھی موجود تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شنگریلا ہوٹل دھماکے میں ہاشم کا کردار کیا تھا اور الحام نامی دہشت گرد کے موجود ہونے کے باوجود ہاشم وہاں کیا کر رہا تھا جب کہ شنگریلا میں ایک ہی خود کش دھماکا کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

زہران ہاشم مقامی شدت پسند تنظیم التوحید کے مرکزی رہنماؤں میں سے تھا تاہم داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ایک دن بعد ایک ویڈیو ریلیز کی گئی جس میں زہران ہاشم کو دیگر 6 نقاب پوش جنگجوؤں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں صرف زہران ہاشم نے اپنا چہرہ نہیں چھپایا ہوا تھا۔

زہران ہاشم پر بدھ مت کیخلاف اشتعال انگیزی پھیلانے اور بدھا کے مجسموں کو تباہ کرنے کے الزامات ہیں تاہم کچھ عرصے قبل ہاشم زہروان نے مقامی شدت پسند تنظیم التوحید سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں ایک چھوٹا سا گروہ تشکیل دیا تھا۔

Scroll To Top