5 سال تک کے بچوں کیلیے ٹی وی، ٹیبلٹ اور موبائل فون دیکھنے کی حد مقرر

ایک سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی طرح ٹی وی اور ٹیبلٹ نہ دیکھنے دیا جائے، اقوامِ متحدہ۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: پہلی مرتبہ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نومولود سے لے کر پانچ سال سے کم عمر تک کے بچوں کے لیے ٹی وی، ٹیبلٹ اور موبائل فون دیکھنے کی ایک حد مقرر کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر بچہ 5 سال سے کم ہے تو اسے ایک گھنٹے تک اسکرین دکھایا جاسکتا ہے جبکہ ایک سال سے کم عمر بچے کو سختی سے اسکرین سے دوررکھا جائےناکہ انہیں گھنٹوں کارٹونوں سے بہلایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے تحت عالمی ادارہ برائے صحت امریکی اکادمی برائے اطفال کی ہدایات کی روشنی میں یہ تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں اب ایک کانفرنس میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کےبچوں کی بصارت تشکیل پارہی ہوتی ہے اور اس لیے انہیں ایک منٹ کے لیے بھی ٹی وی یا اسکرین کو دیکھنے نہ دیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ اسکرین دکھایا جائے۔ بچے کو چپ کرانے کے لیے بار بار ٹیبلٹ یا فون دینے سے گریز کیا جائے۔

اسی طرح ایک سال سے کم عمر بچوں کو بھرپور نیند بھی ملنی چاہیے۔ ہاں اگر بچے کی عمر ایک سے دو سال ہوجائے تو اسکرین ٹائم ایک گھنٹے سے بھی کم رکھا جائے جبکہ اسے کم ازکم تین گھنٹے کی کوئی جسمانی سرگرمی یا کھیل میں مصروف رکھا جائے۔

لیکن امریکی ماہرین اس سے بھی سخت واقع ہوئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ 18 ماہ سے کم عمر کے بچوں کو ہرطرح کے اسکرین سے دور رکھا جائے۔

Scroll To Top