کاشف عباسی صاحب ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے غداروں کی پہچان منافقین کی اصطلاح کے ذریعے کرائی ہے !

گزشتہ شب کاشف عباسی نے اپنے پروگرام میں سیاست کے اندر جاری سخت زبان کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے دوران کہا کہ ” غدار کی اصطلاح پاکستان کے کسی بھی شہری کے بارے میں استعمال نہیں ہونی چاہئے۔۔۔“ 

میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔۔۔
کاشف عباسی ایک سنجیدہ یکساں سوچ رکھنے والے پڑھے لکھے اینکرپرسن اور تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے کبھی نظریہ ءپاکستان کی علمبرداری اور اسلام کے لئے جینے اوراسلام کے لئے مرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اُن کی ایسی آراءکا بھی احترام کرتا ہوں جو میری سوچ سے مکمل طور پر متصادم ہیں۔ ان کا ایمان جمہوریت پر ہے۔ یعنی جمہور کی حکمرانی پر۔چلتے چلتے میں یہاں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کیا وہ جمہور حکمرانی کے قابل نہیں ہوتے جوہارنے والے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔ اکثریت کی حکومت کا تصور آمریت سے زیادہ مختلف نہیں ۔ بعض ممالک میں اس پیراڈاکس کا حل متناسب نمائندگی کے ذریعے تلاش کیا گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر 1970ءکے انتخابات میں متناسب نمائندگی کا اصول اپنایا گیا ہوتا تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کو آمرانہ اکثریت حاصل نہ ہوتی۔ 23فیصد عوام نے شیخ مجیب الرحمان کی عصبیتی سیاست کو مسترد کیا تھا۔
یہاں میں اگر شیخ مجیب الرحمان کو غدار نہ کہوں تو حب الوطنی کی توہین ہوگی۔ اگر باریک بینی سے پرکھا جائے تو سقوطِ مشرقی پاکستان کی المناک کہانی کا ہر وہ کردار غداری کے الزام سے مبّرا نہیں قرار دیا جاسکتا جس کے رویوں نے پاکستان کے دولخت ہوجانے کی راہ ہموار کی۔ شیخ مجیب الرحمان کے علاوہ اس کہانی کے دوسرے دو بڑے کردار جنرل یحییٰ خان اور زیڈ اے بھٹو تھے۔
بھٹو کی پارٹی نے انتخابات میں مشرقی پاکستان سے ایک امیدوار تک کھڑا کرنے کی زحمت گوار ہ نہ کی جو کسی بھی محب وطن کے لئے ناقابلِ فہم بات ہے۔۔۔ جہاں تک جنرل یحییٰ خان کا تعلق ہے انہوں نے جو ایکشن 25مارچ 1971ءکو لیا وہ انہیں انتخابات سے پہلے لینا چاہئے تھا۔ عوامی لیگ کے ذریعے بھارت کو پاکستان کے قومی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینا غداری نہیں تو اور کیا تھا۔۔۔؟
آج کے پاکستان میں جو شخص بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر شیخ مجیب کی زبان بول رہا ہے اس نظریے کی نفی اور اس سے غداری کرنے کا مرتکب ہورہا ہے جو قیامِ پاکستان کی بنیاد تھا۔
کاشف عباسی کو قرآن کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے غداروں کی پہچان منافقین کی اصطلاح کے ذریعے کرائی ہے۔ ضروری نہیں کہ اسلام سے غداری ارتداد کے ذریعے ہی کی جائے ` منافقت کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے۔ مختلف عصبیتوں کو ہوا دے کر بھی ہوسکتی ہے۔
آج صبح میں قرآن سن رہا تھا تو اللہ کا ایک فرمان میرے ذہن میں اتر گیا ” کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں دل اندھے ہوجاتے ہیں۔۔۔
وہ لوگ جن کی آنکھیں بھی اندھی ہوں اور دل بھی اندھے ہوں انہیں کیا کہا جاناچاہئے۔۔۔؟

Scroll To Top