” جہالت سے پرہیز کرنے کے بڑے فائدے ہیں میرے عزیز سیاست دانو!“

زبان جب پھسلتی ہے تو لوگ مسکراتے ہیں ` اس طرح سے سنجیدہ نہیں ہوتے جس طرح حنا ربانی کھر ہوئیں یا بلاول بھٹو زرداری ہوئے۔ دونوں نے یک زباں ہو کر وزیراعظم عمران خان کو اول درجے کا نالائق قرار دے دیا۔۔۔

” دیکھو دیکھو یہ پاکستان کا وزیراعظم بنا بیٹھا ہے اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ جاپان ` جرمنی کی سرحد پر واقع نہیں !“ یہ کہہ کر حنا ربانی کھر نے مشورہ دے ڈالا کہ اگر ” سٹیٹ کرافٹ“ میں ہی جانا تھا تو عمران خان کچھ تربیت حاصل کرلیتے۔ وہ یہ بھی بتا دیتیں کہ انہوں نے یہ تربیت شوکت عزیز اور آصف زرداری دونوں سے لی تھی تو بہتر ہوتا۔ ۔۔
بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ میں صف ماتم بچھا دی۔ ” ہائے ہائے پاکستان کا بیڑہ غرق ہونے والا ہے۔ اس کے ” سلیکٹیڈ وزیراعظم “ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ جاپان جرمنی کی سرحد پر نہیں۔۔۔“
مجھے یقین ہے کہ جس روز روانی میں بولتے بولتے آصف زرداری نے بلاول کو بیٹی قرار دیا تھا اس روز بلاول زیادہ پریشان نہیں ہوئے ہوں گے۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ بیٹا کہیں یا بیٹی ` ایک ہی بات ہے۔ بہرحال عمران خان پر فردِ جرم عائد ہوگئی ہے۔۔۔
دوسرا جرم انہوں نے دورہ ایران کے دوران یہ کیا کہ کہہ گئے کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہوئی ہے۔
یہاں مجھے حکم الٰہی یاد آتا ہے ۔ ” مت جانماز کے قریب جب تم حالتِ نشہ میں ہو۔۔۔“
اگر آدھا جملہ پڑھا جائے تو حکم الٰہی نعوذ باللہ یہ ہوگا کہ ” مت جا نماز کے قریب “۔۔۔
پوری بات عمران خان نے یہ کہی کہ ” اگر پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہوئی تو ایران کی بھی ہوئی۔۔۔ ذمہ داری دونوں کی ہے کہ ایسا نہ ہو۔۔۔“
میرا خیال ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی وزیراعظم نے باتوں ہی باتوں میں حکومت ایران پر واضح کردیا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔۔۔
بہت سے لوگوں کو یہ بات شاید پسند نہیں آئی ہوگی۔
آخر میں ` میں بے نظیر بھٹو کے فرزند کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ جہالت سے پرہیز کریں۔ کوئی جاہل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ عمران خان کو جاپان اور جرمنی کا فاصلہ معلوم نہیں ۔ میرے خیال میں عمران خان کی جوانی دنیا گھومتے گزری۔۔۔
” جہالت سے پرہیز کرنے کے بڑے فائدے ہیں میرے عزیز سیاست دانو!“

Scroll To Top