جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہونیوالے لٹیرے سن لیں!:این آر او نہیں ملے گا،ہر جرم کا حساب دینا ہوگا، عمران خان

  • جب تک زندہ ہوں ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کرونگا ،حکومت گرانے کی باتیں کر نے والوں کا واحد مقصد این آراو ہے،بلاول بھٹو کی طرح پرچی پر نہیں آیا ، مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی اور ڈیزل کا پرمٹ دے دیں تو وہ ساتھ آن ملیں گے
  • وزیرستان کے لوگوں کو انصاف ملے گا ، جلد تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی،وانامیں ڈگری کالج اور اسپورٹس کمپلیکس بنائیں گے،مشاورت کے بعد قبائلی علاقے میں ضلعے کا اعلان کروں گا،وزیر اعظم کا وانا اور جنوبی وزیرستان میں خطاب

جنوبی وزیرستان /وانا (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک زندہ ہوں ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کرونگا ، حکومت گرانے کی باتیں کر نے والوں کا مقصد ہے عمران خان سے این آر لے لیں ، میرا سیاست میں آنے کا مقصد ہی ملک کا پیسہ چوری کر نےوالوں کو شکست دینا تھا ،ان لوگوں کو شکست دیے بغیر ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں، بلاول بھٹو کی طرح پرچی پر نہیں آیا ، پاکستانی مطمئن ہو جائیں ہم ان کا اکٹھا مقابلہ کرینگے ، مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی اور ڈیزل کا پرمٹ دے دیں تو وہ ساتھ آجائیں گے ،قبائلی عوام کےلئے وہ کروں گا جو کسی نے نہ پہلے کبھی کیا اور نہ کرسکتا ہے، وزیرستان کے لوگوں کو انصاف ملے گا ،تھوڑا صبر کرنا پڑےگا، فنڈز کے آنے کے ساتھ ہی یہاں تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی،وانامیں ڈگری کالج اور اسپورٹس کمپلیکس بنائیں گے، تعلیم پر پیسہ خرچ ہوگا، مشاورت کے بعد قبائلی علاقے میں ضلعے کا اعلان کروں گا،قبائلی علاقے پختونخوا میں ضم ہوجائیں گے، ہرسال ایک سو ارب روپے قبائلی علاقوں میں خرچ ہوگا، اتنا پیسا خرچ کیا جائے گا۔ بدھ کو وانا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ 10 برس میں ملک کو 2 جماعتوں نے قرضوں کی دلدل میں ڈبویا، یہاں سے پیسہ لوٹ کر باہر لے کر گئے، ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے پیسہ چوری کرکے منی لانڈرنگ کی۔انہوں نے کہا کہ چوری شدہ پیسوں کو بینک میں رکھوں تو پوچھا جاتا ہے، لہٰذا اس پیسے کو چھپانے کےلئے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے، اس سے ملک کو دوگنا نقصان ہوتا ہے، ان لوگوں نے ڈالروں سے رقم ملک سے باہر بھیجی، جس سے ڈالر کم ہوگیا اور روپے کی قدر گرگئی اور ملک میں مہنگائی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ 10 برس میں ان دونوں جماعتوں نے قوم پر 24 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھایا جبکہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں گیا، اس لیے یہ سب جو جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہوئے ہیں، کہتے ہیں حکومت گرادیں گے، حکومت صحیح کام نہیں کر رہی۔عمران خان نے کہا کہ ان سب کا ایک مقصد ہے کہ عمران خان پر زور لگا کر این آر او لے لیں تاکہ ان کی کرپشن اور چوری کو معاف کردیا جائے لیکن میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، شریف خاندان اور احتساب سے ڈرے سب لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میری زندگی مقابلوں میں گزری ہے، 21 سال کھیلوں کے گراو¿نڈ میں مقابلہ کیا، 22 سال سیاست کے میدانوں میں مقابلہ کیا، میں یہاں بہت بڑی جدوجہد سے پہنچا ہوں کیونکہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد ہی ان لوگوں کو شکست دینا تھا جو اقتدار میں آکر لوگوں کا پیسہ چوری کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان لوگوں کو شکست دیے بغیر ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں، میں ملک میں نہ فیکٹریاں بنانے آیا تھا نہ محلات، میں تو صرف ان کا احتساب کرنے آیا تھا اور جب تک میں زندہ ہوں ملک کو لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا نہ ہی کوئی این آر او دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان لوگوں کا پیسہ واپس لے کر نہیں آو¿ں گا میری جدوجہد جاری رہے گی، جب کوئی جدوجہد کرکے آتا تو اسے طاقت مل جاتی اس میں خوف نہیں ہوتا، میں بلاول بھٹو کی طرح پرچی پر نہیں آیا تھا کہ والدہ نے جائیداد میں جماعت دے دی ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی مطمئن ہوجائیں میں ان کا اکٹھا مقابلہ کروں گا اور سیاست کے 12مین مولانا فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی اور ڈیزل کا پرمٹ دے دیں تو وہ ساتھ آجائیں گے جبکہ باقی سب کا مسئلہ این آر او ہے۔انہوں نے کہا کہ 30 برس قبل میں پہلی مرتبہ وانا آیا اور یہاں آنے سے قبل مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں کیا فرق ہے، آج بھی بہت سے سیاست دانوں کو ایسا ہی لگتا ہے جبکہ اکثریت کو اب بھی دونوں میں موجود فرق کا علم ہی نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں قبائلی علاقوں کو پوری طرح سمجھتا ہوں، اس وزیرستان میں انگریزوں کے سب سے زیادہ فوجی مرے تھے اور 1947 تک اس علاقے کی آزادی کےلئے جہاد لڑی گئی اور انگریز فوجی مرتے گئے، ان علاقوں سے بڑے بڑے مجاہد نکلے جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں پر جب ظلم ہوا تو قبائلی علاقوں سے لوگ وہاں لڑنے اور جہاد کرنے گئے، 1965 میں بھی یہاں کے عوام لے لشکر پاکستانی فوج کے ساتھ لڑنے گئے جبکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد جب امریکی فوجیں افغانستان آئیں اور انہوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ فوج کو قبائلی علاقوں میں بھیجی جائیں، میں نے اس کی مخالفت کی لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہاں یقین دلانے آیا ہوں کہ پاکستان کا ایک ایسا وزیر اعظم آیا ہے جو آپ کے دکھ و درد کو سمجھتا ہے، جو نیا پاکستان ہے اسے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا ہے اور اسے ایک عظیم ملک و قوم بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست عدل و انصاف پر کھڑی ہوتی ہے، وزیرستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ تب کھڑے ہوں گے جب ان کے ساتھ انصاف ہوں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے ہوتے ہوئے میں آپ کو پورا انصاف دلاو¿ں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے سیکھ کر باقی جگہوں پر اصلاحات کررہے ہیں، جرگے کا نظام تھانے میں لے کر آرہے ہیں تاکہ جرگہ دونوں کو سن کر فوری اور مفت انصاف فراہم کرے یہ نظام کے پی میں بہت کامیاب رہا، ہم چاہیں گے قبائلیوں کے فیصلے ان کی روایت کے مطابق جلدی ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے میں کچھ لوگ نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے جارہے ہیں، ان کی سوچ یہ ہے کہ آپ کے دکھ درد کو کیش کرکے انتشار پھیلایا جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے، ان میں سارے نوجوان ٹھیک ہیں تاہم ان کے لیڈروں کو باہر سے پیسہ آرہا ہے، یہاں کرپشن بچانے والی جماعتیں ان کی مدد کررہی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں قبائلی علاقے میں انتشار نہیں امن چاہیے، اب اس علاقے کو اوپر لانے کا وقت ہے اگر یہاں آپس میں انتشار ہوگیا تو یہ علاقہ پیچھے رہ جائے گا، وعدہ کرتا ہوں ہم سب مل کر آپ کے مسئلے حل کریں گے، جو آپ سے وعدہ کروں گا وہ پورا کروں گا، غلط وعدہ نہیں کروں گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے ایک ہفتے کی مہلت دیں، سب سے مشاورت کرکے یہاں ضلعے کا اعلان کروں گا۔اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی عوام کےلئے وہ کروں گا جو کسی نے نہیں کیا، ملک چلانے کےلئے پیسے کم ہیں لیکن عوام کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ میں یہاں کی تاریخ جانتا ہوں، میں نے ان علاقوں میں امریکا کے کہنے پر فوج بھیجنے کی مخالفت کی کیونکہ اس علاقے کے عوام ہی ہماری فوج تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کےلئے جنہوں ںے قربانیاں دیں انہیں میں جانتا ہوں، میں یہاں کے لوگوں کے مسئلے سمجھتا ہوں، قبائلی علاقے جب مکمل ضم ہوجائیں گے تو یہاں کے مسائل کیا ہوں گے یہ مجھے معلوم ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی عوام کے لیے میں وہ کروں گا جو کسی نے نہ پہلے کبھی کیا اور نہ کرسکتا ہے، ہم نے ان علاقوں کےلئے ہر سال 100 ارب روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، 70 برس میں یہاں اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا جو ہر سال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہاں غربت اور بیروزگاری سب سے زیادہ اور تعلیم سب سے کم ہے، لوگ کمانے کے لیے یہاں سے باہر جاتے ہیں، کراچی میں سب سے زیادہ محسود قبائل کے لوگ موجود ہیں، نظریاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ قبائلی علاقوں کو پیچھے چھوڑا گیا اور ملک جب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک پورے ملک کو ساتھ نہ لے کر چلا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان بننا چاہیے تھا، اس ریاست کا سب سے بڑا اصول عدل و انصاف تھا، اللہ کا حکم ہے کہ میری زمین پر اںصاف قائم کرو اور مدینہ کی ریاست نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم پر بنائی تھی۔وزیر اعظم نے کہاکہ جس ریاست میں عدل و انصاف ہوتا ہے اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ قبائلی علاقوں کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ جب 100 ارب روپے یہاں خرچ ہوگا تو یہاں وہ تبدیلی آئے گی جو ضروری ہے، پاکستان میں 70 برس میں امیر، امیر اور غریب مزید غریب ہوگیا لیکن ہم نے اسے تبدیل کرنا ہے کیونکہ یہ میرا نظریہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہماری فوج نے قربانیاں دی ہیں جبکہ یہاں کے لوگوں نے نقل مکانی کی جو سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی، تاہم ہم نے ان تکالیف کو دور کرنا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ یہاں صحت انصاف کارڈ دیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کے عوام کے لیے صحت کیلئے کارڈ، ہسپتالوں میں سرجن، نوجوانوں کو روزگار کے لیے قرضہ دیں گے، یہاں ہونے والی تباہی کا ازالہ کریں گے، وزیرستان میں 100 کلو میٹر کی سڑکیں بنائیں گے، وانا میں 2 ڈگری کالج ہوںگے، ساتھ ہی اسپورٹس کمپلیکس اور گرڈ اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے جبکہ کچھ مقامات پر سورج سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی لگائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پانی کا بہت مسئلہ ہے،اس کےلئے بھی ہم کام کریں گے، تاہم ان سب چیزوں کے لیے مجھ پر ایک اعتماد رکھنا ہے تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا۔ملکی قرضوں پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اس ملک کو ڈاکوو¿ں نے لوٹا اور قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے کردیا، 10 برس میں پاکستان کا قرضہ 3 گناہ زیادہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا جمع ہونے والے کل ٹیکس میں سے ملک چلانے کے لیے پیسے کم ہیں لیکن عوام کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیرستان بڑا امیر علاقہ ہے، یہاں تانبے کے ذخیرے ہیں، یہ ملک بڑا امیر ہے اسے اٹھا لیں گے، پیسہ آرہا ہے لیکن تھوڑا صبر کرنا پڑے گا اور فنڈز کے آنے کے ساتھ ہی یہاں تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقے جو پیچھے رہ گئے ان کو آگے لائیں گے، ثابت کرکے دکھاو¿ں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئےگی۔انہوںنے کہاکہ ساڑھے چار ہزار ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، رمضان میں فنڈ آنے شروع ہوں گے تو تبدیلی نظر آئے گی، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ تعینات ہوگا، نوجوانوں کوقرضہ دیں گے، تباہ حال گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ دیں گے۔

Scroll To Top