پاکستان بڑی تیزی سے آٹھویں ری پبلک بننے کی طرف گامزن ہے ! 17-12-2014


چند روز قبل سنیٹر اسحٰق ڈا ر نے غیر مشروط مذاکرات کرنے پر آمادگی کا اعلان کیا تھا تو ملک کے بہت سارے رجائیت پسندوں کی یہ امید بندھنی شروع ہو گئی تھی کہ میاں نوازشریف نے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب وہ تصادم کا راستہ بند کرنے کے لئے خواجہ سعد رفیق ` پرویز رشید ` رانا ثناءاللہ ` زعیم قادری اور اس ” گھن گرج “ کے دیگر ” سپاہیانِ تقدیر “ کو میدان سے واپس بلالیں گے۔
مگر متذکرہ رجائیت پسندوں کی یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ میاں نوازشریف خود کو ایک ایسے دوراہے پر کھڑا پا رہے ہیں جہاں کو ئی بھی راستہ اُن کے اقتدار کو کسی محفوظ منزل کی طرف لے جاتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر مئی 2013ءکے انتخابات کا آڈٹ غیر جانبدارانہ جوڈیشل کمیشن کی نگرانی میں ہوا تو نتیجہ کیا سامنے آئے گا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر ” مطلوبہ “ آڈٹ میں بھی دھاندلی کا کوئی ” بندوبست “ کیا گیا تو اس کے نتائج جس قسم کے طوفان کو جنم دیں گے اس کا سامنا کرنا اُن کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ اور معلوم انہیں یہ بھی ہے کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے یا مذاکرات کے نتیجے میں ایسا جوڈیشل کمیشن قائم نہ ہوا جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سے الگ کرکے رکھ دے تو یہ سارا کھیل ہی ختم ہوسکتا ہے جو جمہوریت کے تحفظ اور تسلسل کے نام پر کھیلا جارہا ہے۔
دوسری طرف عمران خان بھی جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف اپنی سیاسی بقاءکی ضمانت ہی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایک طرف سچ کبھی سامنے نہ آپائے اور دوسری طرف تحریک انصاف بھی مایوس ہو کر ایسا کوئی فارمولا قبول کرلے جو ناکامی قرار نہ دیاجاسکے۔
انگریزی زبان میں اس صورتحال کو Catch 22کہتے ہیں۔ اُردو میں اس کا آسان ترجمہ ” مخمصہ“ ہے۔
جس عمران خان میں جانتا ہوں وہ ایسی ” نامکمل کامیابی “ پرکبھی رضا مند نہیں ہوں گے جو انہیں ” خوابِ تبدیلی “ کی تعبیر سے مزید دور کردے۔
اگر اس ساری صورتحال کو جذبات اور مفادات کی عینک اتار کر پرکھا جائے تو ہمارے کانوں کے ساتھ ایک ہی آواز ٹکراتی محسوس ہوگی۔ بھاری بوٹوں کی آواز !
اگر یہ آواز واقعی بلند ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ کہانی اپنے انجام کو پہنچ گئی جو میاں نوازشریف کے وزیر خزانہ پنجاب بننے کے ساتھ 1981ءمیں شروع ہوئی تھی۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے ` ان کی تو ابھی اننگز ہی شروع نہیں ہوئی۔
پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ آٹھویں ری پبلک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Scroll To Top