مریخ سے کوئی سیاستدان نہیں اترا

پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت کی نئی وفاقی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان پر اعتراض یہ ہے کہ ان کا ماضی بڑا داغدار ہے۔ ان کا جو ”داغ“ سامنے آتا ہے اور آیا ہے وہ یہ ہے کہ کبھی وہ پی پی پی کی لیڈر تھیں اور پی پی پی کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی وزیراطلاعات تھیں۔ اگر پی پی پی کو” داغ“ سمجھ لیا جائے تو محترمہ پر لگنے والا الزام درست ہے۔ یقینا وہ پی پی پی کی بھی وزیراطلاعات تھیں اور یقینا اُس حیثیت میں انہوں نے پی پی پی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا ہوگا۔ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس پارٹی کا کون سا لیڈر ایسا ہے جو مریخ `زہرہ یا کسی دوسرے سیارے سے اڑن لشتری کے ذریعے پاکستان کی سیاست کو جلاءبخشنے کے لئے اترا۔؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم ؒ بننے سے پہلے محمد علی جناح آل انڈیا نیشنل کانگریس کے صدر تھے اور اِس حیثیت میں وہ ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سیاسی افق پر بھٹو مرحوم کا ظہور تب کے صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزا کے ایک درباری اور ثنا خواں کی حیثیت سے ہوا۔ 30اپریل1958ءکو جو خط انہوں نے جنیوا سے سکندر مرزا کو لکھا وہ اس تلخ حقیقت کا ” زندہ“ گواہ ہے۔ ” جناب صدر آپ اسے خوشامد مت سمجھئے گا `میں دل کی گہرائیوں سے سمجھتا ہوں کہ آپ قائداعظم سے بڑے لیڈر ہیں۔۔۔“

اور جناب بھٹو کے ہی بارے میں تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ سکندر مرزا کی ڈوبتی کشتی سے اترے تو جنرل ایوب خان کے جہاز میں سوار ہوئے اور اُن کی آنکھ کا تارہ بن گئے۔ جب محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب لڑا تو ایوب خان کی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھٹو مرحوم تھے اور انہوں نے مادرِ ملت کے خلاف جو تقریر یں کیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔
ہم کسی بھی سیاستدان کو اس کے ماضی کی روشنی میں نہیں پرکھ سکتے۔ فتح مکہ سے پہلے بے شمار صحابہ کرام کا مقام قابلِ رشک نہیں تھا۔
اگر پانی بہنا چھوڑ دے تو گندہ تالاب بن جاتا ہے۔ اگر بہنا شروع کردے تو دریا۔
ہم میں کوئی بھی شخص خطاﺅں سے مبّرا نہیں۔ ہمارے بڑ ے بڑے مشاہیر نے بھی خطائیں کیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پی پی پی کی ٹیم ممبر کی حیثیت سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کیسی انگیز کھیلی۔ مگر وہ اُن کا بیتا ہوا ” کل “ تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ٹیم میں وہ کیسی اننگز کھیلتی ہیں۔
جہاں تک فواد چوہدری کا تعلق ہے وہ بہرحال زیادہ تجربہ کار تھے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے بھی ترجمان رہے۔ پھر پی پی پی کے بھی ۔اور پھر وہ پی ٹی آئی کے شعلہ بیاں وکیل بن گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قابلیت کی بنیاد پر وہ اس ذمہ داری کے مستحق تھے۔ لیکن وہ غالباً یہ سمجھتے تھے کہ وہ اس سے بھی بڑی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ بہرحال اب وہ اُس کرسی میں جابیٹھے ہیں جہاں کبھی ڈاکٹر عطاءالرحمان بیٹھتے تھے۔
اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس خلیج کو ختم کریں جو اُن کے پیشرو نے پی ٹی آئی حکومت اور میڈیا کے درمیان پیدا کی۔ ان کا کام حکومت کے مداحوں میں اضافہ کرنا ہوگا اس کے بدخواہوں میں نہیں۔۔۔

Scroll To Top