پاک ،ایران سرحدکی سکیورٹی : مشترکہ سریع الحرکت فورس کی تشکیل پراتفاق

  • دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، اپنی اپنی سرزمین ایک دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر بھی اتفا ق، مسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کےلئے ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھنے کا فیصلہ
  • مسئلہ کشمیر کا حل طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے ہی ممکن ہے،وزیراعظم عمران خان،کوئی تیسرا ملک دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، 10 گنا زیادہ بجلی پاکستان کوایکسپورٹ کرنے کیلئے تیار ہیں،ایرانی صدر حسن روحانی

تہران (صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے پاک ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم دہراتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری پاکستانی سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہم کسی دہشت گرد گروپ کو اپنی سرزمین پر آپریٹ کرنے کی اجازت نہیںدیں گے۔ موجودہ پاکستانی حکومت پاکستان میں پہلی دفعہ تمام دہشت گردوں گروپوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔ ہم یہ کسی بیرونی دباﺅ کے تحت نہیں کر رہے بلکہ تمام پاکستانی سیاسی قیادت نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ ہم پاکستانی سرزمین کو کسی کو بھی کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔یہ ہمارے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ افغانستان میں امن ہو، ہم دونوں ملک افغانستان کے سیاسی طریقہ سے مسئلہ کے حل کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم بڑھتا ہے تو اس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل فوج یا طاقت کا استعمال نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی حل ہے۔جبکہایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اہم معاملات سمیت خطے کو درپیش مسائل سمیت دو طرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی، کوئی تیسرا ملک پاکستان اور ایران کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھالی ہے ، گوادر، چار بہار کی بندر گاہ کے درمیان رابطے کا فروغ چاہتے ہیں، تجارتی حجم میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں۔پیر کو ملاقات کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جس طرح دورے کے دوران میری اور میرے وفد کی مہمان نوازی کی گئی ہے اور عزت سے نوازا گیا ہے میں اس پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ18ویں صدی میں ہندوستان میں نہ آتا تو ایرانی صدر کو مترجم کی ضرورت نہ پڑتی کیونکہ ہم سب فارسی بولتے تھے اور بھارت میں 600 سال تک عدالتی زبان فارسی تھی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پہلی دفعہ تہران آیا اس وقت میں طالبعلم تھا اور میں نے 1972 میں ایران میں امیروں اور غریبوںکے درمیان بہت زیادہ کلچرل فرق دیکھا تھا۔ تاہم گزشتہ روز سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ایران میںتفریق کافی حد تک ختم ہو چکی ہے اور اس کو سراہا جانا چاہیئے، کیونکہ یہ انقلاب کا نتیجہ ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ہم نیا پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہم پاکستان میں امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق کو کم کرنا چاہتے ہیں جیسا ایران نے کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے دورہ ایران کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ میں نے محسوس کیا کہ دہشت گردی کا مسئلہ ہمارے وونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لئے بہت ضروری تھا کہ میں یہاں آتا اور میں اپنے سیکیورٹی چیف کو ساتھ لایا ہوں تاکہ ہم اس مسئلہ کو حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جتنا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے شائد ہی دنیا کا کوئی اور ملک ہوا ہو۔ ان کا کہنا تھاکہ گزشتہ 12 سے 13سال کے دوران 70ہزارب سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج، انٹیلیجنس ایجنسیز اور سیکیورٹی اییجنسیز نے جس طرح پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹا اور اس پر قابو پایا اس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نیٹو افواج اور افغان سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود وہ دہشت گردی پر قابو نہیں پر سکے جس طرح ہم نے پاکستان میں قابو پایا۔ عمر عمران خان کا کہنا تھا کہ تین سے چار روز قبل دہشت گردوں نے ہمارے 14سیکیورٹی اہلکاروں کو بلوچستان میں شہید کر دیا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایران بھی ان دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں دہشت گردی کا شکار ہوا ہے جو پاکستان کے اندر سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ آج پاکستانی سیکورٹی چیف اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ بیٹھیں گے اور تعاون کے طریقوں پر بات کریں گے تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کر سکیں اور دونوں ملک اپنی سرزمین سے کسی دہشت گرد کاروائی کی اجازت نہیں دیں گے، اورہمیں توقع ہے اس سے ہمارے درمیان اعتمادسازی میںاضافہ ہو گا ، اور اس سے مستقبل کے تعلقات کو پروان چڑھانے میں مدد ملے گی جس میں ہمیں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہو گا کہ ہم اپنی سرزمین سے آپ کے ملک میں کوئی نقصان نہیں ہونے دیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ چار دہائیوں سے افغانستان میں جاری جنگ سے پاکستان اور ایران بھی متاثر ہوئے ہیں ،پاکستان نے ایک موقع پر 14لاکھر افغان مہاجرین کی میزبانی کی تاہم آج پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بھی 30 لاکھر افغان مہاجرین موجود ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر امن نہیں ہو سکتا، فلسطینی لوگوں کے ساتھ بے انتھا نا انصافی کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کا گولن ہائیٹس پر قبضے کا فیصلہ اور یروشلم کو دارلحکومت بنانا بین الاوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور فلسطینی لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے، اس سے مشرق وسطیٰ میں مزید مسائل پیدا ہوں گے اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح کرتی ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، تاہم بدقسمتی ہے کہ گزشتہ 30 سالوں کے دوران بھارتی افواج اپنی ظالمانہ طاقت کے ذریعہ کشمیری عوام کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا مطالبہ نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ 70ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں اور ہر روز بھارتی فورسز کی کاروائیوں کے نتیجہ میں کشمیری شہید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی مسئلہ کشمیر حل ہو گیا پورا برصغیر آگے بڑھے گا اور تجارت کے فوائد حاصل کرے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر ایران کو پاکستان کے راستہ بھارت اور چین تک رسائی حاصل ہو تی ہے تو پورا علاقہ ترقی کرے گا، اور اس کے لئے امن اور استحکام ضروری ہے جو کہ فوجی ذرائع نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں بھی انصاف ہی امن لائے گا نہ کہ طاقت۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لئے تمام امور پر بات چیت کی کہ کیسے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو ۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پرائمری ہیلتھ کئیر کے نظام سے کیسے پاکستان استفادہ کر سکتا ہے اس مقصد کے لئے میرے وفد کے ساتھ نئے مشیر صحت آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور دئگر شعبوں میں بھی ہم ایک دوسرے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ میرے ساتھ مشیر تجارت بھی آئے ہیں تاکہ دونوں ملک تجارت کو بڑھانے کے طریقو ں پر غور کر سکیں کیونکہ اس وقت دونوں ملکوں کے تجارت کا حجم بہت کم ہے۔اس موقع پر پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے اہم معاملات سمیت خطے کو درپیش مسائل سمیت دو طرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی، دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہیں ، دونوں ممالک میں سرحد پر سکیورٹی اقدامات بہتر کرنے پر بات چیت ہوئی، سرحدوں پر دہشتگردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، سرحدوں پر سیکیورٹی کیلئے مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ عمران خان نے دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے، مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کروں گا۔ایرانی صدر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سرحدوں پر سیکیورٹی کے لیے مشترکہ ریپڈ فورس کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے، ایران 10 گنا زیادہ بجلی پاکستان ایکسپورٹ کرنے پر تیار ہے۔حسن روحانی کا کہنا تھا کہ کوئی تیسرا ملک پاکستان اور ایران کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔حسن روحانی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھالی ہے، خطے کے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی، افغانستان کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی، گوادر، چار بہار کی بندر گاہ کے درمیان رابطے کا فروغ چاہتے ہیں، تجارتی حجم میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد صحت کے شعبے میں پاکستان اور ایران تعاون کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔

Scroll To Top