پی ٹی آئی کا سیاسی محاذ پنجاب ، قلعے میں تبدیل کریں گے، فردوس عاشق اعوان

  • میڈیا کیساتھ رابطوں کے فقدان کیوجہ سے کچھ مسائل پیدا ہوئے ،رابطوں کی بحالی کےلئے عملی کوششیں شروع کردی ہیں، وزیر اعظم نے عبوری ویج ایوارڈ کی منظوری دیدی ہے
  • حکومت کسی طرح کی محاذ آرائی نہیں چاہتی ،پارلیمانی پارٹی کے بھرپور اعتماد کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں افواہیں اور چہ مگوئیاں دم توڑ گئی ہیں، میڈیا سے گفتگو

لاہور( این این آئی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تمام اراکین کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر بھرپور اعتماد کے بعد تمام افواہیں اور چہ مگوئیاں دم توڑ گئی ہیں ، پی ٹی آئی کا سیاسی محاذ پنجاب ہے اور ہم نے اسے قلعے میں تبدیل کرنا ہے ، حکومت کسی طرح کی محاذ آرائی نہیں چاہتی اور ہم میڈیا کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیں گے ، رابطوں کے فقدان کی وجہ سے کچھ مسائل تھے لیکن میں نے دوبارہ روابط کی بحالی کےلئے عملی کوششیں شروع کردی ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے عبوری ویج ایوارڈ کی منظوری دیدی ہے اور عنقریب پورا پیکج منظور ہو جائے گا جس کی تفصیلات میڈیا سے شیئر کروں گی ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ٹیم کے اندر اب میڈیا کے حقوق کی جنگ لڑنے والا آ گیا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اب آپ لاوارث نہیں ہیں ۔ جو تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی اور تاثر دیا گیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میڈیا سے تصادم چاہتی ہے اور حکومت کی میڈیا مالکان اور اور کارکنان سے ہم آہنگی نہیں ایسا نہیں ہے ۔ میں آپ کو یقین دلانے آئی ہوں کہ عمران خان ، پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب ایک پیج پر ہیں کہ آپ ہماری طاقت ہیں اور ہم میڈیا کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیں گے ۔ پی ٹی آئی کو حکومت میں لانے میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے ۔ہم اس کی توثیق کرتے ہیں کہ جمہوریت کےلئے بھی میڈیا کا کلیدی کردار ہے اورہم میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون مانتے ہیں ۔ پارلیمنٹ ، پارلیمنٹری پریکٹسز ، حکومت اور گورننس میں ہر جگہ آپ وزیراعظم عمران خان کی آنکھ اور کان ہیں ،آپ بطور ٹیم ہماری جوغلطیاں ہو ں گی ان کی نشاندہی اور اصلاح کے لئے مثبت تجاویز دیں گے ۔مجھے وزیرا عظم عمران خان نے خصوصی طورپر واضح پیغام دے کر بھیجا ہے کہ جو آپس میں رابطوں کا فقدان بنا ہے اسے دور کیا جائے ۔ میں نے لاہور پریس کلب کے صدر سے ملاقات کی ہے اور دیگر جو صحافتی تنظیمیں ہیں ان سے روابط اور تار جوڑ کے چکر میں ہوں اور کوشش میں ہوں گی جو رابطے منقطع ہوئے ہیں انہیں دوبارہ بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو حالات ہیں اس کی وجہ سے حکومت کو احساس ہے کہ میڈیا کے اندر کام کرنے والے کارکنان بھی اس کا شکار ہوئے ہیں ، میڈیا انڈسٹری جو اس وقت مشکلات کا شکار ہے ہمیں آپ کا معاون بننا ہے اور چیلنجز سے باہر نکالنے کے لئے آپ کی سپورٹ بننا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے میٹنگ ہوئی ہے ،ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز میں ایک بریفنگ ہوئی ہے اور میں اس میں ادارے کے حوالے سے کچھ نشاندہی کر کے آئی ہوں ۔ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو مبارکباد دوں گی کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تمام اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور جو مخالفین کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی گڈ گورننس اور کارکردگی کے حوالے سے افواہیں اور چہ مگوئیاں تھیں وہ دم توڑ گئی ہیں ۔ پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔جو لوگ انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کے نعر ے لگاتے تھے وہ بھی اس ووٹ کو عزت دیں ۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اکیلے نہیں ہیں بلکہ پارلیمانی پارٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں اس سے آگاہ ہوں کہ آپ کو اطلاعات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے ،میںاس حقیقت سے آشنا ہوں جو رابطوں کا فقدان ہے اورمجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ رابطہ منقطع ہوا تھا ۔ وفاق اور پنجاب حکومت کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں یہ مسائل تھے لیکن اب ہم نے ترجیحات طے کی ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی ہے کہ اخبارات کے بلوں کی مد میں جو ادائیگیاں زیر التواءہیں انہیں جاری کیا جائے تاکہ مشکلات کا شکار میڈیا انڈسٹری بحران سے نکل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ میںآپ کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ وزیر اعظم نے عبوری ویج ایوارڈ جاری کیا ہے اور عنقریب پورا پیکج منظور ہوگا اور آپ سے تمام تفصیلات شیئر کروں گی ۔ اس حوالے سے مشاورت چل رہی ہے اور اس کےلئے مجھے کچھ وقت چاہیے ۔ اس وقت ملک میں معاشی مشکلات ہیں ،میڈیا انڈسٹری بھی اس کا شکار ہے ، حکومت اورمیڈیا پارٹنر ہیں اور اگر مشکلات اکٹھی ہیں تو ان سے باہر نکلنے کیلئے حکمت عملی بھی اکٹھے بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے لئے پنجاب سیاسی محاذ ہے اور ہم نے اس محاذ کو قلعے میں تبدیل کرنا ہے ۔ اراکین اسمبلی کے حلقے مورچے ہیں اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ان مورچوں سے عوام کو ریلیف ملنا چاہیے اور ان سے عوام کی مشکلات کم ہونی چاہئیں ۔

Scroll To Top