قومی اسمبلی اجلاس: بلاول بھٹو کے وزیر اعظم کےخلاف ریمارکس، حکومتی اراکین کا شدید احتجاج

  • وزیراعظم وزیروں کو نکال کر اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتے، دہشت گردوں اور کالعدم جماعتوں سے تعلق والے وزیروں کو کابینہ سے نکالنا پڑے گا،چیئرمین پی پی پی
  • اسپیکر نے مائیک عمر ایوب کو دیا تو پی پی پی اراکین نے انکی نشست کے سامنے جمع ہوکر نعرے بازی شروع کردی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کا ساتھ دینے والے وزیروں کو کابینہ سے نکالا جانا چاہئے ،یہ پاکستان کے مفاد میں ہے، قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں میری غیر موجودگی میں ایک حکومتی وزیر نے مجھے ملک دشمن قرار دیا‘ ہم پر یہ الزام نیا نہیں ،ملک کو ایٹمی قوت بنانے، متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان کے عوام کیلئے جان دینے والی بینظیر بھٹو کو بھی ملک دشمن قرار دیا گیا ،اگر کوئی سمجھتا ہے نیب زدگی،گالم گلوچ کے باعث ہم دب جائینگے تو یہ اس کی بھول ہے، ہم آمروں سے نہیں ڈرے یہ ہمارے لئے کیا ہیں؟ہم سچ بولتے رہیں گے، غریب دشمن پالیسیوں کو سامنے لاتے رہیں گے ،حکومت کو جواب دینا پڑے گا،وزیر خزانہ کو آٹھ ماہ وقت ضائع کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے، وزیروں کو نکال کر وزیراعظم اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتے۔ پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ذاتی وضاحت پر کہا کہ گزشتہ اجلاس میں میری غیر موجودگی میں ایک حکومتی وزیر نے میرے بارے میں کچھ باتیں کہیں میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے بھارتی جارحیت کےخلاف بات کی تھی ،اس مودی کے خلاف جو کشمیر میں قصائی بنا ہوا ہے جو اپنے الیکشن جیتنے کے لئے جنوبی ایشیا کے امن کو داﺅ پر لگانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ایئرفورس کے پائلٹس کی تعریف کر رہا تھا جنہوں نے بہادری سے بھارت کے جنگی جہاز مار گرائے۔ انہوں نے کہاکہ میں مودی کی دہشت گردی کے خلاف تقریر کر رہا تھا، میں حکومت سے یہ سوال کر رہا تھا کہ اس ملک میں کالعدم جماعتوں کو استثنیٰ ملتا ہے اور سیاستدانوں کےساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کیا جاتا کیا یہ باتیں غلط تھیں؟۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دہشت گردی کےخلاف سنجیدہ ہے تو ایسے وزراءکو نکالے جن کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں، ان کے اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات پاکستان کے مفاد کی تھی، میں نے معیشت اور مہنگائی پر بھی سوال اٹھایا تھا، وزیر خارجہ نے اسی وقت میری موجودگی میں میری تقریر کا جواب دیا اور میرے اعتراضات کو تسلیم کیا تاہم ایک اور وزیر نے میری غیر موجودگی میں مجھے ملک دشمن قرار دیا، میری زبان پر حملہ کیا گیا‘ یہ اس ایوان کی روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ رکن کی غیر موجودگی میں اس کےخلاف بات نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر ملک دشمنی کے الزامات نئے نہیں ہیں،محترمہ بینظیر بھٹو شہیدکو بھی ملک دشمن اور سیکیورٹی رسک قرار دیا گیاتھا، ملک کو جمہوریت، آئین دینے والے ذوالفقار بھٹو اور مادر ملت فاطمہ جناح کو بھی ملک دشمن قرار دیا گیاتھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دباﺅ‘ گالم گلوچ اور نیب زدگی کی وجہ سے ہم دب جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم آمروں سے نہیں ڈرے یہ ہمارے لئے کیا ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم سچ بولتے رہیں گے، غریب دشمن پالیسیوں کو سامنے لاتے رہیں گے اور حکومت کو جواب دینا پڑے گا، جمہوریت میں جواب دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے وزیر خزانہ کو کیوں نکالا گیا؟، کیا کالعدم تنظیموں کےساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی میری بات پر اسے نکالا گیا؟ ،ہم پاکستان کے مفاد میں بات کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کو آٹھ ماہ وقت ضائع کرنے پر معافی مانگنی چاہیے، ایک ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف سے ڈیل کےلئے ایک ہفتہ باقی تھا اور بجٹ کے لئے ایک ماہ پیچھے رہ گیا ہے، وزیر خزانہ کو کیوں ہٹایاگیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس کو اب وزیر خزانہ بنایا گیا ہے کہ وہ ماضی میں آصف علی زرداری کا وزیر خزانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم وزیروں کو نکال کر اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتے، دہشت گردوں اور کالعدم جماعتوں سے تعلق والے وزیروں کو کابینہ سے نکالنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے وزیر داخلہ کا نام بے نظیر قتل کیس میں شامل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین نے بلاول بھٹو کے بیان میں شامل بعض الفاظ پر سخت احتجاج کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ اس دوران سپیکر اسد قیصر نے مائیک وفاقی وزیر عمر ایوب کو بولنے کےلئے دیا تو پیپلز پارٹی کے اراکین نے عمر ایوب کی نشست کے سامنے جمع ہوکر نعرے بازی شروع کردی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے۔ دونوں طرف سے اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ سپیکر نے حالات کی نزاکت جانچتے ہوئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

Scroll To Top