کےا پدی کےا پدی کا شوربہ

  • اپوزےشن کے سارے گر گے، تےس مارخان اور مچھندر بالآخر اپنے ہی گناہوں اور معاشی جرائم کے بوجھ تلے دب کر سےاسی تباہی وبربادی کے دہانے تک پہنچ چکے ہےں۔ عمران خان کو لات مار کر گرانے کی بڑھکےں مارنے والا”بلاوجہ بھٹو“ اب اسی لات کا پٹھہ اتر جانے کے دکھ مےں مبتلا ہے ، جاتی عمرہ اور بلاول ہاﺅس کے مکےن اپنے وچولے ملا فضلو اسفند اور جوگےزئی سمےت اپنی بلوں مےں دبک جانے کی تےارےوں مےں جت گئے۔ اور جسے اناڑی کھلاڑی کے طعنے دےئے جاتے تھے وہ بر سر جدوجہد ہے ۔ ےہی قانون مکافات عمل ہے۔

بستر مرگ پر سکندر اعظم کا نوحہ
I am dying with the help of too many physicians.
”ترجمعہ: بہت سارے طبےبوں کی مدد سے مےں موت کو گلے لگا رہا ہوں“
مےں سکندر اعظم کو کسی پےمانے اور درجے پر بھی ہےرو نہےں مانتا۔ تاہم تارےخ مےں اس کے اےک مسلمہ مقام اور کردار سے بھی چشم پوشی ممکن نہےں۔ سکندر کا موازنہ مےں اپنی ملکی اپوزےشن سے بھی کرنے کے حق مےں نہےں۔ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تےلی۔ مےں نے سکندر اور پاکستان اپوزےشن کے مابےن البتہ اےک قدر مشترکہ ضرور دےکھی ہے اور اس کا تعلق اس روےے سے ہے جس کا مظاہرہ لگ بھگ اڑھائی ہزار برس پہلے ہو ا تھا ۔ ےعنی جس طرح بہت سارے طبےب حکےم اور معالج بظاہر سکندر کی زندگی بچانے کے لئے اپنے ماہرانہ کوششےں کر رہے مگر مرےض ےعنی سکندر اعظم خان جان چکا تھا کہ اس کے طبےب بڑی محنت اور مہارت سے اسے موت کے منہ مےں دھکےلے جارہے ہےں۔ بغےر اس طرح دونوں ہماری اپوزےشن کے تحصےل لےول کے بقراط اپنی مشاورت کے ذرےعے اپنی پارٹےوں کا ستےاناس کرنے پرتلے ہوئے ہےں۔ ملا فضلو کےا پدی کےاپدی کاشوربہ ، ملےن مارچ کی دھمکےاں دےنے اور دھماکے کرنے کا شوق فضول مےں محو ہے۔ ان پڑھ شخص نہےں جانتا کہ ملےن کا مطلب دس لاکھ ہوتا ہے۔ ملا جی دس مرتبہ بھی پےدا ہوجائےں تب بھی اس ہندسے کی گرد کو نہےں چھو سکتا۔ مگر اپنی ہٹی کا بھاﺅ بڑھانے کے لئے موصوف پر کوئی پابند ی نہےں ۔ بہت سال پہلے کی بات ہے بے نظےربھٹو ی حکومت کو بلےک مےل کرنے کی غرض سے موصوف نے اےک روز ےونہی سلطان راہی بن کر بڑھک لگا دی کہ طالبان تو مارگلہ کی پہاڑوں کی دوسری طرف پہنچ چکے ہےں۔ اور وہ عورت کی حکومت کی اےنٹ سے اےنٹ بجا کر رکھ دےں گے۔ اور پھر ملا جی نے اس بے چاری خاتون حکمران سے اےسا بھتہ وصول کےا کہ الطاف حسےن کا لےے کے کارندے بھی شرما کر رہ جائےں۔ کچھ اےسا ہی تماشہ نو داغنے اور جےالے پپلٹے لگائے بےٹھے ہےں ۔ شام سات بجے سے گےارہ بجے رات تک مےڈائی چےنلز پر ان دونوں گھرےلو پارٹےوں کے بقراط جو پھلجڑےاں اور شگوفے چھوڑتے ہےں انہےں دےکھ کر بےک وقت کسی ”مذاقےہ “ ، المےہ اور طربےہ منڈوے کا گمان ہوتا ہے ۔ جاتی عمرہ اور بلاول ہاﺅسوں کے مکےنوں کی حرام پائےوں ، ٹھگےوں اور نوسر بازےوں کے کھلے شواہد کے باوجود اےسی بے خبری ، اور ڈھٹائی سے اپنے اپنے آقائے ولی نعمت کے معاشی جرائم کا بے ڈھنگے پن سے دفاع کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہےں کہ اب تو اےک عام آدمی بھی اےسے مےڈےائی پروگراموں اور ٹاک شوز کو دےکھنے کی بجائے بچوں کے کارٹون چےنلز مےں سے کسی اےک کا انتخاب کرنے کو ترجےح دےنے لگے ہےں ۔ اندرخانے کی خبرےں ےہ ہےں کہ جاتی عمرہ والوں کی لوٹ کھسوٹ کا دفاع کرنے والی سوشل مےڈےا ٹےم نے مرےم اور اس کے والد پر واضح کر دےا ہے کہ اب ان مےں ان کے دفاع کی مزےد سکت نہےں کےونکہ جب وہ اپنا دفاع تماشہ لگا کر اپنے گلی محلے مےں واپس جاتے ہےں تو محلے کی عورتےں حتیٰ کہ خواجہ سرا تک ان کی بھد اڑاتے ہےں اوران پر بھی مال خوری کے الزمات لگنے شروع ہوچکے ہےں نواز شرےف مگران کارندوں کا مال پانی اور بھتہ بڑھانے مےں کوئی دلچسپی نہےں رکھتا۔ نتےجہ ےہ ہے کہ اب ان کے گھرﺅں پر کراےے کے پروانوں اور متوالوں کے وہ جھمگٹے دکھائی نہےں دےتے جو چند ہفتے پہلے روز کا معمول سمجھے جاتے تھے۔ جہاں تک زرداری ٹولے کا معاملہ ہے تو کل تک عمران خان کو اگلے چند روز مےں لات مار کر گرادےنے کی دھمکی دےنے والا ”بلاوجہ بلاول“ خود اپنی اےک ٹانگ کا پٹھہ کھچے جانے کے سبب سے مالشےوں کے چکر مےں پھنسا ہوا ہے۔ باپ زرداری بھی اپنے ہی بوجھ تلے دب کر اسلام آبادپر چڑھائی کے دعوے کو بھول جانے کے جتن کرتا دکھائی دےتا ہے۔ رہ گئے چار سدہ کے اسفندےار ولی ےا والے تو ان کے ستو پوری تک بک چکے ہےں۔ جےالوں اور متوالوں کے حلقوں سے دونوں اےسے غائب ہوئے ہےں جےسے گدھے کے سر سے سےنگ۔ سو عزےزو ، کوتاہ بےن اور عاقبت نا اندےش اپوزےشن لےڈر شپ نے عمران خان کا آئندہ چند رو ز مےں تختہ کر کے گھر بھجوادےنے کی جو گےڈر بھبکےاں دےنا شروع کی تھےں وہ سب کی سب ٹےں ٹےں فش ہو کر ٹھس ہوچکی ہےں۔ اب سب ڈرے ہوئے جواری کی طرح کپڑے جھاڑتے ہوئے جمہورےت کے تسلسل کے راگ الاپنے گئے ہےں ۔ مگر کےسی جمہورےت عام لوگ ان کے سارے کرتوتوں کی حقےقت جان چکا چکے ہےں۔ اندر سے ساری اپوزےشن جماعتےں بری طرح ٹوٹ چکی ہےں، ان کے کارکن دو ہزار کے وعدے کے بعد دو سوروپے کی دہاڑی پر شدےد اور تک دل برداشتہ ہو کر گھروں مےں دبک کر بےٹھ گئے ہےں۔ اور ےوں سارے ہی اپوزےشن لےڈر آنے والے چند دنوں مےں ادھر بکھر کر گوشے گمنا ی مےں پہنچ جائےں گے۔ قےام ، بقا اور تسلسل فقط ہے حق اور سچ کو حاصل ہے۔ بہت سارے نالائق طبےب اپوزےشن کو تو موت کے منہ مےں دھکےل چکے ۔ پر وہ پاکستان اور عوام کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔

Scroll To Top