اقرا سے فرار تباہی کا آغا

  • ’شعور و آگہی، فہم و فراست، تحقیق و تفتیش و تحریک، اور علم و عرفان کے فیضان سے مٹھی بھر مسلمانوں نے دیکھتے ہی دیکھتے اکناف عالم میں اسلام کی حاکمیت کے علم گاڑھ دیئے۔ پر جو نہی تحریک اسلامی پر مخصوص مفادات یافتہ طبقات کا غلبہ قائم ہوا مسلمان گاہے بتدریج اور گاہے یک بیک تباہی و بربادی کی اتھاہ گہرائیوں میں ذلیل و خوار ہوتے چلے گئے۔ اور آج عالم یہ ہے کہ کرہ ارض پر پچپن سے زیادہ ممالک ہونے کے باوجود مسلمانوں کی آواز بے اثر، بے توقیر اور بے نتیجہ بن کر رہ گئی ہے۔ مگر نہیں اس اندھیری سرنگ کے اس پار صبح کا سویرا اور اُجالا بھی موجود ہے۔

اقرا۔۔ اولین فرمانِ الہٰی
اقرا۔۔ نور کا ایسا استعاراہ ایسا دھارا جس سے پھوٹتا ہے ایسا فوارہ جس کی ایک ایک لڑی سے جنم لینے والی رَل ترل سے بکھرنے والے موتیوں کا عنوان بنتا ہے؟
”شعور و آگہی، علم و عرفان اور تحقیق و تحریک!
یہی وہ بے مثل جوہر اور گوہر تھا، یہی وہ ہتھیار اور آلہ کار تھا جس کے بل بوتے پر قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے ریگزار عرب سے نکل کر اکناف علم میں اسلام کا علم بلند کر دیا تھا اور پھر اک عالم نے اللہ رحیم و کرایم کی عطا کردہ آسمانی و ارضی نعمتوں سے مسلمانوں کے توسط سے استنباط کیا اور فیض رسانی سے لطف یاب ہوا۔
یہ رفتار کار مگر چند صدیوں تک تقش بہار دکھا کر خزاں نصیب ٹھہری کہ قانون مکافات عمل کے تحت جس قوم نے بھی الہٰی فرمان سے منہ موڑا اسی پر احتساب کا چلا کوڑا۔
اور اب عالم یہ ہے کہ کرہ ارض پر پستی کی دلدل میں پھنسی سب کے بدترامت مسلمانوں کی جانیئے۔ اس وقت پچپن ممالک مسلم اکثریتی آبادی سے آراستہ ہیں۔ مگر کوئی ملک اس اہل نہیں کہ تحقیق و تفتیش اور سائنسی تجربات و انکشافات کے باب میں اپنے ماضی کی اعلیٰ روایات کا امین ہو۔ ہاں یہ دوسری حقیقت ہے کہ ارضی معدنیات کے فیضان سے مسلمانوں کے بیشتر ممالک آج دنا کے متمول ترین معاشرے تسلیم کئے جاتے ہیں مگر کیا کیجئے ان میں سے کئی ایک کپڑا سینے کی سوئی تک دوسرے ممالک سے درآمد کرنے کے محتاج ہیں۔ دور کیوں جائیے حج اور عمرہ کے اسلامی شعائر سے رشتہ ناطہ جوڑ نے والے مسلمان واپسی پر مکے مدینے سے جو تحائف و تبرکات لاتے ہیں ان میں سے بیشتر غیر مسلم بلکہ کمیونسٹ معاشروں کے ساختہ ہوتے ہیں ۔
خود ہم پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ ہمارے ہاں22کروڑ آبادی میں لگ بھگ اڑھائی کروڑ کم سن بچے ایسے ہیں جنہوں نے کبھی سکول اور کتاب کا منہ تک نہیں دیکھا ہوتا۔گذشتہ ستر برسوں میں ملک میں اقتدار سے فیضان پانے والی متعدد حکومتوںنے تعلیم کے نام پر کروڑوں نہیں اربوں بلکہ کھربوں روپے مختص کئے مگر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کا غالب حصہ تعلیم کے نام پر مقتدر طبقہ بدمعاشیہ کے گرگوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور ان کے گماشتوں کے ذریعے ضائع کیا جاتا رہا۔ یہ ساری خطیر رقوم انہی مقتدر حلقوں کی بندر بانٹ کی نذر ہوتی رہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں آج بھی اگر کوئی موثر احتسابی ادارہ پچھلے سات عشروں میں صرف تعلیم کے لئے مختص کئے اور تقسیم کئے گئے اربوں کھربوں کے فنڈز کا آڈت کرنے پر آمادہ ہو جائے تو اسے تعلیم کے نام پر بنائی جانے والی عمارتوں اور حویلیوں میں سکول تو نہیں جاگیر داروں اور وڈیروں کے مال مویشی اور پالتوں جانور بندھے ملیں گے۔ سارے پاکستان اور بطور خاص سندھ کا عالم یہ ہے کہ ساٹھ سے ستر فیصد تعلیمی فندز معتدد سیاسی گرگوں کی تجوریوں اور اوجڑیوں کی بھینٹ چڑھ گیا اور ان بے نامی یا گھوسٹ تعلیم اداروں کا سارا مال اسباب وڈیروں اور جاگیرداروں کے گماشتوں اور دلالوں کے گھروں میں پہنچا دیا جاتا رہا۔ ستم بالائے ستم اور ڈھٹائی و سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ گھوسٹ سکولوں کے نام پر مالیاتی نوسر بازی اور ٹھگی کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ گھوسٹ سکولوں کے گھوسٹ اساتذہ، انتظامی عملے اور یوٹیلیٹی بلوں کے اخراجات آج بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوتے ہیں جبکہ حقیقت میں زمین پر ایسے کسی سکول، اس کی عمارت یا عملے کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
میں نے ایک بار سندھ کے ایک زندہ شعور شہری سے جب اس صورت حال بابت بات چیت کی تو اس نے استہزائیہ لیجے میں کیا ”کیا کریں سائیں جب کل تک سکھر کے محکمہ بجلی کا میٹرریڈر آج ارب پتی بنا بیٹھا ہو یہی نہیں صوبے کی مقتدر پارٹی کا بھی بڑا گرگا سمجھا جاتا ہو تو پھر بتائیے ملک میں تعلیم کا بیڑہ غرق نہ ہوگا اور سوسائٹی میں ہر طرف کرپشن، ٹھگی اور نوسر بازی کا چلن نہ ہو گیا تو اور کیا ہوگا۔
آج کی صحبت میں میں نے فقط اقرا سے فرار کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی تباہی اور پاکستانی تناظر میں ہونے والے عالمی و تحقیقی زوال بابت مختصر مختصر اشارے دیئے ہیں۔ اب اگر ہم اسی صورت حال کو سوسائٹی اور ملک کے دیگر شعبوں پر بھی منطبق کریں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ مفاد پرست طبقوں نے ملک کو تباہی و بربادی کی کتنی گہری دلدل میں دھنسا رکھا ہے۔
مگر گھبرانے ، ڈرنے اور دینے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ قوموں پر بسا اوقات آزمائشی کی ایسی گھڑیاں آتی ہیں، اور جس طرح ہر گھپ اندھیری رات کے بعد صبح کا سویرا اور اجالا طلوع ہوتا ہے۔بالکل اسی طرح ان شاءاللہ پاکستان میں بھی ترقی ، خوشحالی اور استحکام کی صبح ضرور طلوع ہو کر رہے گی۔ قوم کو اپنے عظیم رہنما عمران خان پر بھرپور اعتماد ہے کہ وہ اپنی دیانت، امانت اور صلاحیت کی قوت سے ملک کو نئے پاکستان، خوشحال اور مضبوط پاکستان کے قالب میں ڈھال کر رہیں گے۔۔۔

Scroll To Top