یہ فخر کی بات بھی ہے اور دکھ کی کہانی بھی 12-12-2014


ملالہ یوسفزئی کو نوبل امن پرائز ملا ہے۔ یقینا خوشی کی بات ہے ہمیں اس معصوم بچی کو مبارکباد بھی دینی چاہئے اور اسے پاکستان کی ایک قابلِ فخر بیٹی بھی قرار دینا چاہئے۔
لیکن میری حقیررائے میں اس سارے قصے کا مرکزی کردار ملالہ یوسفزئی کا والد ہے جس کی اعلیٰ منصوبہ بندی اور صحیح لوگوں کے ساتھ مضبوط روابط نے کامیابی اور شہرت کی اس داستان کوجنم دیا۔
کوئی بھی شخص یہ نہیں کہتا کہ ملالہ یوسفزئی کے ا پنے روابط ایسے لوگوں کے ساتھ تھے جو سوات کی اس بیٹی کو ایسے مقاصد کی تکمیل کے لئے شہرت کی بلندیوں پر لے گئے جن کے مشتبہ ہونے کے بارے میں کم ازکم مجھے کوئی شبہ نہیں ۔ اگرچہ ملالہ یوسفزئی کا قصہ بہت مختلف ہے مگراس سے پہلے مغرب نے مختاراں مائی کو بھی شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔ ان دونوں داستانوں کے پیچھے سے ایک ہی بھرپور تاثر ابھارا گیا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تعلیم کے دشمن درندے اور حیوانیت کے قابل ِنفرت پجاری بستے ہیں۔
ملالہ یوسفزئی اور مختاراں مائی کی پروجیکشن اس انداز میں ہوئی کہ لگتا ہے کہ دونوں نے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ حالانکہ دونوں کردار دراصل ظلم کا نشانہ بنے۔ Victimsتھے۔ ان کی کہانیوں کو اٹھانے اور دنیا بھر کے میڈیا تک پہنچانے کا کام اُن این جی اوز نے انجام دیا جن کے کرتا دھرتا پاکستان کے امیج کا ”کالا حصہ “ پوری طرح ابھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔
دنیا بھر میں ایسی بچیوں کی تعداد کتنی ہوگی جو دہشت گردی کے خلاف ” مغربی اتحاد“ کی وحشیانہ جنگ میں یا تو بموں میزائلوں اورگولیوں کا نشانہ بنیں یا جن کے گھرانوں کے گھرانے صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔؟
ہمیں اس بات پر فخر ضرور کرنا چاہئے کہ نوبل پرائز دینے والوں نے ملالہ اور اوبامہ کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ مگر سوچنا ہمیں یہ بھی چاہئے کہ وہ کارہائے نمایاں کہاں ہیں جو انہیں امر بنانے کا باعث بنے ہیں۔

Scroll To Top